عمران خاں کی پارٹی ’پاکستان تحریک انصاف ‘کو لے کر چرچا تھی کہ وہ جیتے گی اور عمران خان وزیر اعظم بنیں گے۔ اصل میں پاکستان کا الیکشن اتنا معنی نہیں رکھتا، جتنا ہندوستان کا الیکشن معنی رکھتا ہے۔ پاکستان میں بھلے کوئی اکثریت سے چن بھی لیا جائے تو فوج کا دخل رہتا ہی ہے اور بغیر فوج کے پاکستان کوئی اہم فیصلہ نہیں لے سکتا۔ وہاں کی جو سویلین سرکار ہے ، وہ اہم فیصلہ نہیں لے سکتی، خاص طور پر جہاں ہندوستان سے رشتے کا سوال ہو یا کشمیر کا ایشو ہو۔
اگر تھوڑی سی بھی کسی نے ہمت دکھانے کی کوشش کی تو وہ نواز شریف نے۔ نواز شریف بہت متاثر تھے ہندوستان کی جمہوریت سے۔ان کو لگا کہ پاکستان میں بھی ایسا ہو سکتاہے۔ انہوں نے تھوڑی ہمت دکھائی تو انہیں مقدمے میں پھنسا دیا گیا۔ سب سے مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جس کیس میں ان کوجیل کی سزا سنائی گئی ہے، وہ فیصلہ آپ پڑھیں گے تو ہنس پڑیں گے۔ اس میں لکھا ہے کہ ان کے خلاف بدعنوانی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ لیکن وہاں کوئی قانون ہے، جس کے مطابق پبلک فیگر کو ایک اسٹینڈرڈسیٹ کرنا چاہئے۔ اس اسٹینڈرڈ پر نواز شریف ٹھیک نہیں اترے، اس لئے سزا ہو گئی۔ ہندوستان میں تو ایسا ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ پاکستان میں ایک چیف جسٹس تھے افتخار چودھری۔ انہوں نے کچھ دم دکھایا تھا تو ان کو بھی تنگ کیا فوج نے۔ وہاں کورٹ کا فیصلہ ہو یا نہ ہو، جو فوج چاہتی ہے ،وہی ہوتا ہے۔
اب رزلٹ آگیا ہے۔ عمران خاں وزیر اعظم بنیں گے۔ وزیر اعظم بن بھی گئے تو فوج کی کٹھ پتلی ہوں گے۔ ٹھیک ہے وہ ایک بڑے کرکٹر تھے، لیکن سیاست الگ چیز ہے۔ بہت سنجیدگی سے لینے کی چیز ہے۔ ان کے تو بیان بھی ہلکے ہوتے ہیں۔ پہلے وہ کہتے تھے کہ ہندوستان سے رشتہ ٹھیک ہونا چاہئے۔ آج کل وہ پلٹ گئے ہیں کیونکہ فوج کے دبائو میں ہیں۔ ان کی سابقہ اہلیہ ریہم خاں ان کے خلاف جو بیان دیتی ہیں، اسے سن کر ڈر لگتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ عمران کو کبھی وزیر اعظم نہیں بننا چاہئے۔ یہ رات کو نیو کلیئر بٹن دبا دیں گے اور صبح بولیں گے کہ میں نے دبایا ہی نہیں۔ کل ملا کر یہ کہ لوگ کچھ بھی سمجھیں، پاکستان کا الیکشن میرے لئے نان ایوینٹ ہے ۔ مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں ہے ۔یا تو حالت ایسی ہی رہے گی یا اس سے بدتر بھی ہو سکتی ہے۔
امید کی کرن تو پرویز مشرف تھے۔آگرہ آئے تھے۔وہ اس موڈ میں تھے کہ کچھ نہ کچھ اگریمنٹ کر لیں،جس سے کشمیر مسئلے کے حل کی طرف بڑھا جاسکے۔ اٹل جی، جسونت سنگھ جی، یشونت سنہا اس سرگرمی میں شامل تھے۔ سمجھوتہ تیار کر لیا گیا تھا۔ آر ایس ایس نے اڈوانی جی کو بول کر اس میں دقتیں پیدا کر دی۔ سمجھوتہ نہیں ہوا۔ ملک ایسے نہیں چلتے۔ آپ ایک چھوٹے پوائنٹ کے لئے ملکوں کا نقصان نہیں کرسکتے لیکن کر دیا۔ تاریخ تو تاریخ ہے۔
 
 
 
 
اب اپنی صورت حال پر آئیے ۔ انتخابات تو ہونے جارہے ہیں، لیکن پتہ نہیں یہ کب ہوںگے؟ ایک چرچا ہے کہ مئی 2019 میں، ایک اور چرچا ہے کہ راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے ساتھ کروا لیں ۔کیونکہ ان تینوں جگہ اگر بی جے پی ہار گئی تو مئی 2019 میں ماحول اور خراب ہو جائے گا۔ اس لئے لوگ صلاح دے رہے ہیں کہ وزیراعظم کو ان ریاستوں کے ساتھ ہی اسی سال نومبر،دسمبر میں لوک سبھا کے انتخابات کروا لینا چاہئے۔
بی جے پی ایک بنیادی بات سمجھ لے۔ اڈوانی جی نے ہی بی جے پی کو2 سیٹ سے 150-200 سیٹ تک پہنچایا تھا۔ کیوں اور کیسے؟اس لئے کہ وہ سمجھ گئے تھے کہ اب کچھ ہوگا نہیں۔ وی پی سنگھ ابھر گئے اور رام مندر ایک سلگتا ہوا ایشو بنا ۔انہوں نے گجرات سے لے کر ایودھیا تک رتھ یاترا کی اور واپس جوش جاگا۔ لیکن میں نہیں سمجھتا ہوں کہ ہندو لوگ مذہب کے نام سے اکسائے جاسکتے ہیں۔ خاص وجہ یہ تھی کہ اڈوانی جی نے کہا کہ ہم ایک متبادل سیاست کی جگہ بھرنے آئے ہیں۔ وہ کیا تھا؟ایک یہ کہ ہم اصول سے سیاست کریںگے۔ ریاست ہو یا مرکز، اگر عوام نے اکثریت نہیں دی تو ہم اپوزیشن میں بیٹھیںگے، غلط کام نہیں کریںگے۔ د وسرا کم سے کم پیسے کا استعمال کریں گے۔ پیسہ تو چاہئے کمپین کرنے اور پوسٹر کے لئے لیکن شراب بانٹنے کے لئے ، رشوت دینے کے لئے ہم پیسے کا استعمال نہیں کریں گے۔یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ تیسرا زبان پر ہم کنٹرول رکھیںگے۔ کوئی نازبیا زبان، گالی گلوچ کی بی جے پی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ چوتھا ہائوس میں ہونے والے ڈیبیٹ میں ہمارا ترجمان حقائق کے ساتھ پوائنٹ بائی پوائنٹ جواب دے گا۔اڈوانی جی کی ان باتوں سے لوگ متاثر ہو گئے تھے۔ لوگوں نے سوچا کہ وہ نئی بات کر رہے ہیں۔
اب ستم ظریفی دیکھئے ، ستمبر 2013 میں بی جے پی نے کہا کہ ہمارے نئے لیڈر نریندر مودی ہوں گے اور وہ مئی 2014 میں منتخب بھی ہوگئے۔جو انہوں نے 8 مہینے کام کیا، لوگ اسی امید میں تھے کہ ہم متبادل سیاست دیکھنے جارہے ہیں۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس، نئی نوکریاں، نئی صنعتیں، کسانوں کی آمدنی دوگنی کر دیںگے، غیرملکی بینکوں سے ہندوستانیوں کا پیسہ واپس لائیںگے وغیرہ۔
اقتدار میں آنے کے بعد کیا کیا؟پارٹی نے سوچا کہ اقتدار میں آہی گئے ہیں، تو سب کام کرنا ضروری ہے کیا؟ہم کو بھی وہی کرنا ہے ، جو کانگریس کرتی آئی ہے۔ جیسے جہاں اکثریت نہیں ملی،وہاں راتوں رات ایم ایل اے خرید کر سرکار بنا لی اور گورنر ان کے ہیں ہی، منی پور، میگھالیہ میں یہی کام کیا۔لیکن پہلا اصول ان کا ختم ہو گیا۔ پارٹی وِد ڈیفرنس ختم ۔ دوسرا پیسہ ،مئی 2014 کے بعد جس تعداد میں پیسہ خرچ کرنا شروع کیا ہے ان لوگوں نے، کانگریس کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔یہ تو پیسہ ویسے خرچ کرتے ہیں جیسے ملک کا سرمایہ دار خرچ کرتا ہے۔ تیسری بات ہے نازیبا زبان کی۔ اس کا تو سوال ہی نہیں ہے۔ امیت شاہ کی زبان دیکھئے ، کیسی ہے۔ کبھی بولتے ہیں مہاتما گاندھی چالاک بنیا تھے، کبھی بولتے ہیں کہ یہ جملہ ہے۔ زبان کا تو انہوں نے کنٹرول رکھا ہی نہیں۔ ان کے رکن پارلیمنٹ، وزیر جو بولتے ہیں،وہ تو کمال کی زبان ہے۔ چوتھی بات بحث کی، دیکھئے کیسی بحث کرتے ہیں۔ اپوزیشن نے نو کنفیڈنس موشن پیش کیا۔ یہ سب سے اچھا موقع تھا۔
 
 
 
 
 
اگر مودی جی جمہوری وزیر اعظم ہوتے تو تین دن کا ڈیبیٹ رکھتے اور اپنی پارٹی کو بولتے کہ اپوزیشن کے ہر آدمی کا جواب دو۔ ہم نے چار سال میں جو کام کیا ہے، وہ بتائو لیکن انہیں بھروسہ ہی نہیں ہے۔ جس اعتماد سے مئی 2014 میں مودی جی اقتدار میں آئے تھے، وہ اعتماد ،وہ بھروسہ ختم ہو گیاہے۔ اس کی سب سے بڑی نشانی کیا ہے؟راہل گاندھی اپنی تقریر کے بعد مودی جی کی طرف آئے۔ اپوزیشن میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی ہے، جس کے صدر ہیں راہل گاندھی۔ وہ آئے تو مودی جی کو سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا ہوا؟ ہکے بکے رہ گئے وہ۔ کیوں؟کیونکہ وہ راہل گاندھی کو یا کانگریس کو اپنااپوزیشن نہیں مانتے ہیں،دشمن مانتے ہیں۔جب وہ اڈوانی جی سے صحیح سلوک نہیں کرتے ہیں،تو راہل گاندھی کو کیا سمجھیں گے؟ کوئی بااعتماد وزیر اعظم ہوتے تو کھڑے ہوکر گلے ملتے راہل گاندھی سے اور کہتے کہ آپ نے بہت اچھی تقریر کی۔ایسا بولنے سے آپ الیکشن نہیں ہار جائیںگے۔ یہ دکھائے گا کہ آپ مہذب آدمی ہیں ۔
آج اٹل بہاری باجپئی ہوتے تو کھڑے ہوکر گلے ملتے ، بولتے بہت اچھا کیا۔ جمہوریت تو ایسے ہی چلتی ہے۔ جواہر لعل نہرو ، اٹل بہاری باجپئی سے کہتے تھے کہ بہت اچھی تقریر آپ نے کی۔لیکن مودی جی کو جمہوریت سمجھ میں ہی نہیں آتی۔ ملک چلانا ان کے بس کی بات ہی نہیں۔ راہل گاندھی کو بھی ہائوس میں جاکر گلے ملنے کی ضرورت نہیں تھی۔یہ سینٹرل ہال کا کام ہے لیکن وزیر اعظم کا رویہ بھی ٹھیک نہیں رہا۔اگر اس دن کسی کا نمبر بڑھا ہے تو راہل گاندھی کا بڑھا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here