سنگھ کے نظریہ میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آئی ہے

Share Article

اس لیے وہ اس سماج کو ساتھ لینے کی بات کرتے ہیں۔ ڈاکٹر امبیڈکر بھی لاتے ہیں اور گاندھی جی نے بھی ہندسوراج میںجو لکھا ہے اور 1947آتے آتے وہ اس میں سدھار نہیں بلکہ ’جاتی توڑک‘ (ذات و برادری کو ختم کرنے والے) کے رول میںآجاتے ہیں۔ تو گاندھی کی مسلسل ترقی ہورہی ہے۔ وہ کبھی بھی گاندھی کو ہضم نہیںکرپائیںگے۔ پور ا آئین سنگ بنیا د ہے، جسے نہرو نے بنایا اور ڈرافٹ کمیٹی نے تیار کیا۔ گاندھی اس کی روح ہیں۔ اس لیے جمہوری حقوق سے لے کر ڈائریکٹو پرنسپلز تک یہ سب باتیںہیں ۔ اس میںگاندھی کا جدید خیال دکھائی دیتا ہے جو نہرو کے توسط سے سامنے آتا ہے۔
اس لیے گاندھی اورنہرو کے بیچ کوئی تضاد تلاش کرنابے معنی ہے۔ دونوںکو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ بھی داؤں لگاتے ہیں اور کبھی گاندھی کو تو کبھی نہرو کو گاندھی کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دراصل یہ نہرو کے توسط سے گاندھی کو ہرانا چاہتے ہیں۔ آر ایس ایس کے لوگ کبھی کبھی چانکیہ کی پالیسی کی بات کرتے ہیں لیکن چانکیہ کی پالیسی میںبھی ایک سماجی اخلاقہے۔یہ سماجی اخلاقیات سنگھ میںنہیںہے۔ کیونکہ سنگھ میںآپ دیکھئے گا کہ کس طرح سے خود میںسنگھ کے بنیادی ذرائع کے مفکر ساورکر اپنی رہائی کے معاملے میں کیا کیا کرتے ہیں؟ خود دیورس نے ایمرجنسی کے دوران کیا کیا کیا؟
یہاںتک کہ سنگھ میںایک دھارا رہی ہے، جس میںنانا جی دیش مکھ ، جنھوں نے لوہیا وغیرہ سے لے کر گاندھی کو قبول کیا اور کہا کہ ان لوگوںکو لیے بغیر ہم ہندوستان میںنہیںبڑھ سکتے ہیں۔ کمیونسٹ کے تناظر میں نہ حکمت عملی کے تناظر میں ، انھوںنے کوئی تبدیلی کی ہے اور نہ ہی چانکیہ کی پالیسی کے تناظرمیں ایسا کچھ ہوا ہے۔ دراصل یہ حالات کے حساب سے وقتاً فوقتاً اپنے بنیادی نقطہ نظر کو آگے بڑھانے کے لیے ایڈجسٹمنٹ کرتے رہتے ہیں۔ یہ ان سب سوالوں پر کام کرتے ہیں۔ آج کی تاریخ میں اگر ہم تمام حصے کو دیکھیںتو موہن بھاگوت جو کہہ رہے ہیں، اس سے کچھ موٹی باتیںنکلتی ہیں۔
ایک موٹی بات یہ نکلتی ہے کہ انھوںنے سماجی دباؤمیں ابھی جو کمزور پوائنٹ ہے، اس کے لحاظ سے آئین میںجو سیکولرزم اور سماجواد ہے، اس کو قبول کیا ہے اور ابھی جو پارلیمانی نظام ہے،صدارتی نظام کی جگہ اسے بنائے رکھنے کے حق میں ہیں۔ اس تناظر میں یہ بات ضرور دیکھنی ہوگی۔ یہ جو پرانی بات کو نئے ڈھنگ سے کہہ رہے ہیں، اس نے ان لوگوںکے لیے مشکل کھڑی کردی ہے جو ’ہندو ہندو‘ کھیل میںلگے ہوئے ہیں۔ جیسے کانگریس کا پورا یہ کھیل تھا کہ یہ کٹر پنتھی ہندو اور میں لبرل ، سناتنی ہندو ہوں۔

 

 

 

 

آر ایس ایس نے ان کے اس اسپیس کو کم کیا ہے اور کم سے کم تصور کی سطح پر یہ بحث چلا دی ہے کہ یہ بھی سناتنی ہندوؤں کی نمائندگی کرنے والے لوگ ہیں۔ اس نے ان کے لیے بھی اور جو لوگ سماجیات کو اقتصادی پالیسی سے الگ تھلگ کرکے ان کو حقیقی دھرم کے نمائندے نہیںمانتے،ان کے لیے بھی سخت چیلنج کھڑا کردیا ہے۔ انھوں نے اپنے کینواس کو بڑا کیا ہے ، جس میںمذہب میںاپنے کو سناتنی کہتے ہیںا اور سیاست جو ہندوتو کا نظریہ ہے، اس کو پبلک ورلڈ برادار ہڈ سے جوڑتے ہیں یا پھر اس کی کوشش کر تے ہیں۔
لبرل ازم کی بھی اپنی حدیں ہیں ۔ جو لوگ لبرل ازم اور نیو لبرل ازم کے ذریعہ ان سے لڑنا چاہتے ہیں، ان کے سامنے ضرور بحران ہے۔ اور کانگریس کو اس کا اصولی جواب دینا ہوگاجو ابھی تک نہیںآیا ہے۔ میںسمجھتا ہوں کہ ان کا پورا پروجیکٹ پوری طرح سے ایک ٹوٹلی ٹیرئن آئیڈیالوجیکل عمل ہے جو تسلط پسند اور بنیادی طور پر جمہوریت کے مخالف ہے جس میں یہ ماڈرن، سٹیزن شپ کنسیپٹ کے مخالف ہیں۔ شہریت کے مخالف ہیں۔ سماج کے سیکورلرائزیشن کے خلاف ہیں۔ بنیادی طور پر یہ غیر جمہوری نظریہ ہے اور اس کا جواب واضح جمہوری نظام سے ہی دیا جاسکتا ہے۔ جمہوریت کی تشریح صرف سماجی تناظر میںہی نہیں بلکہ اس کی اقتصادی تشریح بھی کی جانی چاہیے۔
ہندوستان میںایک قومی اقتصادی پالیسی کی بھی ضرورت ہے اور سودیشی کے معاملے میںبھی یہ پوری طرح سے ناکام ہوئے ہیں۔ پیچھے ہٹے ہیں۔ جو پردہ لگا رکھا تھا، اسے ہٹالیا ہے۔ اس لیے ہندوستان بھر میںسیاسی،اقتصادی اور ثقافتی ایک متبادل خیال ہے، وہ اس ملک میںلبرل اکانومی کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ نیشنل اکانومی کے نظام کوبناتا ہے جس میںچھوٹے چھوٹے کل کارخانے اور ملک میںسرمایہ بنانا جو قومی تحریک میںہدف لیا گیا،ان سب کو پورا کرنے کا سوال ہے۔ سیکولرائزیشن،شہریت اور سرمایہ بنانے میں رکاوٹ پیدا کرنے والے جو پرانے باقیات بچے ہیں، ان کو ہٹانے کے لیے اور ایک نئی ریاست کے ذریعہ عالمی سطح کی طاقتوں سے یونائٹ ہونے کے ذریعہ مالی سرمایہ کے استحصال کے شکار خاص طور سے ہندوستان کے پڑوسی ملکوں کے ساتھ یونائٹ ہونے کی ضرورت ہے۔

 

 

 

 

 

بنیادی طور پر بڑے سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت ہے، جسے سنگھ نے جو چیلنج پیش کیا ہے، اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ پرانا جو فارمولیشن ہے، وہ ان کے خیالی عمل سے لڑنے کی بجائے ان کے کچھ فزیکل فارمیشن تک محدود رہ جاتا ہے۔ یہ تھوتھے سطح پر ان کی مخالفت کرتا ہے۔ وہ لوگ ان سے نظریاتی سطح پر ابھی نہیں لڑ پائیںگے جیسے کچھ لوگ ابھی تک کہتے تھے کہ رجسٹریشن نہیںکرایا ہے،وہ اپنا رجسٹریشن کرالیں گے۔ وہ یہ بھی کہہ رہے ہیںکہ گروپ آف انڈیویزوئل کے طور پر ان کا رجسٹریشن ہے۔ یہ بھی کہہ رہے ہیںکہ ان کا آڈٹ ہوتا ہے۔ اب آپ کہاںکھڑے ہوں گے؟
کچھ تکنیکی سوال کی جگہ سماجی انصاف کی طاقتوںکو بھی سنگھ نے جو چیلنج پیش کیا ہے، اس کے بارے میں سوچنا ہوگا۔اور جو دلت بہوجن نظریہ ہے ،وہ علامتی تناظر میں اس کی مخالفت کرتا ہے۔ اس کے سامنے بھی معیشت سے لے کر سماجی نظام میںایک شہری کے وجود کی قبولیت اور اس کا سیکولرائزیشن ایک بڑا سوال ہے اور اسے اس کو حل کرنا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *