خدا رام پر فلم بنا کر بحث میں آئے اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی ایک بار پھر موضوع بحث ہیں۔ لیکن اس بار غلط وجوہات سے، وسیم رضوی پر اپنی بیوی کو یرغمال بنانے کا الزام لگا ہے۔ شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین پر یہ سنگین الزام میرا حق فاؤنڈیشن ادارے کی خاتون کارکن نے لگایا ہے۔ عورت کا دعوی ہے کہ شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین نے اپنی بیوی کو زبردستی گھر میں یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے. خاتون کارکن کا نام فرحت نقوی ہے.
 
فرحت نقوی پیر کو ظلم و ستم کی اطلاع ملنے پر وسیم رضوی کی بیوی سے ملنے ان کے سعادت گنج واقع یتیم کھانے پہنچی تھیں۔ لیکن ان کے بہت سے كوشس کے بعد بھی کسی نے دروازہ نہیں کھولا. اس دوران ملاقات کے لئے انہوں نے دروازہ پیٹا اور ضد پر اڑ گئی، لیکن کافی دیر تک کوشش کرنے کے باوجود کسی نے دروازہ نہیں کھولا اور ان کی ملاقات نہیں ہی سکی. جس کے بعد انہیں وہاں سے بھگا دیا گیا۔ خاتون نے الزام لگایا کہ وقف بورڈ کے چیئرمین کے حامیوں نے ان کے ساتھ بے حیائی اور دھکا مکی کی اور انہیں وہاں سے بھگا دیا۔
 
فرحت نقوی نے دعوی کیا ہے کہ، ان کی تنظیم اور خود ان کی ذاتی نمبر پر اس بارے میں کئی شکایات ملی تھی، جس کے بعد وہ وسیم رضوی کہ بیوی رہائی کے لیے آئیں تھیں. فرحت نے کہا کہ ‘مجھے فون پر کئی دنوں سے اطلاع مل رہی تھی کہ رضوی اپنی بیوی کو کئی دنوں سے جبراً یرغمال بنا کر رکھ رہے ہیں۔ یہیں نہیں وہ ان کے ساتھ مار پیٹ بھی کرتے ہیں اور نہ ہی کسی سے ملنے دیتے ہیں. ایک سماجی کارکن ہونے کی وجہ سے میرا فرض بنتا ہے کہ میں اس عورت سے ملوں. ہم اب اس کو کو موردالزام نہیں کر رہے. پر عورت کا عورت سے ملنا کوئی جرم نہیں ہے۔ مجھے ان سے مل کر صرف اتنا جاننا تھا کہ آخر سچائی کیا ہے تو میں وہاں گئی پر انہوں نے میرے پیچھے کافی لوگ لگا دیئے۔ اس دوران رضوی سے میری فون پر بات ہوئی او انہوں نے مجھے دھمکی دی کہ وہ مجھے جیل بھجوا دیں گے۔ ‘
 
وہیں وسیم رضوی نے عورت کے ان الزامات کی تردید کی ہے. انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں مولانا کلب جواد کے خلاف ایک خاتون نے جنسی تشدد کے الزام لگائے ہیں. میں نے متاثرہ خاتون کی حمایت کی تو انہوں نے بدلے کے جذبے سے میرے خلاف خواتین کارکنوں کو بھیج دیا۔ میں اس کی شکایت وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے کروں گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here