روہت شیکھر کے قتل کے الزام میں بیوی اپوروا شکلا گرفتار، گناہ قبولا

Share Article

 

روہت کی بیوی اپوروا مسلسل اس صورت میں بیان بدل رہی تھی. اس سے سارا شک اسی کے ارد گرد آکر ٹھہر جاتا تھا. وارادت والی رات کو لے کر اپوروا نے اب تک تین مختلف بیان دئے. جس کی وجہ سے پولیس کا شک پختہ ہونے لگا تھا.

 

Image result for rohit shekhar case

کانگریس کے سینئر لیڈر اور چار بار یوپی اور اتراکھنڈ کے وزیر اعلی رہے نارائن دت تیواری کے بیٹے روہت شیکھر تیواری کے قتل کا معاملہ پولیس نے سلجھا لیا ہے. اس قتل کے معاملے میں آخر کار کرائم برانچ نے روہت کی بیوی اپوروا شکلا کو گرفتار کر لیا. یہ گرفتاری اپوروا کے خلاف ٹھوس ثبوت ملنے کے بعد کی گئی ہے.بتاتے چلیں کہ اس معاملے میں شروع سے ہی شک کی سوئی روہت کی بیوی کی طرف گھوم رہی تھی.

 

Image result for rohit shekhar case

بار بار بیان بدلتی رہی اپوروا
پولیس ذرائع کے مطابق روہت کی بیوی اپوروا مسلسل اس صورت میں بیان بدل رہی تھی. اس سے سارا شک اسی کے ارد گرد آکر ٹھہر جاتا تھا. وارادت والی رات کو لے کر اپوروا نے اب تک تین مختلف بیان دئے. جس کی وجہ سے پولیس کا شک پختہ ہونے لگا تھا. پولیس واردات کے بعد سے روہت کی بیوی سمیت گھر کے 6 افراد سے پوچھ گچھ کر رہی تھی.

 

 

قتل کی رات بھی ہوا تھا جھگڑا
دہلی کرائم برانچ کی تفتیش میں آخر اپوروا نے سچ اگل ہی دیا. اپوروا کے مسلسل تبدیل بیانات سے پولیس کو اس پر مکمل شک گہرا گیا تھا. روہت شیکھر کی موت کے بعد جس طرح کے واقعات سامنے آئے اس سے اپوروا کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی. اس سے صاف ہو گیا کہ قتل والی رات اپوروا اور روہت کے درمیان جھگڑا ہوا تھا.

 

Image result for rohit shekhar case

 

اپوروا نے روہت کو خاتون دوست کے ساتھ دیکھا
جھگڑے کی وجہ یہ تھا کہ اس رات روہت اپنی ایک خاتون دوست کے ساتھ شراب پی رہا تھا اور اپوروا نے اسے دیکھ لیا تھا. ادھر، اپوروا کی اپنے مایکے والوں کے لئے الگ سے مکان بنانے کو لے کر بھی روہت سے ان بن چل رہی تھی. بتاتے ہیں کہ اپوروا اور روہت کے درمیان اس معاملے کو لے کر قتل والی رات جدوجہد ہوئی تھی اور اسی دوران روہت کا گلا دباکر اسے مار دیا گیا.

 

Image result for rohit shekhar case

 

قتل کے بعد اپوروا نے اپنا فون فارمیٹ کیا
پولیس نے اپوروا کا بلڈ کے نمونے اور جائے وقوعہ پر پائے گئے خون کے نمونے بھی لئے تھے. جسے ٹیسٹ کے لئے بھیجا گیا ہے. اپوروا نے ثبوت مٹانے کے لئے اپنا موبائل تک فارمیٹ کر دیا تھا اور جس کمرے میں روہت کا قتل ہوا وہاں کے سی سی ٹی وی کیمرے خراب ہونا بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ قتل میں کوئی باہریشخص نہیں، گھر کا ہی کوئی شخص شامل تھا.
اپوروا کے بیانات کے مطابق اس کے اور روہت کے درمیان دھکا دھکی کے دوران دونوں ہی ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش کر رہے تھے. جس اپوروا کامیاب ہو گئی.

 

Image result for rohit shekhar case

 

پولیس نے ایسے کی تفتیش
غور طلب ہے کہ معاملے کی تحقیقات کر رہی دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے مطابق اب تک کی تفتیش یہی اشارہ کر رہی تھی کہ قاتل گھر کا ہی ہے. تاہم پولیس اب تک کئی قسطوں میں گھنٹوں روہت کی بیوی اپوروا، روہت کے بھائی سدھارتھ اور گھر کے نوکر اور ڈرائیور سے پوچھ گچھ کر چکی تھی. مگر قاتل کا نام اجاگر کرنے سے پہلے وہ قتل کی ساری لنکس شامل لینا چاہتی تھی.
واردات کے دن گھر کے اندر کل چھ لوگ تھے. کوئی باہر سے کوئی اندر آیا. نہ گھر سے کوئی باہر گیا. پھر بھی چھ میں سے ایک کا قتل ہو جاتا ہے. گھر کے اندر اور باہر کل سات سی سی ٹی وی کیمرے. ایک کیمرے گھر کے اندر اور باہر کی ساری تصاویر دکھا رہا ہے. مگر سات میں سے دو کیمرے خراب ہیں. اور یہ وہ دو کیمرے تھے جو روہت شیکھر کے بیڈروم کے دروازے تک جھانکتے تھے. لیکن حیرت انگیز دیکھئے کہ وہی دو کیمرے خراب ملے جو یہ بتا سکتے تھے کہ واردات والی رات روہت کے بیڈروم میں کون گیا اور کون نہیں؟

 

موت سے کچھ گھنٹے پہلے روہت کی بیوی اپوروا نے روہت کی ماں سے کہا کہ روہت سو رہا ہے. جبکہ اسی وقت روہت کمرے سے باہر آتا ہے اور ماں کے ساتھ کھانا کھاتا ہے. پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق روہت کی موت 15-16 اپریل کی رات ایک سے ڈیڑھ بجے کے درمیان ہوئی؟ اگر روہت کی موت دو بجے سے پہلے ہو چکی تھی تو پھر 16 اپریل کی رات دو سے 4 بجے کے درمیان روہت کے موبائل سے فون کرنے کی کوشش کس نے کی؟ کیونکہ کال ڈٹیل کے مطابق روہت کے موبائل سے کال کرنے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم کال لگی نہیں.

 

روہت رات تقریبا ایک بجے اپنے سونے کے کمرے میں چلا گیا تھا. مگر اس کے بعد بھی اگلے دن چار بجے تک نہیں اٹھا. یعنی 24 گھنٹے سے زیادہ وہ سوتا رہا اور گھر کے کسی شخص کو یہ عجیب تک نہیں لگا؟ ایسا کیوں؟ بس یہی وہ باتیں ہیں، جس نے معاملے کی تحقیقات کر رہی دہلی پولیس کی کرائم برانچ کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ روہت شیکھر تیواری کا قاتل گھر سے باہر نہیں بلکہ گھر کے ہی اندر ہے، پر سوال ہے کہ کون؟
تو شک کی بلند ترین مقام پر فی الحال کوئی اور نہیں بلکہ روہت شیکھر کی اپنی بیوی اپوروا ہی تھی. وہی اپوروا ہے جس کی شادی سال بھر پہلے ہی روہت سے ہوئی اور جو پیشے سے وکیل ہے. اور یہ وہی اپوروا ہے جو بقول پولیس روہت کے کمرے میں اس رات جانے والی آخری شخص تھا.

 

 

شک کے دائرے میں دوسرے نمبر پر روہت کا بھائی سدھارتھ تھا. سدھارتھ اس لئے کیونکہ پولیس کو لگ رہا تھا کہ کروڑوں کی جائیداد کو لے کر بھائی بھائی کو راستے سے ہٹا سکتا ہے. گھر میں اس رات ڈرائیور سمیت چار نوکر بھی تھے. اب چونکہ باہر سے کوئی گھر کے اندر نہیں آیا تو ان چاروں کا کردار بھی شک سے باہر نہیں تھی. براہ راست نہیں تو قتل میں ان کی مدد کے کردار سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا تھا.

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *