پانی کے لئے پورا گاؤں سڑک پر، خالی برتن لے کر لگایا جام

Share Article

 

مٹی کے گھڑے پھوڑکر خواتین نے کی نعرے بازی

 

ضلع میں پانی کی قلت کو لے کر گائوں والے ہفتہ کے روز روڈ جام کر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ مقامی لوگوں نے خالی برتن لے کر جل نگم کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ گائوں والوں نے مٹی کے گھڑے پھوڑکر احتجاج کیا۔ کئی گھنٹے تک چلی گائوں والوں کے تحریک کو لے کر ایس ڈی ایم اور سی او جگل نگم کے ایگزیکیوٹیو انجینئر کو ساتھ لے کر موقع پر پہنچ گئے اور گاؤں والوں کو سمجھا کر جام کھلوایا۔

 

مودہا تحصیل علاقے کو سائر سب سے بڑی آبادی والا گاؤں ہے۔ یہاں جل نگم نے سالوں پہلے پینے کے پانی کی منصوبہ بندی تیار کی تھی۔ اس پینے کے پانی کی منصوبہ بندی کے ٹیوب ویلوں خراب ہو جانے سے پورے گاؤں میں پانی کے لئے بڑا بحران کھڑا ہو گیا ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے پینے کا پانی نہ ملنے سے ہفتہ کے روز پورے گاؤں کے لوگوں کا غصہ بھڑک گیا۔ گائوں والوں نے خالی برتن لے کر گاؤں کے باہر سڑک پر جام لگا دیا۔ خواتین نے مٹی کے خالی گھڑے پھوڑکر جل نگم کے خلاف نعرے بازی کی۔

 

مقامی لوگوں کے غم و غصہ کو دیکھتے ہوئے بوار تھانہ انچارج آرکے ورما فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ اس کے ساتھ ہی مودہا کے ایس ڈی ایم راجیش کمار چورسیا،سی او اور جل نگم کے ایگزیکیوٹیو انجینئر کملیش انجینئروں کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ گائوں والوں نے حکام کی موجودگی میں جم کر نعرے بازی بھی کی۔ ایس ڈی ایم نے گاؤں والوں کو فوری طور پر پانی فراہم کرائے جانے کی یقین دہانی دے کر کسی طرح جام کھلوایا۔ ایس ڈی ایم نے بتایا کہ پینے کے پانی کی منصوبہ بندی سے پانی کی فراہمی کرنے کیلئے ہدایات دے دی گئی ہیں۔

 

مظاہر ہ کر رہے لوگوں نے بتایا کہ پورے گاؤں میں نصف سے زائد ہینڈ پمپ خراب ہیں۔ ایک کروڑ سے زیادہ کی لاگت سے گاؤں میں پینے کے پانی کی منصوبہ بندی تیار کی گئی، لیکن اس سے کوئی فائدہ گائوں کے لوگوں کو نہیں مل سکا۔
جل نگم کے ایگزیکیوٹیو انجینئر کملیش نے بتایا کہ پینے کے پانی منصوبہ بندی کا ایک ٹیوب ویل نیا بنوایا گیا ہے۔ اسے پائپ لائن سے منسلک کرنے کام جلد ہی مکمل ہو جائے گا۔ گاؤں میں آٹھ سو میٹر لمبی پائپ لائن بچھنی ہے، جس میں ساڑھے چار سو میٹر تک پائپ لائن بچھ چکی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *