نشانہ آئندہ پارلیمانی انتخابات الہ آباد بنا پریاگ راج

Share Article

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 2019کے لوک سبھا الیکشن کیلئے پریاگ راج کے کمبھ کو ’انتخابی مہاریلی‘ کی طرح استعمال کرنے کی تیاری میں ہے۔کمبھ کا موقع بی جے پی کے ہاتھ لگ گیاہے اوراس کے ذریعے وہ اپنا یکطرفہ پرچارمہم چلانے اورملک بھر کے لوگوں تک اپنا اثر پہنچانے کی زبردست قواعد کر رہی ہے۔الہ آباد کا نام بدل کر پریاگ راج کرنے کا فیصلہ بھی اسی ارادے سے ہوا۔ مذہبی عقیدے کے باعث ملک بھرسے کروڑوں لوگ کمبھ میں آئیں گے۔ ان کروڑوں ہندوؤں تک سیدھے پہنچنے اوربات چیت کرنے کا بہترین موقع بی جے پی کھونا نہیں چاہتی ۔
تیاری ایک برس پہلے سے
کمبھ میلے کی تیاری اسی وجہ سے قریب ایک سال پہلے سے شروع کردی گئی تھی۔ لوگ اس بار کمبھ آئیں گے تو مکمل طور سے بدلے ہوئے الہ آباد کو مکمل طور سے منظم پریاگ راج کے طورپر دیکھ کر جائیں گے۔وفادار سماج میں بی جے پی کے تئیں مثبت اثرکو بی جے پی 2019کے لوک سبھا الیکشن میں ووٹ کے فائدے کے طورپردیکھتی ہے۔مہاکمبھ کی عظیم تیاری کررہی بی جے پی اس کا سیاسی فائدہ صرف اترپردیش ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں دیکھ رہی ہے۔
الہ آباد میں کمبھ کو لیکر پچھلے قریب ایک برس سے توڑپھوڑ چل رہی ہے۔ پورے الہ آباد کو متجاوزمکت کرنے کی مہم چل رہی ہے۔ ابھی الہ آباد کو دیکھیں تو آپ کو کسی ’یودھ‘ سے گذرتا ہوا الہ آباد دکھے گا۔ ہر طرف ٹوٹی ہوئی عمارتوں کے ملبے، عمارتوں کومنہدم کرتے بلڈوزروںکا شور، دھول-گرد اورافراتفری ۔ پوری حکومت اورانتظامیہ آپ کو الہ آباد میں ہی مرکوز اورسرگرم دکھائی دے گا۔ ہردو -ایک دن پروزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ خود اوران کے وزیر کمبھ کی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ انتظامیہ کے خصوصی افسروں کی آمد ورفت لگاتار بنی ہوئی ہے۔گورنر رام نائک بھی چین نہیں لے رہے ، وہ بھی کمبھ کی تیاریوں کو دیکھنے اور جانکاریاں حاصل کرتے رہنے کا سلسلہ بنائے ہوئے ہیں۔
الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دلیپ بی .بھوسلے بھی کمبھ کی تیاریوں میں بذات خود دلچسپی لے رہے ہیں۔ ابھی پچھلے ہی دنوں الہ آباد کے سرکٹ ہاؤس میں کمبھ کی تیاریوں کو لیکر ہوئی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ ساتھ گورنر رام نائک، چیف جسٹس دلیپ بی ، بھوسلے، جسٹس وکرمناتھ اوریوگی کابینہ کے کئی وزرا، الہ آباد کے میئراورتمام اعلیٰ افسران موجودتھے۔میٹنگ میں اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گری، جنرل سکریٹری مہنت ہری گری سمیت کئی اہم سادھو سنت اورمارگ درشک منڈل کے ممبران بھی شامل تھے۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی الہ آباد کا نام پریاگ راج کرنے کاعمل شروع کردیاتھا۔ الہ آباد میں ہوئی میٹنگ میں گورنر رام نائک نے بھی یہ کہتے ہوئے مہرلگائی کہ میلا اتھارٹی کا نام بھی پریاگ راج سے ہی ہے۔الہ آباد کا نام بدل کر پریاگ راج کرنے کی تجویز منگل 16اکتوبر کو کابینہ کی میٹنگ میں منظورکردی گئی۔اس کی تیاریوں کے تحت اترپردیش سرکار کے کابینی وزیر سدھارتھ ناتھ سنگھ نے گورنر رام نائک کو خط لکھ کر رسمی درخواست پہلے ہی پیش کردی تھی۔ الہ آباد کی میٹنگ کے بعد وزیراعلیٰ نے کہاتھا کہ سنتوں اوردیگر اہم لوگوں نے الہ آباد کا نام پریاگ راج کئے جانے کی تجویزرکھی۔اسے سرکار پہلے ہی پریاگ راج میلہ اتھارٹی کی تشکیل کرکے اصولی منظوری دے چکی ہے۔
یوگی نے اتراکھنڈ کے کرن پریاگ اور رودرپریاگ کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ جہاں کم سے کم دوندیوں کا سنگم ہوتاہے، اسے پریاگ کہا جاتاہے۔ ہمالیہ سے نکلنے والی دیوتولیہ دوندیوں کا سنگم الہ آباد میں ہوتا ہے اوریہ ترتھوں کا راجہ ہے۔ اسلئے الہ آباد کا نام پریاگ راج کیا جانا مناسب ہے۔قابل ذکر ہے کہ الہ آباد کا نام پہلے پریاگ ہی تھا، لیکن مغل بادشاہ اکبر نے سال 1574میں اس کا نام بدل کر الہ آباد رکھ دیاتھا۔ الہ آباد 444سال بعد پھر سے پریاگ راج ہوگیا۔مایاوتی اور اکھلیش یادو نے بھی وزیراعلیٰ رہتے ہوئے کئی ضلعوں کے نام بدلے تھے۔ مایاوتی نے اپنے کارمدت میں 11ضلعوں کے نام دلتوں کے عظیم لوگوں کے نام پرکئے تھے۔

 

 

 

 

 

کمبھ کا سیاسی استعمال قبل بھی ہوا
واضح رہے کہ ساری سیاستی پارٹیاں اپنے اپنے دورحکومت میں کمبھ کا استعمال اپنے اپنے طور طریقے سے کرتی رہی ہیں ۔ بی جے پی کی حکومت میں ہورہے کمبھ کا بی جے پی بھی اپنے طورطریقے سے سیاسی استعمال کرنا چاہتی ہے اور اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے۔اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ اس بار کا کمبھ مذہبی نظریے سے بھلے ہی نیم کمبھ کے زمرے میں آتاہو، لیکن میگاتیاریوں کا یہ مہاکمبھ ہی ہونے جارہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کے وزیراعلیٰ سے لیکر ملک کے وزیراعظم نریندرمودی تک ’یتر-تتر-سروتر‘ کمبھ کولیکر میڈیائی زبان میں ’ہائپ-کرئیٹ‘ کررہے ہیں۔ نیم کمبھ کو مہاکمبھ کئے جانے کے سرکاری اعلان کے سیاسی مطلب کوسمجھ کر اپوزیشن کی کئی پارٹیاں بوکھلا اٹھیں۔ کئی لیڈروں نے تو اس پر مذہبی سوال اٹھائے اورسنتوں سے بھی سوال اٹھوائے ۔ لیکن اس سے بی جے پی کی تیاریوں پرکوئی فرق نہیں پڑا۔ اب اپوزیشن بھی اپنے کون سے کمبھ کے سیاسی استعمال میں لگ گیاہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بی جے پی رام مندر مسلے کوگون کرنے کے ارادے سے کمبھ پر لوگوں کا زیادہ دھیان مرکوز کرنے میں لگی ہے۔
بی جے پی کا کہنا ہے کہ رام مندر اورکمبھ دونوں ہی مسئلے مذہبی آستھا سے جڑے ہیں، سیاست سے نہیں۔رام مندر کا مسئلہ عدالت میں ہے، لیکن کمبھ کولیکر تنازعہ اٹھانے والے لوگ ہی دراصل سیاست کررہے ہیں۔ کمبھ کو لیکر ہورہی سیاست پر وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کہتے ہیں ،’’ ہرچیز کوسیاسی آئینے سے دیکھنا مناسب نہیں ہے۔کمبھ مذہبی آستھا کا موضوع ہے اوراس پر دنیابھر کی نظررہتی ہے۔ کمبھ میلے کے ذریعے سے بار سوچھ بھارت کے ساتھ ساتھ ایک بہترین ہندوستان کا بھی نظارہ دیکھنے کوملے گا۔اس میں سیاست کہاں ہے!‘‘۔لیکن کمبھ کولیکر چل رہی تیاریوں اورلئے جارہے فیصلوں سے سیاست کے زاویہ کو الگ بھی نہیں کیا جاسکتاہے ۔ کمبھ میلے کے بعد ہی ملک بھرمیں لوک سبھا الیکشن ہونے والاہے۔
اس لوک سبھا الیکشن میں یہ سوال اٹھ رہاہے کہ بی جے پی نے پانچ سال کے کارمدت میں اعلان کردہ ایجنڈے کے مطابق کیا کیاکیا؟۔نہ کشمیر کا مسئلہ سلجھا، نہ کشمیری پنڈتوں کی واپسی ہوئی، نہ دفعہ 370یا 35اے پرکوئی صاف تصویر سامنے آئی۔سب سے بڑا سوال رام مندر کولیکر اٹھ رہاتھا، لیکن بی جے پی نے کمبھ پرپوری طاقت جھونک کر ’ہندو-سینٹمینٹ‘کودوسری سمت میں لے جانے کا کام کیا۔ الیکشن کے وقت ریاست اورملک بھر کے لوگوں میں کمبھ کی یادیں تازہ رہیں گی۔ایس سی -ایس ٹی ایکٹ کے بیجا استعمال پرسپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف آرڈیننس لانے کی بی جے پی سرکار کی حرکت سے لوگوں میں پھیلے غصے پربھی پریاگ راج کا پانی ڈالنے کی سیاست اختیار کی گئی۔
وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہاکہ کمبھ کے مدنظر سیکڑوں تعمیری کام ہورہے ہیں۔ ان میں سڑکیں،گھاٹ ، اووربریج اورپریاگ سے جڑنے والی سبھی سڑکوں کومتجاوزمکت کرنے کا کام تیزرفتار سے چل رہاہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مرکز اورریاستی سرکار مل کرکمبھ کے انعقاد کو اچھے سے اچھاکرنے کولیکر کوشاں ہے۔وزیراعلیٰ نے یہ بھی دعویٰ ٹھوکا ہے کہ 15دسمبر کے بعد سے گنگا ندی میں گندا پانی نہیں جائے گا اور گنگا ندی کے کنارے بسے گاؤں کوکھلے شوچالیہ سے مکت ’اوپن ڈیفیکیشن فری ‘ (اوڈی ایف)اعلان کردیاگیاہے۔ان گاؤں کے لوگوں میں گنگا کوسوچھ رکھنے کی بیداری بھی پھیلائی جارہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے سادھو سنتوں سے بھی اپیل کی وہ دنیا سے رخصت ہوئے سادھو-سنتوں کے جسد کوگنگا کے حوالے نہ کریں ۔ کمبھ کے درمیان گنگا کی دھارا بنائے رکھنے کے انتظام کئے گئے ہیں۔ گنگا میں 8سے 10کیوسیک پانی کی فراہمی رہے گی۔اس کے علاوہ کمبھ میلے میں بجلی ، پانی ، خوراک کی فراہمی سمیت ساری بنیادی سہولتوں کا بندوبست کیا جارہاہے۔ قریب 3200ہیکٹیئر میں منعقدکئے جانے والے کمبھ میلے میں سوچھتا میں پرخاص دھیان رکھاجائے گا۔ میلے میں 1,22,000بیت الخلاء اور 20,000کوڑے دان بنائے جارہے ہیں۔ میلے میں 11,400صفائی ملازمین تعینات کئے جائیں گے۔میلے میں پہلی بار بیرونی کرنسی بدلنے کیلئے تین سینٹربنائے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی چار بینکوں کی شاخیں، 20اے ٹی ایم اور34موبائل ٹاور بھی لگیں گے۔

 

 

 

 

درخت کاٹ کر منے گا ہریت کمبھ
وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس بار کمبھ میلے کوہریت-کمبھ کے طورپر بھی منانے کا دعویٰ کیاتھا۔اس کیلئے یوگی کی اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ ترویندر سنگھ راوت اور پرمارتھ نکیتن کے سوامی چدانند سرسوتی کے ساتھ میٹنگ بھی ہوئی تھی۔ تب یوگی نے کہاتھا کہ گنگا کے کنارے -کنارے جنگل لگائے جائیں گے۔لیکن سارے دعوے ڈھاک کے تین پات ہی ثابت ہوئے۔ہریت -کمبھ کے دعوے کے بر عکس کمبھ میلے کی تیاریوں کیلئے لکڑی کی ضرورتیں لکھم پور کھیری کے حساس ٹائیگر زون کے جنگل سے پوری کی جارہی ہیں۔لکھم پور کھیری فاریسٹ رینج کے بفرزون میں لکڑی کی کٹائی اندھادندھ ہوئی۔لکھم پور کے دودھوا ٹائیگر ریزرو کے بفرزون کے بھیرا اورمیلانی رینج کی لکڑیاں الہ آباد بھیجی گئیں۔ انہی لکڑیوں سے مقامی پل بنائے جارہے ہیں۔
لکڑی کی سپلائی اترپردیش کے ون نگم کے ذریعے ہورہی ہے۔الہ آباد کے محکمہ تعمیرات عامہ کے ڈائریکٹرجنرل کو14فٹ کے 400اور 12فٹ کے 100سلیپروں کی رسمی مانگ بھیجی تھی۔ یہ سارے سلیپر نایاب سال کی لکڑی کے ہو ں گے۔محکمہ جنگلات کے افسر بتاتے ہیں کہ کٹان میں چھایاداردرخت بھی اندھادھند کاٹے گئے۔اسی بہانے بدعنوان فاریسٹ افسروں اورمقامی افسروں کے بھی وارے-نیارے ہوئے۔ کٹے ہوئے پیڑوں کی کٹائی -چھٹائی لکھم پور کے قریب چھاؤچھ کی آرا مشینوں پرکرائی گئی۔ اسی چکر میں دودھواٹائیگر ریزرو سے جڑے میلانی رینج کی کھریٹہا بیٹ کمپارٹمنٹ 9,7اور1-اے کے علاوہ جنوب بھیرا کمپارٹمنٹ 14اور15میں ٹائیگر کنزرویشن اسکیم کے تحت لگے پیڑوںکی بھی کٹائی ہوگئی۔
کمبھ کی دولت میں بدعنوانی
کمبھ کی تیاریوں کو لیکر ریاست اورمرکز دونوں سرکاروں نے خزانہ کھول رکھاہے۔لیکن بدعنوان افسر اوردلال دھرم-دھن کوبھی ہڑپنے کاپاپ (گناہ) کرنے سے پرہیزنہیں کررہے ہیں۔’پاپیوں‘نے کمبھ کی تیاریوں کی شروعات ہی گاڑیوں اورسامانوں کی خریدمیں گھوٹالے کے ساتھ کی۔الہ آباد میونسپل کارپوریشن نے کوڑا اٹھانے والی گاڑیوں کی خرید میں گھوٹالے کئے۔ الہ آبادکی میئریوگی سرکارکے کابینی وزیر نندگوپال نندی کی بیوی ابھیلاشا گپتانندی ہیں۔گاڑیوں کی خریدکیلئے ٹینڈر سرگرمی میں شامل مہندراا ینڈ مہندرا کمپنی کے ریجنل منیجر نے الہ آباد کے کمشنر کوخط لکھ کر گھپلے کی جانچ کرانے کی مانگ کردی۔
ریجنل منیجر نے اس خط کی کاپی وزیراعلیٰ، شہری ترقیاتی وزیر اورشہری ترقیاتی محکمہ کے چیف سیکریٹری کوبھی بھیج دی۔شکایت میں کہا گیا کہ ٹینڈر سرگرمی میں مہندرا اینڈ مہندرا گاڑیوں کی قیمت سب سے کم دی گئی تھی، لیکن کم قیمت دینے کے باوجود نگرنگم نے ٹا ٹا کمپنی کی گاڑی خریدنے کی منظوری دے دی۔صرف اس ایک فیصلے سے الہ آباد میونسپل کارپوریشن کو 2کروڑ 37لاکھ 26ہزار 658روپے کا نقصان ہوا۔
اسی طرح کمبھ کیلئے پی ڈبلیوڈی کے ٹھیکوں میں بھی خوب بے ضابطگیاں ہوئیں۔ سال کی لکڑی کے سلیپروں کی خریدمیں ضابطے کی اندیکھی کرکے انتہائی مہنگی قیمت پرخرید کی گئی۔ اس کی شکایت عدالت تک پہنچی۔کمبھ کیلئے سنگم پربنائے جانے والے پینٹون پلوں کیلئے سال کی لکڑی کے سلیپروں کی خرید میں ہوئے گھوٹالے کے خلاف لکھنؤ کے ایک این جی او نے گوہاٹی ہائی کورٹ میں پی آئی ایل داخل کرکے سی بی آئی جانچ کی مانگ کی۔کمبھ میں پینٹون پلوں کے لئے اروناچل پردیش فاریسٹ کارپوریشن کے ذریعے کولکاتہ کی دونجی فرموں سے لکڑی خریدی جارہی ہے۔
گوہاٹی ہائی کورٹ تک معاملہ لے گئے غیرسرکاری ادارہ ’نیشنل ایسوسی ایشن فار ویلفیئر آف یوتھ‘ کا کہنا ہے کہ دونوں فرموں کو88کروڑ کی خرید کا ٹھیکا بناکسی ٹینڈر کے ہی دے دیا گیا۔ دوسری ریاستوں کے مقابلے میں فی کیوبک میٹر250روپے زیادہ قیمت دیکر اروناچل سے یہ لکڑی خریدی گئی۔پنجاب نے سال کے سلیپر کیلئے فیکیوبک میٹر 1,57,964روپے کا ریٹ دیا تھا، لیکن پی ڈبلیوڈی کے افسروں نے اروناچل سے 1,58,250روپے پرسلیپر خریدنے کا فیصلہ کرلیا۔ ایڈوانس کے طورپر بغیر بینک گارنٹی کے 20کروڑ روپے اروناچل کو دے بھی دیے۔ادارہ کا کہناہے کہ اب تک 50کروڑروپے دیے جاچکے ہیںجبکہ محض 25کروڑکی لکڑی کی فراہمی ہوسکی ہے۔15اکتوبر تک سارے سلیپروں کی سپلائی ہوجانی تھی، لیکن نہیں ہوئی ۔
یہ بھی عجیب ہی ہے کہ لکڑیوں کی خریدکی سرگرمی سے محکمہ جنگلات کو الگ رکھا گیا جبکہ سال2013کے کمبھ میں دوسری ریاست سے لکڑی خریدنے کیلئے یوپی فاریسٹ کارپوریشن کونوڈل ادارہ بنایاگیا تھا۔ لیکن اس ضابطے کوطاق میں رکھ کر پی ڈبلیو ڈی کے افسروں نے اس سال ارونا چل پردیش فاریسٹ کارپوریشن سے سیدھے بات چیت کی۔یوپی فاریسٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر اے کے دویدی نے اس بار بھی کمبھ کیلئے پنجاب سے لکڑی خریدنے کی سفارش کی تھی۔گھوٹالے پر سرکارچپی سادھے ہوئے ہے۔ کمبھ میلے کی تیاریوں سے جڑے ایک افسریہ مانتے ہیں سلیپرکی خرید میں گھوٹالے کی شکایت ملی ہے اورمعاملے کی جانچ کیلئے کمیٹی تشکیل کردی گئی ہے۔ اس کے آگے افسرکچھ بھی نہیں کہتے۔
کمبھ میلے میں سڑک سیفٹی انڈی کیٹرز کی خرید کیلئے دئیے گئے ٹھیکے میں بھی ایک امریکی کمپنی کوبھرپور فائدہ پہنچانے کا الزام ہے۔ابھی کمبھ شروع بھی نہیں ہوا کہ کمبھ کے گھوٹالوں کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کی مانگ ہونے لگی۔ کمبھ کی تیاریوں کے تحت سڑکوں پرلگائے جانے والے سیکوریٹی سیفٹی انڈی کیٹرز کی پری-بڈ میں امریکی کمپنی کوخوب فائدہ پہنچایاگیا۔ پری-بڈ میں آدھادرجن مختلف کمپنیوں نے حصہ لیا تھا۔ امریکی کمپنی کے آگے افسرو ں کے ’سرخم‘ ہونے کے بارے میں وزیراعلیٰ ، نائب وزیراعلیٰ ، چیف سیکریٹری سمیت کئی دیگر افسرو ں کوبتایاگیا، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

 

 

 

 

سماج وادیوں کے دورمیں کمبھ کی دولت پرہاتھ ماراگیا
اقتدارگلیارے کے اعلیٰ عہدیدار افسرکہتے ہیں کہ کمبھ میلے کے بعد کمبھ کی دولت کھانے کا معاملہ کھلے گا۔اس سے پہلے ایس پی کے دورحکومت میں کمبھ کی دولت ہڑپے جانے کی موٹی فائل سرکار کے پاس زیرالتوہے۔ کمبھ -بدعنوانی کی فائلیں کھلیں گی تو دونوں دور کی بدعنوانی سامنے آئیں گی۔سماج وادی پارٹی دورکی بے ضابطگیاں توکافی حد تک تواجاگرہوچکی ہیں۔ایس پی سرکار کے کارمدت میں ہوئے کمبھ میلہ گھوٹالے کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کی مانگ ہوتی رہی ہے۔مہالیکھاکار(کیگ)کی رپورٹ میں بھی ایس پی کے دورکے کمبھ میلہ گھوٹالے کی سرکاری تصدیق ہوچکی ہے۔ کمبھ میلے کے امورکے وزیراعظم خان تھے۔ایس پی سرکار کے دورمیں 14جنوری 2013سے 10مارچ 2013تک الہ آباد کے پریاگ میں مہاکمبھ ہواتھا۔ کمبھ میلے کیلئے اکھلیش سرکار نے 1,152.20 کروڑروپے دیئے تھے۔ کمبھ میلے پر1,017.37کروڑ روپے خرچ ہوئے۔یعنی 1,34.83کروڑ روپے بچ گئے۔ اکھلیش سرکار نے اس میں سے قریب ایک ہزارکروڑ(969.17کروڑ)روپے کا کوئی حساب (استعمال سرٹیفکیٹ)ہی نہیں دیا۔اکھلیش سرکار نے کمبھ میلے کے لئے ملی رقم میں مرکز اورریاست کا گھپلہ کرکے بھی کروڑوں روپے ادھرادھر کردئیے۔
کمبھ میلے میں بے ضابطگیوں کولیکر کیگ نے ایس پی سرکار پرکئی سنگین سوال کھڑے کئے تھے۔ اکھلیش سرکار کے سینئروزیر اعظم خاں کمبھ میلہ انعقاد کمیٹی کے صدر تھے۔ اکھلیش سرکار نے پورا میلہ مرکزی سرکار کی دولت سے نمٹا دیا اورپوراکریڈٹ خود لے لیاجبکہ 70فیصد خرچ ریاستی سرکارکے ذمے تھا۔افسروں نے کاغذوں میں ایک ہی وقت میں کئی مزدوروں کو دو-دو جگہ کام کرتے دکھایا۔ ایسا ہی ٹریکٹروں کے ساتھ کیا گیا اور سرکاری فائلوں میں ایک نمبر کے ٹریکٹر سے ایک ساتھ دوجگہ کام دکھایاگیا۔ میلے میں سڑک چوڑی کرنے ، مرمت سے لیکر گھاٹوں کی تعمیر، بیرکیڈنگ تک ہر کام میں گھوٹالہ ہوا۔ افسروں نے ٹھیکیداروں کی کمائی کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کیگ رپورٹ اسمبلی میں پیش ہوئی تھی۔ رپورٹ میں شہر، میلہ کی جگہ اورریلوے اسٹیشنوں پرسی سی ٹی وی کیمروں کا بندوبست کیا گیا تھا، لیکن سبھی کنٹرول روم آپس میں جڑے ہی نہیں تھے۔اس وجہ سے ریلوے اسٹیشن پر پولس کو شہرکی بھیڑکا اندازہ نہیں لگا اورحادثہ بھی ہوگیا ۔ کمبھ کیلئے خریدی گئی دواؤں میں آدھی سے زیادہ استعمال نہیں ہوئی۔
2019کے کمبھ کی تیاریوں کولیکرہوئی شروعاتی دومیٹنگوں میں ہی ایس پی سرکار کے وزیراورافسروں نے مل کر 2لاکھ 67ہزار400روپے کا کھانا اورناشتہ چٹ کرلیاتھا۔ ایس پی سرکار جانے ہی والی تھی، تووزیراورافسر اقتدار جاتے جاتے بھی کچھ بٹور لینا چاہتے تھے۔ دسمبر2016میں چیف سکریٹری کی میٹنگ اوراکھاڑا پریشد کے ساتھ ضلع انتظامیہ کی میٹنگ میں کھانے اورناشتے کے نام پر گھوٹالہ کیاگیا۔ کھانا اورناشتے پر موٹی قیمتیں درج کرکے اس کی ادائیگی کردی گئی۔چیف سکریٹری کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں 1200روپے فی لیٹر کی قیمت سے 150لوگوں نے کھانا کھایا۔ اس کا بل ایک لاکھ 80ہزارروپے آیا۔اکھاڑا پریشد کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں ناشتے پر87,400روپے کا خرچ دکھایا گیا۔ اسی دن گنگا پوجا کے نام پربھی سواتین لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔29سنت مہاتماؤں کو شال دینے کے نام پر 1.60لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ الہ آبادی امرود کی خریداری پر100روپے فی کلوکے حساب سے ہزاروں روپے کا خرچ دکھا یا گیا اور57ہزارروپے کا لڈو پرساد کیلئے منگوایاگیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *