یوپی کو رنگ کی بیماری لگ گئی ہے

Share Article

اکھل پانڈے
اترپردیش میںسیاسی پارٹیوںکا عجب رنگ ڈھنگ ہے۔ جو بھی پارٹی اقتدار میںآئی ، وہ ریاست کو اپنے ہی رنگ میںڈھالنے کی کوشش کرنے لگتی ہے۔ اس لت سے یوپی کو رنگ کی بیماری لگ گئی ہے۔ لوگ رنگ بدلتا دیکھتے ہیں، لیکن ڈھنگ بدلتا نہیںدیکھتے۔ اقتدار میںبی ایس پی آئی تھی تو لیڈروںکی ٹوپی سے لے کر ٹرانسپورٹ کاپرپوریشن کی بسوں اور رو ڈڈوائڈروں تک کے رنگ نیلے ہونے لگ گئے تھے۔ ایس پی آئی تو لیڈروںکی ٹوپی، بسیں اور سپائیوں کے مزاج ہرے اور لا ل رنگ میںدکھائی دینے لگے۔ اب بی جے پی آئی ہے تو سب طرف بھگوا ہی بھگوا نظر آرہا ہے۔ ریاست میںاب بسیںبھی بھگوا رنگ میںپتی نظر آئیںگی۔ رنگوںکا روگ بنیادی طور پر بھاجپائیوں کا ہی پھیلایا ہوا ہے۔ کلیان سنگھ جب ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے،تبھی انھوںنے ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوںکا رنگ بھگوا کرایا تھا۔اس کے بعد تو سبھی پارٹیوں کو رنگ روگ لگ گیا۔ اب جلدی ہی اتر پردیش کے مسافر بھگوا رنگ کی روڈویز بسوںمیںسفر شروع کریںگے۔ راجدھانی سمیت ریاست بھر کی سڑکوںپر بھگوا رنگ کی روڈویز بسیںدوڑتی نظر آئیںگی۔ ’اتر پردیش راجیہ سڑک پریوہن نگم‘ جلدی ہی بھگوا رنگ سے شرابور’ انتویودے‘ بس سروس کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔
مابعد یوگی
اترپردیش میں نئی سرکار کی تشکیل ہوئے تقریباً چھ مہینے ہوچکے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بنتے ہی لوگوںکے ماتھے اور کندھے پر بھگوا رنگ کا گمچھا دکھائی دینے لگا۔ موٹر سائیکلوں سے لے کر موٹر گاڑی تک کا رنگ بھگوا ہونے لگا اور چھ ماہ گزرتے گزرتے یو پی پر بھگوا رنگ چھا گیا۔ اس بھگوا رنگ پر سرکاری اسکیم کم اور چاپلوسی کا رنگ زیادہ حاوی اور مؤثر ہے۔ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں کی تو بات چھوڑئے، اب تو سماجوادی ایمبولینس‘ (102-108)کا بھی رنگ بھگوا ہونے جارہا ہے۔ ایمبولینسوں کا نام بھی بدلا جائے گا۔
فطری ہے کہ اس کا نام اب ’سماجوادی‘ نہیں رہے گا۔ اب ایمبولینس کا نام کسی بھاجپائی مہاپروش کے نام پر رکھا جائے گا۔ اب تو بازار میںبھی دیکھئے تو جیکٹ، ساڑی، پگڑی، تولیہ، گمچھا، گھر کے سازو سامان، یہاںتک کہ ٹیلی فون اور تار کے رنگ بھی بھگوا ہونے لگے ہیں۔ چھٹ بھئیے چاپلوس لیڈروں کے ساتھ ساتھ بڑے لیڈر، وزیر اور ایم ایل اے تک اپنے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو خوش کرنے کے لیے بھگوئی وفاداری کا رنگ کپڑوں پر پوت رہے ہیں۔ بھگوئی کپڑے بیچنے والے ایک دکاندار نے کہا کہ لیڈروں کا بس چلے تو اہ اپنا منہ بھی بھگوا رنگ سے پتوا لیں گے۔ پھر اسی دکاندار نے راقم الحروف سے پوچھا کہ کیا کسی پارٹی کا رنگ کالا ہے؟ پھر خود ہی بولا،’ایسی پارٹی اقتدار میںآگئی تو نیتا منہ کالا کرکے گھومتے ملیںگے۔‘
آپ اقتدار کے گلیارے میں گھومیں،آپ کو وزیر، ایم ایل اے، نیتا، کارکن سب بھگوا رنگ کی جیکٹ اور بھگوارنگ کا تہہ کیا ہوا گمچھا کندھے پر رکھے دکھائی دیں گے۔خواتین لیڈر اور خواتین کارکن بھی اب بھگوا رنگ کی ہی ساڑیوںمیں دکھائی دے رہی ہیں۔ اکلوتے سکھ وزیر بھی بھگوا رنگ کی پگڑی میںنظر آرہے ہیں۔ نائب وزیر اعلیٰ کیشو موریہ بھلے ہی اندر ہی اندر موقع کی تلاش میںرہتے ہوں،لیکن اوپر سے بھگوا رنگ کی جیکٹ پہنے کار میںبھگوا رنگ کی کور والی سیٹ پر بیٹھے ہوئے یوگی کے حتمی حامی دکھائی دینے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔

 

 

 

 

انتیودے بس کی شروعات
جہاں تک وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا سوال ہے، تو اس سوال کا سارا جواب بھگوا میںہی ہے۔ جن کرسیوں پر وہ بیٹھتے ہیں،وہ بھی بھگوا رنگ کی چادر سے ڈھکی رہتی ہیں۔ ان کے دفتر کا صوفہ، کرسی، پردے، سب پر بھگوا رنگ ہے۔ وزیراعلیٰ سکریٹریٹ میںیوگی کے آفس کے کمرے سے لے کر کیبنٹ سبھا کمرہ تک بھگوا ہی بھگوا ہے۔ یہاںتک کہ مائیکروفون کے تار تک بھگوا کپڑے میںلپیٹ دیے گئے ہیں۔ دلچسپ تو یہ ہے کہ یوگی کو بھگوا رنگ پسند ہے تو ان کے چاپلوس نوکر شاہ انھیں نارنگی رنگ کا ’مرانڈا‘ یا ویسا ہی ’اورینج کولڈ ڈرنک‘ بھی پلاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں بندیل کھنڈ کے دورے کے وقت وزیر اعلیٰ کو نارنگی رنگ والا ہی کولڈ ڈرنک دیا گیا اور جب وہ وارانسی گئے تو وہاں بھی بھگوا رنگ ہی چھایا رہا۔ میزوں کو بھی بھگوا رنگ سے ہی ڈھانپ دیا گیا تھا۔

اب آتے ہیں اتر پردیش پریوہن نگم کی بسوںکو بھگوا رنگ میں رنگنے کی مچی مقابلہ آرائی پر۔ بی جے پی سرکار نے غریبوںکی سہولت کے لیے انتیودے بس سروس شروع کرنے کا فیصلہ لیا۔ ان بسوں کا کرایہ عام بسوں کے مقابلے میںکم ہوگا۔ پنڈت دین دیال اپادھیائے کی پیدائش صدی سال میںاس کی شروعات ہو گی۔ 25 ستمبر کو اس کا افتتاح ہوگا۔ انتیودے بس سروس کی بسیںبھگوا رنگ کی ہوں گی۔ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے چیف منیجر (تکنیکی) جے دیپ ورما نے کہا کہ ان بسوں کے بنانے کا کام تیزی سے چل رہا ہے۔ بھگوا رنگ کی جو بسیں یوپی کی سڑکوںپر اتریںگی، ان بسوںکی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ ان میںیو رو 4-انجن لگا ہوا ہے، جس سے آلودگی نہیں پھیلے گی۔ 52 سیٹر بسیں نئی تکنیک سے لیس ہوں گی۔ پہلے مرحلے میںبھگوا رنگ کی 50 بسیںچلائی جائیں گی۔ یہ بسیںکانپور میںروڈویز کی رام منوہر لوہیا سینٹرل ورکشاپ میں تیار کی جارہی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ریاست کی سماجوادی پارٹی کی سابق سرکار نے غریبوں کو روڈ ویز بسوں میں سفر کی سہولت دینے کے لیے سماجوادی گرامین لوہیا بس سیوا کی شروعات کی تھی۔ ان بسوں کو ایس پی کے جھنڈے کے ہی رنگ میں رنگا گیا تھا۔
اتر پردیش میں سرکار بدلنے کا اثر سارے محکموںپر پڑتا ہے لیکن ٹرانسپورٹ کارپوریشن ایسا محکمہ ہے، جو سرکار بدلتے ہی سب سے پہلے سرکاری پارٹی کے رنگ میںرنگ جاتا ہے۔ یوپی میں ایس پی سرکار کے جاتے ہی اور بی جے پی سرکار کے آتے ہی ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے بسوں کا رنگ ہرا – لال کی جگہ بھگوا کرنے کی تیاری شروع کردی تھی۔ بی ایس پی کے دور میںبسوںکے بیڑے میں ایئرکنڈیشنڈ والوو بس سروس لانچ ہوئی تھی۔ بی ایس پی سرکار نے اسی وقت بسوں پر پارٹی کا رنگ چڑھانے کا کام شروع کردیا۔ عام بسوں کونیلے رنگ سے پوت کر ان بسوں کا نام ’سروجن ہتائے سروجن سکھائے‘ رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد سو کروڑ کی سرکاری گرانٹ سے نیلے رنگ کی بسپائی والوو بسیں خریدی گئیں۔ تب سے نیلے رنگ کی والوو اور نیلے رنگ کی ہی ’سروجن ہتائے سروجن سکھائے‘ بسیںریاستی سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔
بی ایس پی سرکار کے جانے کے بعد ایس پی نے اقتدار میں آتے ہی اپنی پارٹی کا رنگ بسوں پر چڑھانا شروع کیا۔ سماجوادی لوہیا گرامین بس سیوا کے نام سے سال 2014 میںڈیڑھ ہزار بسیںلانچ کی گئیں، سب کی سب ہرے اور لال رنگت کے سپائی کلیور میں۔ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے اس رنگ روغن پر خوش ہوکر اکھلیش سرکار نے ٹرانسپورٹ کارپوریشن کاایک تہائی ٹیکس معاف کردیا، جس سے کارپوریشن کو 76 کروڑ کا سیدھا فائدہ ہوا۔ اب بی جے پی کی سرکار آگئی ہے۔ فطری ہے کہ رنگت بدلے گا۔ حالانکہ سرکار کا فیصلہ آنے سے قبل ہی رنگ روگ میںمبتلا ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے بسوں کو بھگوا رنگ میںرنگنے کی شروعات بی جے پی سرکار کی ہی مدت کار کے دوران ہوئی تھی۔ کلیان سنگھ جب وزیر اعلیٰ بنے تھے تب پہلی بار ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں پر ہلکا بھگوا رنگ چڑھ گیا تھا۔ اب تو بی جے پی کی حکومت پر پکڑ بھی گہری ہے، اس لیے بسوں پر بھگوا رنگ بھی گہرا ہی چڑھ رہاہے۔

 

 

 

خواتین کے لیے چلیںگی گلابی بسیں
نیلی، ہری- لال اور بھگوا رنگ کی بسیںچلیں گی تو گلابی بسیںپیچھے کیوںرہیں؟ ان گلابی بسوں کے پیچھے گلابی گینگ کا ہاتھ نہیں بلکہ اس کے پیچھے خواتین کو با اختیاربنانے کا رنگ ہے۔ اتر پردیش اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں نربھیا فنڈ کے تحت ریاست میں50 گلابی (پنک) بسیںچلنی ہیں۔ ان بسوں کا رنگت گلابی ہوگا اور ان میںخواتین مسافروں کو ڈھیر سارے تحائف بھی ملیں گے۔ ان بسوںمیںخواتین مسافروں کو سیکورٹی کے ساتھ ہی کرایہ میںچھوٹ، مفت وائی فائی کی سہولت ،پیزہ،برگر، بسکٹ، کولڈ ڈرنک اور جوس دستیاب کرا نے کا بھی منصوبہ ہے۔ گلابی بسوں سے سو کلومیٹریا اس سے زیادہ دوری تک سفر کرنے والی خواتین کو کھانا دیا جائے گا۔
ابھی تک ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں خواتین کے لیے صرف ایک اے سی پنک بس تھی، جس میں خواتین مسافروںکو فری وائی فائی کے ساتھ ٹی وی کی سہولت اور پینے کا پانی ملتا تھا۔ خواتین مسافروںکو سب سے بڑی سہولت یہ ملے گی کہ اگر ایک ساتھ پانچ خواتین نے ایک ہی جگہ سے ٹکٹ بک کرایا تو پنک بس انھیں ’پک‘ کرنے ان کے ذریعہ بتائے گئے ایک مقررہ مقام تک جائے گی۔ پنک بسوں کے کامیاب آپریشن کے لیے ٹرانسپورٹ کارپوریشن کئی ایسے گرلس ہاسٹل اور دفاتر کو نشان زد کررہی ہے جہاںسے زیادہ تر خواتین جمعہ کی رات کو اپنے گھروں کے لیے سفر کرتی ہیں۔ ان میں سے کچھ جگہوں پر ٹرانسپورٹ کارپوریشن اپنے بورڈنگ بنوائے گی، جہاں سے خواتین مسافر آرام سے بس پکڑ سکیںگی۔ پنک بسوںمیںسفر کرنے والی خواتین کے ساتھ ان کے سگے متعلقین کو بھی سفر کرنے کی اجازت دی جائے گی۔اس کے لیے متعلقہ شخص کو اپنی پہچان بتانی ہوگی۔ اگر کسی ایک خاتون نے بس میںسفر کرنے کے لیے کسی دیگر خاتون کو بھی تیار کیا تو اسے کرایہ میںپانچ سے دس فیصد تک چھوٹ دی جائے گی۔ آن لائن ٹکٹ بک کرانے پر بھی خواتین کو کرایہ میںاضافی چھوٹ ملے گی۔
پنک بسوں سے سفر کرنے والی خواتین کی سیکورٹی کے لیے خاص انتظامات کیے جارہے ہیں۔ اس کے لیے کارپوریشن الگ سے 83 کروڑ روپے خرچ کررہی ہے۔ بسوں کو سیکورٹی کی نظر سے جدید ترین مشینری سے لیس کیا جائے گا۔ بسوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ساتھ ہی جی پی ایس اور پینک بٹن بھی لگا ہوگا۔ بلو ٹوتھ سے ڈی وی آر کنکٹ ہوگا، جس سے سی سی ٹی وی سے ہونے والی ریکارڈنگ کنٹرول روم کے ڈی وی آر میںمحفوظ رہے گی۔
خواتین کی سیکورٹی کے لیے ’آدی شکتی‘ گروپ بنایا جارہا ہے، جو خواتین مسافروں کی سیکورٹی کے لیے ہمیشہ تیار رہے گا۔ ’آدی شکتی‘ گروپ میںچار سو خواتین شامل ہوں گی، جن میں حال میںروڈویز میںتعینات تین سو خاتون کنڈکٹر او رسو خاتون افسر و ملازم شامل ہوںگی۔ ’آدی شکتی‘ گروپ کے پاس 24 انٹرسیپٹر ہر وقت موجود رہیںگے۔ یہ سبھی انٹر سیپٹر وائرلیس اور جی پی ایس سے لیس ہوں گے۔ انٹر سیپٹر پر ایک مرد ٹریفک سپرنٹنڈنٹ اور ایک خاتون سپرنٹنڈنٹ ہمیشہ تعینات رہیں گے۔ ان کے ساتھ پولیس کی چوکس ٹیم ساتھ رہے گی، جس میں مرد اور عورت پولیس اہلکار ساتھ ساتھ تعینات رہیںگے۔ پنک بسوں میںعورت اور مرد پولیس اہلکار کا الگ سے ایسکارٹ رکھنے کے منصوبے پر بھی تبادلہ خیال چل رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *