ّآج نئی دہلی میں سینٹر ل وقف کونسل کی 80؍ ویں میٹنگ کی صدارت کے دوران مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور جناب مختار عباس نقوی کے خطاب کے چند اقتباسات

Share Article

 

نئی دہلی ، ۱۲؍ جون ، ۲۰۱۹: مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور جناب مختار عباس نقوی نے آج یہاں کہا کہ وقف جائیدادوں کی ۱۰۰؍ فیصد جیو ٹیگنگ اور ڈجیٹلائزیشن کے لیے جنگی پیمانے پر مہم شروع کر دی گئی ہے تاکہ ملک بھر میں موجود وقف جائیدادوں کا مناسب استعمال سماج کی فلاح کے لیے کیا جا سکے ۔

 

آج نئی دہلی میں سینٹرل وقف کونسل کی ۸۰؍ ویں میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے جناب نقوی نے کہا کہ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے ملک بھر میں وقف جائیدادوں پر اسکول ، کالج ، اسپتال ، کمیونٹی سینٹر وغیرہ کی تعمیر کے لیے وزیر اعظم جن وکاس کاریہ کرم (پی ایم جے وی کے )کے تحت صد فیصد سرمایہ کاری کا فیصلہ لیا ہے ۔

 

جناب نقوی نے کہا کہ ملک بھر میں وقف جائیدادوں کے ذریعہ سماج میں بطور خاص اقتصادی طور پر پسماندہ لڑکیوں کے تعلیمی امپاورمنٹ اور روزگار فراہم کرانے والے کوشل وکاس کی خاطر استعمال کے لیے مرکزی حکومت نے جنگی پیمانے پر مہم چلانے کا فیصلہ لیا ہے ۔

 

جناب نقوی نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت ’’ پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم ‘‘ کے تحت ملک کے ان پسماندہ علاقوں میں طبقات اور بطور خاص لڑکیوں کی تعلیم اور روزگار فراہم کرانے والے کوشل وکاس کے لیے بنیادی سہولیات پہنچا رہی ہے جہاں آزادی کے بعد یہ سہولیات نہیں پہنچ پائی تھیں ۔

 

جناب نقوی نے کہا کہ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ ’’ پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم ‘‘ کے تحت مرکزی حکومت ملک بھر میں وقف جائیدادوں پر اسکول ، کالج ، آئی ٹی آئی ، کوشل وکاس مراکز ، مختلف مقاصد کے لیے کمیونٹی سینٹر ‘‘ سدبھائو منڈپ ‘‘ ہنر ہاٹ ، اسپتال ، تجارتی مراکز ، کامن سروس سینٹر وغیرہ کی تعمیر بڑے پیمانے پر کر رہی ہے ۔

 

جناب نقوی نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اقلیتوں کے لیے ملک کے صرف ۱۰۰؍ اضلاع تک محدود ترقیاتی منصوبوں کی توسیع

 

’’ پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم ‘‘ کے تحت ۳۰۸؍ اضلاع میں کر دی ہے ۔ ملک بھر میں تقریباً ۵؍اعشاریہ ۷۷؍ لاکھ رجسٹرڈ وقف جائیدادیں ہیں ، جنھیں جیو ٹیگنگ اور ان کے ریکارڈ کو ڈجیٹل کیا جا رہا ہے ۔ جیو ٹیگنگ اور ڈجیٹلائزیشن سے وقف جائیدادوں کو شفافیت اور محفوظ طریقہ سے رکھا جا سکے گا ۔

 

جناب نقوی نے کہا کہ وقف جائیدادوں کے سلسلہ میں نئے ہدایت نامے کے لیے جسٹس (سبکدوش ) جناب ذکی اللہ خان کی قیادت میں تشکیل ۵؍ رکنی کمیٹی کے ذریعہ رپورٹ سونپ دی گئی ہے ۔ کمیٹی کی رپورٹ کی سفارشیں وقف جائیدادوں کے مناسب استعمال اور دہائیوں سے تنازعہ میں پھنسی جائیدادوں کو تنازعہ سے باہر نکالنے کے لیے وقف قوانین کو آسان اور موثر بنائے گی ۔ مرکزی حکومت اس کمیٹی کی سفارشوں پر ضروری قدم اٹھا رہی ہے ۔ وقف جائیدادوں کو ’’ وقف مافیا ‘‘ کے قبضہ سے نکالنے کے لیے مرکزی حکومت نے کئی قدم اٹھائے ہیں ۔

 

جناب نقوی نے کہا کہ سینٹرل وقف کونسل ، وقف ریکارڈ کے ڈجیٹلائزیشن کے لیے صوبائی وقف بورڈوں کو مالی مدد دے رہی ہے تاکہ سبھی صوبائی وقف بورڈ ، وقف جائیدادوں کے ڈجیٹلائزیشن کا کام طے شدہ مدت میں پورا کر سکیں ۔ وقف جائیدادوں کی جی آئی ایس ؍ جی پی ایس میپنگ کے لیے آئی آئی ٹی ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے اداروں کے ذریعہ کام کیا جا رہا ہے ۔ ۲۰؍ صوبوں کے وقف بورڈوں میں ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت مہیا کرائی گئی ہے ۔ اس سال سبھی صوبائی وقف بورڈوں میں یہ سہولت مہیا کرا دی جائیں گی ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *