برطانیہ کی پارلیمانی کمیٹی نے فیس بک کے مارک زکربرگ کو طلب کیا

Share Article
mark-zuckerberg
برطانیہ کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ سے اپنے سامنے حاضر ہونے اور ذاتی طور پر دعووں کی وضاحت کرنے کیلئے کہاہے کہ فیس بک استعمال کرنے والے لاکھوں لوگوں کے اعدادو شمار، سیاسی مہموں کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔ڈیجیٹل، کلچر، میڈیا اور اسپورٹس سے متعلق دارالعوام کی کمیٹی کے چیئرمین دامین کولنس نے زکربرگ سے کہاکہ وہ اس معاملے میں ا پنی ذاتی رائے سے آگاہ کریں۔زکربرگ سے یہ درخواست جعلی خبروں کے بارے میں کمیٹی کی جاری تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی ہے جس کی وجہ سے کمیٹی کے ارکان پچھلے مہینے فیس بک اور ٹوئیٹر کے عہدیداروں کے بیان لینے واشنگٹن گئے تھے۔اس دوران برطانیہ کی انفارمیشن کمشنر ایلیزابیتھ نے کہاہے کہ وہ برطانیہ میں قائم سیاسی مشاورتی فرم کیمبرج کے دفاتر کی تلاشی کے وارنٹ جاری کرنے کے لیے عدالت میں درخواست دیں گی۔ اس فرم پر 2016 کے امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے فیس بک کے 50 ملین ممبروں کے اعدادو شمار استعمال کرنے کا الزام ہے۔
دوسری طرف فیس بک کے مالک مارک زکربرگ کو گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 58500 کروڑ روپئے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وہ دنیا کے ٹاپ 5 امیروں کی فہرست سے باہر ہو گئے ہیں۔ فیس بک کی مسلسل تنقید کی جا رہی ہے۔ لیکن کمپنی کے مالک مارک زکربرگ نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ ایسے ماحول میں فیس بک میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کار اور دنیا بھر کے میڈیا ہاوس انہیں تلاش کر رہے ہیں۔ اب سوال اٹھتا ہے آخر کہاں ہیں زکربرگ اور کس طرح وہ اس معاملہ میں آگے بڑھیں گے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *