رویش کمار
کیرل کے سیاسی تشدد پر ہندی ریاستوںمیں انفارمیشن کم ہے، خیال زیادہ ہے۔ تشدد کو لے کر ایک شبیہ بن گئی ہے، مگر وہاںکے حالات کی نہ توکوئی رپورٹنگ ہے یا نہ کسی طرح کی اطلاع، جس سے وہاںکے حالات کو سمجھنے کا موقع ملے۔ کیرل کے تشدد پر ریسرچ کرتے ہوئے لگا کہ صورت حال واقعی خوفناک ہے۔ تشدد کے اس کھیل میںدونوںہی فریق شکار بھی ہیں اور شکاری بھی، یعنی دونوں ہی فریقوںکے لوگ مارے بھی جارہے ہیں اور ایک دوسرے کو مار بھی رہے ہیں۔ سیاست ترازو لے کر نہیںکی جاتی ہے ۔ اس لیے ایک فریق خود کو ہی متاثرہ کے طور پر پیش کرتا ہے، اپنے خلاف ہوئے تشدد کو ابھارتا ہے مگر آپ کو کبھی نہیںبتاتا کہ اس کی طرف سے بھی تشدد کا یہ کھیل کھیلا گیا ہے۔ کیرل کا ایک ضلع ہے کنور۔ یہیںسے ریاست کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین آتے ہیں۔ 1960 کی دہائی سے یہ ضلع سیاسی تشدد کی گرفت میںہے۔

 

 

 

 

سنگھ کے کارکن کا قتل
30 جولائی کو کیرل کی راجدھانی تروونت پورم میں سنگھ کے کارکن کا قتل کردیا گیا۔ قتل کے الزام میں پانچ لوگ حراست میںلیے گئے۔ واقعہ کے بعد وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کیرل کے تشدد پر تشویش ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ جمہوریت میںسیاسی تشدد قابل قبول نہیںہے۔ 34 سالہ راجیش کو کئی لوگوں نے گھیر کر مار دیا، اس کا بایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا اور اسے کئی جگہوںپر شدید چوٹیںآئی ہیں۔ بی جے پی نے اس قتل کے پیچھے سی پی ایم پر الزام لگایا ہے۔ سی پی ایم نے تردید کی ہے۔ کانگریس کے لیڈروں نے تشدد کی اس سیاست کے خلاف اُپواس رکھا۔ کیرل کے تشدد کو لے کر وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے ایک میٹنگ بھی بلائی۔ بی جے پی، آر ایس ایس کے لیڈروں سے بات کی اور سیاسی اختلاف کو دور کرنے کے طریقوں پر بات کی۔ میٹنگ شروع ہونے سے قبل وزیر اعلیٰ نے اپنا کنٹرول بھی کھودیا اور وہاں آئے میڈیا سے گیٹ آؤٹ کہہ دیا۔ میٹنگ کے بعد بی جے پی اور سی پی ایم کے لیڈروں نے کہا کہ وہ تشدد کے خلاف بیداری لائیںگے۔ یہ بھی طے ہوا ہے کہ بی جے پی ،آر ایس ایس اور سی پی ایم کے کیڈر کے بیچ امن مذاکرات کئی ضلعوںمیںمنعقد کیے جائیںگے تاکہ آپسی بات چیت بنے۔
کیرل میںتشدد کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیںہے۔ تشدد کے دور کی کئی دہائیاں گزر جانے کے بعد سی پی ایم، بی جے پی ،سنگھ کے کارکنوں کی امن میٹنگ سے امید کی جانی چاہیے۔ ورنہ حالت یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے پر حملہ کرنے میں ایک منٹ بھی نہیںسوچتے ہیں۔ بہرحال جو تشدد 1960 کی دہائی سے چلا آرہا ہے، وہ کیوں جاری ہے، اس پر ریسرچ کرتے ہوئے کیرل کی جو شکل سمجھ میںآتی ہے، وہ بھیانک ہے۔قتل صرف قتل نہیں بلکہ ایسے مختلف طریقوںسے قتل ہوتا ہے کہ آپ ڈٹیل نہیں بتا سکتے ہیں۔ کیرل کا تشدد ہم سب کے لیے شرم کی بات ہے اور ریاست میں سرگرم سیاسی جماعتوں کے لیے تو اور بھی شرم کی بات ہے۔ ہم چاہے خود کو غیر متشدد کہہ لیں، روادار کہہ لیں لیکن اس طرح کے واقعات ہندوستان کے اس کھوکھلے فخر سے پردہ اٹھادیتے ہیں۔
30 جولائی کو سنگھ کارکن کا قتل کیا گیا لیکن کیرل کے تشدد کا ریکارڈ دیکھیں تو سی پی ایم کے کارکن بھی اسی تعداد میںمارے جارہے ہیں۔ اگر سنگھ، بی جے پی کے کارکن مارے جاتے ہیں تو ملزم ہمیشہ سی پی ایم کے ہوتے ہیں اور سی پی ایم کے کارکن مارے جاتے ہیں تو ملزم ہمیشہ سنگھ ، بی جے پی کے ہوتے ہیں۔ کنور کے تشدد کی شروعات 1960 کی دہائی میں بھارتیہ جن سنگھ کے کارکن رام کرشن کے قتل سے ہوتی ہے۔ اس قتل کے بدلے میںسی پی ایم کارکن کا قتل کردیاجاتا ہے۔ جس طرح سے توے پر روٹی پلٹتے ہیں، اسی طرح سے کنور میںبدلے کا تشدد ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوںآدمی کی لاش سے فٹ بال کھیلنے کے عادی ہوگئے ہیں۔
کیرل کے تشدد کی کوئی بھی خبر دیکھئے۔ ایک کا قتل ہوتا ہے تو فوراً اس کا بدلہ قتل سے لیا جاتا ہے۔ ایک بات کا دھیان رکھئے گا، حامی، لیڈر، کارکنوں کے قتل ہورہے ہیں۔ کئی جگہوں پر ہم نے اگر حامی کو لیڈر یا کارکن کو لیڈر کہہ دیا ہو تو اتنی غلطی برداشت کرلیجئے گا۔ اگر کسی قتل میںسی پی ایم یا کسی قتل میںسنگھ کا ذکر آتا ہے تو اس کا حوالہ یہ ہے کہ ان پر شامل ہونے کا الزام لگا ہے۔ اب آگے بڑھتے ہیں۔ آپ نے گزشتہ سال کے دو تین مہینوں کے واقعات کا ریکارڈ دیکھا (باکس میں) ۔ صاف ہے کہ دونوں فریق لاش کی سیاست کررہے ہیں۔ دہلی میںبھلے ہی ایک فریق خود کو متاثر بتاتا ہو لیکن مارے گئے اور الزامات کی فہرست دیکھ کر لگتا ہے کہ دونوں پاک صاف نہیںہیں۔ کنور میں1960 کی دہائی سے تشدد جاری ہے اور اب کیرل کے کئی اضلاع میںپھیل چکی ہے۔
ایک اعداد و شمار کے مطابق کنور کے تشدد میں اب تک 210 لوگ مارے گئے ہیں، دونوںطرف سے ۔ ایک اعداد و شمار کے مطابق کنور کے تشدد میںاب تک 300 سے زیادہ لوگ مارے گے ہیں، دونوں طرف سے۔’ دی وائر‘ میںوشو ہندو پریشد کے ایک الزام کو چیلنج کیا گیا ہے۔ وشو ہندو پریشد کا کہنا ہے کہ 300 سے زیادہ سنگھ حامی مارے گئے ہیں اور آدھے دلت ہیں۔ بی آر پی بھاسکر نے لکھا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے۔ 300 لوگ مارے گئے ہیں مگر اس میںسی پی ایم اور سنگھ دونوںکے ہیں اور آدھے دلتوں کی بات صحیح نہیںہے۔

 

 

 

 

کیرل کے تشدد پر تحقیق
کیرل کے تشدد پرریسرچ کرنے والی یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن کی لکچرر روچی چترویدی نے لکھا ہے کہ کنور کے تشدد میںتھیّا ذات کے لوگ مارے گئے ہیں۔ کیرل میںاس ذات کو او بی سی کا درجہ حاصل ہے۔ ان کے پاس بہت کم زمین ہے اور عام ماحول کے لوگ ہیں۔ کیوں اس ذات کے نوجوان دونوں طرف کے تشدد میںشامل رہے ہیں،شکار ہوئے ہیں،شکار کیا ہے،اس پر الگ سے بات ہونی چاہیے۔ روچی نے کہا ہے کہ تشدد میںمارے گئے 80 فیصد ہندو ہیں اور اس میں70 فیصد نوجوان بے روزگار تھے۔ اس کا مطلب یہ نہیںکہ اس تشدد کی کوئی فرقہ وارانہ شکل ہے۔ دہلی کے میڈیا میںیا دہلی سے کیرل کو لے کر کئی طرح کے پروپیگنڈے ہورہے ہیں۔ ڈیلی او ڈاٹ ان پر ملیالی لوگوںکے ایک گروپ نے لکھا ہے ۔ اس گروپ کو مین اویل کہتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے گروپ میں سبھی پارٹیوںکے ملیالی لوگ شامل ہیں۔
اس گروپ نے ایک پروپیگنڈے کو چیلنج کیا ہے کہ کنور میں38 فیصد مسلم ہیں۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق 29.43 مسلم ہیں۔ ایک پروپیگنڈہ میںکوٹٹایم ضلع کو مسلم اکثریتی بتایا گیا ہے، جبکہ اس ضلع میںمسلمانوںکی آبادی 6 فیصد ہے۔
کیا کیرل کے تشدد کا تعلق ہندو مسلم سیاست سے ہے، اس طرح کا پروپیگنڈہ پھیلایا جارہا ہے۔ تاکہ ہندی زبان کی ریاستوں میںیہ باتیں آسانی سے پھیل جائیں ۔ فرقہ وارانہ شکل بھی ہے تو اس پر بھی کھل کر بات ہوسکتی ہے۔ روچی چترویدی نے لکھا ہے کہ کنور میں1983 سے ستمبر 2009 کے بیچ 91 لوگ مارے گئے۔ سنگھ ، بی جے پی کے 31 حامی مارے گئے ہیں۔ سی پی ایم کے 33 حامی مارے گئے ہیں۔ کیا صرف سی پی ایم اور سنگھ کے حامی ہی مارے گئے؟ 14 معاملوںمیںکانگریس کے کارکن بھی مارے گئے۔ زیادہ تر میںالزام سی پی ایم پر لگا۔ بی جے پی اور کانگریس کے کارکن بھی ایک دوسرے قتل کے الزام میںشامل ہیں۔ انڈین مسلم لیگ اور سی پی ایم کارکنوں نے بھی ایک دوسرے کو مارا ہے الزام سی پی ایم اور سنگھ پر لگا لیکن مارے گئے کارکنوں میںسی پی ایم،سنگھ، بی جے پی، کانگریس اور انڈین مسلم لیگ کے شامل ہیں۔ ایک رپورٹ میںایک اور آنکڑہ ہے، جسے پیش کررہا ہوں۔ صرف پولیس کے مطابق2000 سے 2006 کے بیچ کنور میں69 سیاسی قتل ہوئے ہیں۔ 31 سنگھ پریوار کے مارے گئے ہیں اور 30 سی پی ایم کے۔ پانچ انڈین مسلم لیگ کے اور3 نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ کے۔
کئی بار میڈیا دونوں ہلاکتوںکو دکھاکرتجزیہ نہیںکرتا ہے۔ 30 جنوری 2017 کو کنور میں 63 سال کے کانگریسی کارکن پر سنگھ کارکن حملہ کرتے ہیں۔ اس دن شام آٹھ بجے بی جے پی کے 32 سال کے ساجتھ پر حملہ ہوتا ہے، قتل ہوجاتا ہے اور الزام سی پی ایم پر لگتا ہے۔ کیرل کے میڈیا میں دونوںواقعات کی رپورٹنگ ہوئی لیکن نیشنل میڈیا میں صرف سنگھ پرچارک کے قتل کوہی دکھایا گیا اور پروپیگنڈہ کیا گیا۔ تشدد برائے تشدد کے اس دور میںپولیس کے کردار پر بھی بات ہونی چاہیے۔ کیا کسی واقعہ میں دونوں فریقوں کے ملزموں کو سزا ہوئی ہے؟
قتل کا برعکس معاملہ
’ہندو‘ میں19 دسمبر 2016 کی رپورٹ ہے۔ سی پی ایم کارکن کے قتل میں 11 سنگھ کارکنوںکو عمرقید کی سزا سنائی جاتی ہے۔ ٹرائل کورٹ نے 2008 میںسی پی ایم لیڈروی ویشنو کے قتل کے الزام میں یہ سزا سنائی تھی۔ ہم نے یہ سب انٹرنیٹ سرچ کے سہارے ہی پایا ہے۔ سی اپی ایم لیڈروں کی گرفتاریوںکی کئی خبریں ملی ہیں۔ 21 اپریل 2011 کے ’ٹائمز آف انڈیا‘ میں چھپی خبر کے مطابق سیشن کورٹ نے سی پی ایم کے 24 کارکنوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ سنگھ کارکن کی آخری رسوم سے لوٹ رہے دو لوگوں کا قتل کردیا گیا تھا۔ یہ واقعہ 23 مئی 2002 کا تھا۔ اس طرح سے آ پ دیکھ رہے ہیںکہ کیرل کے تشدد میںکیسے سیاسی پارٹیوںکے مفاد کے لیے کسی کا قتل ہورہا ہے، مارا جارہا ہے۔ عا م فیملی کے لوگ عمر قید کی سزا بھگت رہے ہیں اور ان پارٹیوں کے لیڈر بڑے آرام سے سیاست چمکارہے ہیں اور دہلی میںبیٹھ کر پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔ سیاسی پارٹیاںعام لوگوں کی یہ حالت کردیتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ کیرل کے تشدد پر پورے ملک کے سامنے بات ہو کہ ایک ضلع کیوںاس طرح خونی تجربہ گاہ بنا ہوا ہے؟ ان کے اقتدار حاصل کرلینے سے عوام کی کون سی بھلائی ہوگئی ہے؟ قتل اور تشدد کی اس سیاست کو خارج کردینا چاہیے۔
’انڈیا ٹوڈے‘کی ایک رپورٹ کے مطابق مئی 2016 میںسی پی ایم کی قیادت والی ایل ڈی ایف سرکار کے اقتدار میںآنے کے بعد سے کنور میںسیاسی تشدد کے 400 معاملے سامنے آچکے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سال میںسیاسی تشدد میں30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تشدد کے ان معاملوں میںسی پی ایم کے 600 کارکن ، آر ایس ایس ، بی جے پی کے 300 کارکن اور کانگریس کے 50 کارکن گرفتار ہوچکے ہیں۔
کیرل سے متعلق رپورٹ اور تجزیہ پڑھتے وقت دونوںفریقوں کے لیڈروںکے بیان دیکھ رہا تھا۔ سب کو اپنی دلیلوں پر اتنا بھروسہ ہے کہ کوئی اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیںہے۔ سب کے پاس جائز وجہ ہے کہ تشدد وہ نہیں ، سامنے والا کررہا ہے۔ کسی میںکسی بھی فریق کے مارے گئے لوگوںکے تئیںہمدردی نہیںدکھائی دیتی ہے۔ بدلے کی آگ ہے۔ بدلہ لینا ہے اور بدلہ لے لیا جاتا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ امن کمیٹیوں اور میٹنگوںکا نتیجہ نکلے گا۔ سی اپی ایم اور سنگھ کے کارکن جب آمنے سامنے بیٹھیںگے، تو ایک دوسرے کی نظروں کا لحاظ کریںگے اور کچھ شرم بھی۔ انتقام کی سیاست نیکتنے لوگوںکو مروادیا اور کتنے لوگوں کو جیل بھجوادیا۔ ایک طرف سے سوال آئے گا کہ سی پی ایم کے دفتر پر سنگھ کے لوگوں نے بم کیوں پھینکا تو دوسری طرف سے سوال آئے گا کہ سنگھ ، بی جے پی کے دفتر پر سی پی ایم کے لوگوں نے بم کیوںپھینکا۔ آپسی سیاست کے لیے اتنے بم کہاںسے آجاتے ہیں، وہ بھی تب جب ملک خود کو دہشت گردی سے لڑنے والا چمپئن ڈکلیئر کرچکا ہے۔ کیا بموںپر لکھا ہوتا ہے کہ یہ دہشت گردی کے لیے ہے اور یہ سیاسی قتل کے لیے ہے۔

 

 

 

 

قتل کا سلسلہ
٭11 جولائی 2016 کی رات ساڑھے دس بجے کنور میںسی پی ایم لیڈر سی وی دھن راج کا قتل ہوتا ہے۔ ڈھائی گھنٹے کے اندر ہی رات ایک بجے بدلے کی کارروائی میںبی جے پی کارکن اور آٹو رکشہ ڈرائیور سی کے رام چندرن کو اس کے گھر میںقتل کردیا جاتا ہے۔
٭ 12 مئی 2017 کو دھن راج کے قتل کا ملزم بیجو بھی مار دیا جاتا ہے۔
٭ 11 جولائی 2017 دھن راج کے قتل کی برسی پر سی اپی ایم کارکنوں پر بم سے حملہ ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد سی ای ایم کارکن سنگھ کے ایک دفتر کو پھونک دیتے ہیں۔ دونوں فریقوں کے 20 گھروں میںآگ لگادی جاتی ہے۔
٭ 20 اگست 2016 کو بی جے پی کارکن دیکشت کی بم بناتے وقت موت واقع ہوجاتی ہے۔ وائر نے لکھا ہے کہ سنگھ بی جے پی لیڈر ولسن تھلنیکیر نے ٹی وی کی بحث میںکہا کہ جب ریاست فیل ہوجائے تو بچاؤ میںبم بنانے پڑتے ہیں۔
٭ 20 ستمبر کو تھلینکیری میںبی جے پی ورکر 26 سالہ ونیش کا قتل ہوتا ہے۔ اسی دن اس قتل کے تھوڑی دیر بعد سی پی ایم کی اسٹوڈنٹ یونین کے ججیش پر بم سے حملہ ہوتا ہے۔ ججیش پر مقامی سنگھ لیڈر کے قتل کا الزا م تھا۔
٭ 10 اکتوبر کو پیدوولائی کے سی پی ایم لیڈر کے موہنن کا قتل ہوتا ہے۔
٭ 24 گھنٹے کے اندر 19 سالہ بی جے پی ورکر ریمتھ کا قتل کردیا جاتا ہے۔
٭ 19 مئی 2016 کو جب سی پی ایم کی سرکار بنی تو وجے جلوس پر بم پھینک دیا گیا۔
٭ سی پی ایم حامی سی رویندرن کا قتل ہوجاتا ہے۔ الزام سنگھ پر لگتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here