اب وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کی حقیقی تاریخ لکھی جائے اور حقیقت ملک کے سامنے آئے: امت شاہ

Share Article

کشمیر سے دفعہ370 کی منسوخی کے بعد پیدا ہو رہے حالات اور ملک میں پھیل رہی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے مرکزی حکومت نے ملک گیر سطح پر ایک مہم شروع کر دی ہے ۔ اس ہم کے تحت ملک کے مختلف مقامات پر پروگرام کا انعقاد کر کے لوگوں کو دفعہ 370کی منسوخی کے بعد ہونے والے مثبت نتائج کے سلسلے میں آگاہ کیا جانا ہے ۔ اسی مہم کے تحت ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کی حقیقی تاریخ رقمکی جائے اور ملک کے سامنے حقیقت کو بیان کیا جائے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے مزیدکہا کہ آرٹیکل 370 ہٹائے جانے اور کشمیر کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں آج بھی قائم ہیں، جن دور کرنا بے حد ضروری ہے۔ ان غلط فہمیوں کو دور کرنا جتنا ضروری جموں کشمیر اور وہاں کے عوام کے لئے ضروری ہے، اتنا ہی ملک کے لئے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس سال بعد ہمارے اس اقدام کا جائزہ لیا جائے گا تو یہ نتیجہ نکلے گا کہ جموں کشمیر ملک کے ترقی یافتہ ریاستوں میں ایک ہو جائے گی اور کشمیری نوجوان اپنی محنت سے اپنا مستقبل سنوار کرآگے کھڑے نظر آئیں گے۔

اتوار کو آر ایس ایس (آر ایس ایس) کے ایک پروگرام میں ‘قومی سیکورٹی، موجودہ نقطہ نظر ‘پر اپنی بات رکھتے ہوئے شاہ نے دفعہ 370 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسے لے کر کئی غلط فہمیاں تھیں۔ کشمیر کو لے کر کبھی سچ نہیں بتایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے جب ملک آزاد ہوا تو اس کے سامنے سیکورٹی کا سوال، آئین بنانے کا سوال جیسے کئی قسم کے سوال سامنے تھے۔ اس کے ساتھ ہی 630 ریاستوں کو ایک کرنے کا سوال آ گیا۔ 630 مختلف ریاست ایک لڑی میں پرونا اورا یک بھارت بنانا، یہ اس وقت حکومت کے سامنے بہت بڑا چیلنج کا کام تھا۔ انہوں نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں عزت کے ساتھ ملک کے پہلے وزیر داخلہ مرد آہن سردار ولبھ بھائی پٹیل کو سجدہ کر کے یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ وہ نہ ہوتے تو یہ کام کبھی نہ ہوتا۔ سردار پٹیل کی ہی ہمت کا نتیجہ تھا کہ 630 ریاستیں آج ایک ملک کے طور پر دنیا کے اندر وجود ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اس وقت 630 ریاستوں کو ایک کرنے میں کوئی دقت نہیں آئی لیکن جموں و کشمیر کو اٹوٹ طور پر ایک کرنے میں پانچ اگست، 2019 تک وقت لگ گیا۔، سردار ولبھ بھائی پٹیل نہ ہوتے تو ریاست کا انضمام نہ ہوتا۔ سردار پٹیل کے خیالات سے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کر ملک کو لڑی میں پرویا۔ شاہ نے اپوزیشن جماعتوں پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ سیاسی موقف ہے ان کو وہ واضح کرنا چاہتا ہیں کہ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا موقف اس کے بعد سے ہے جب سے اس کا قیام ہوا ہے۔ یہ ہماری شناخت ہے کہ جب آرٹیکل 370 تھا، تب ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لئے ٹھیک نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم صرف بولتے نہیں ہیں۔ہم نے اس کے خلاف بار بار تحریک کی۔ یہ تحریک تب ہوئی جب کانگریس کا سورج اپنے عروج پر چمک رہا تھا اور بی جے پی کے نئے سلسلہ کی حیثیت سے منظوری کے لئے عوام کے درمیان تھی۔ جب تک دفعہ 370 نہیں ہٹا، اس وقت تک 11 مختلف تحریکیں چلائی گئیں، جس میں ‘ماس موبلائزیشن’ بی جے پی اور اس کے ساتھی تنظیموں نے کی تھی۔ وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ شیاما پرساد مکھرجی ٹرین کے راستے جموں و کشمیر گئے، ان کے پاس پرمٹ نہیں تھا۔وہ مانتے تھے کہ میرے ملک میں جانے کے لئے پرمٹ کی ضرورت ہے۔ ان کے پاس پرمٹ نہیں لینے کے لئے جیل میں ڈالاگیا۔ شیاما پرساد جی نے اپنی زندگی آرٹیکل 370 ہٹانے کے قربان کر دی۔

شاہ نے کانگریس کا نام لیے بغیر کہا کہ کہ کشمیر کی تاریخ توڑ مروڑ کر ملک کے سامنے رکھی گئی، کیونکہ جن کی غلطیاں تھیں، ان کے حصے میں تاریخ لکھنے کی ذمہ داری آئی۔ انہوں نے اپنی غلطیوں کو بہتر کرکے عوام کے سامنے رکھا۔ اب وقت آ گیا ہے، تاریخ چکی لکھی جائے اور حقیقی معلومات عوام کے سامنے رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی وجہ سے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کا ایک گروہ موجودہ ہوا، جس میں اب تک 41,800 افراد ہلاک ہو گئے۔ شاہ نے سوال کیا کہ انسانی حقوق کا مسئلہ اٹھانے والوں کو بتانا چاہئے کہ ان ہلاک لاکھوں بیواؤں اور ان یتیم بچوں کی انہوں نے کبھی فکر کی ہے کیا؟

شاہ نے کہا کہ نریندر مودی نے دفعہ 370 کو ختم کیا ہے۔ اب پانچ سے سات سال کے اندر جموں کشمیر ملک کا سب سے ترقی یافتہ ریاست بنے گی۔ یہاں سیاحت کے بے پناہ امکانات ہیں۔ دنیا بھر میں تمام قدرتی خوبصورتی خدا نے اگر ایک پلاٹ پر دیا ہے تو وہ جموں و کشمیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کو ملک کے عوام نے دوسری بار وزیر اعظم منتخب کیا اور انہوں نے پہلے ہی سیشن کے اندر 70 سال کے ناسور کو اکھاڑ کر پھینکنے کا کام کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *