سپریم کورٹ نے آسام کی 48لاکھ خواتین کی شہریت کے حق میں فیصلہ سنایا

Share Article
Supreme-Court
سپریم کورٹ نے آج 5دسمبرکوآسام کے لاکھوں افراد کی شہریت سے متعلق ایک انتہائی اہم کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے پنچایت لنک سرٹیفیکٹ کی حیثیت کو بحال کردیا ہے جس کے بعد تقریبا 48؍لاکھ شادی شدہ خواتین کو اپنی شہریت پر لٹکی تلوارسے راحت ملی ہے۔مزید برآں عدالت نے شہریت کے سلسلے میں سرکار کے دوہرے رویے کو بھی خارج کردیا ہے اور سرکار سے کہا کہ اصلی اور غیر اصلی شہری میں لوگوں کو نہ بانٹے ، شہریت کے لیے صرف ایک کٹیگری ہو گی :’ وہ بھارت کی شہریت ہے‘ ، اس لیے صرف ثبوت کی بنیاد پر بات کی جائے ۔ اس کے ساتھ ہی آج جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس نریمن پر مشتمل عدالت عظمی کی دو رکنی بنچ نے 28 فروری 2017 کوگوہاٹی ہائی کورٹ کے ذریعہ دیے گئے اس فیصلے کو رد کر دیا جس میں این آر سی میں اندراج کے لیے پنچایت سر ٹیفیکٹ کو ناقابل قبول قرار دیا گیا تھا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *