سرکاری ڈاکٹروں کی حفاظت سے متعلق درخواست پر سپریم کورٹ کا کوئی حکم دینے سے انکار

Share Article

 

سپریم کورٹ سرکاری ڈاکٹروں کی حفاظت کو لے کر دائر درخواست پر جولائی میں سماعت کرے گا۔ کورٹ نے آج کوئی بھی حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ جسٹس دیپک گپتا کی صدارت والی ویکیشن بنچ نے کہا کہ مغربی بنگال اور ملک کے دوسرے حصوں میں ڈاکٹروں نے ہڑتال ختم کر لی ہے لہٰذا اس پر اب جولائی میں موسم گرما میں تعطیل کے بعد سماعت ہوگی۔

 

کورٹ نے کہا کہ ہم عام لوگوں اور قانونی بندوبست کی قیمت پر ڈاکٹروں کو تحفظ دینے کا حکم جاری نہیں کر سکتے ہیں۔ ہم پولیس فورسز کی دستیابی کی بنیاد پر ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔ آج انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے درخواست گزار کا مطالبہ کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے اپنے کو فریق بنانے کی مانگ کرنے والی عرضی دائر کی۔

 

وکیل آلوک الکھ شریواستو نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر ڈاکٹروں کی حفاظت کا مطالبہ کیا ہے۔ عرضی میں مغربی بنگال کے این آرایس میڈیکل کالج کے جونیئر ڈاکٹروں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی حفاظت کے لئے سیکورٹی گارڈز کی تعیناتی کی جائے۔

 

درخواست میں کہا گیا ہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ 10 جون کو ایک 75 سالہ بزرگ مریض کی کولکاتہ کے این آرایس اسپتال میں موت ہو گئی۔ اس کے بعد مرنے والے شخص کے رشتہ داروں نے وہاں موجود جونیئر ڈاکٹروں کی جم کر پٹائی کی۔ اس حملے میں ایک جونیئر ڈاکٹر پری باہا مکھرجی کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔ اس واقعہ کی مخالفت میں مغربی بنگال اور ملک کے دوسرے حصوں میں جونیئر ڈاکٹرس ہڑتال پر چلے گئے۔ اس سے پورے ملک کیطبی خدمات کافی متاثر ہوئیں۔

 

درخواست میں کہا گیا ہے کہ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر کے 75 فیصد سے زیادہ ڈاکٹرس کو کسی نہ کسی طرح کے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسپتالوں کے آئی سی یو میں تشدد کے 50 فیصد واقعات ہوئے ہیں۔ 70 فیصد تشدد کے معاملات میں مریضوں کے رشتہ دار ملوث ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *