نئی دہلی، اجودھیا پر سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے سماعت شروع کر دی ہے۔ سب سے پہلے نرموہی اکھاڑا کے وکیل سشیل جین دلیل دے رہے ہیں۔ جین نے کہا کہ متنازعہ احاطے کے اندرونی حصے پر پہلے ہمارا قبضہ تھا، جسے دوسرے نے زبردستی قبضے میں لے لیا۔ بیرونی پر پہلے تنازعہ نہیں تھا۔ 1961 سے تنازعہ شروع ہوا۔
جین نے کہا کہ مسجد کو پرانے ریکارڈ میں مسجد جنم استھان لکھا گیا ہے۔ باہر نرموہی سادھو پوجا کرواتے رہے۔ہندو بڑی تعداد میں پوجا کرنے اور پرساد چڑھانے آیا کرتے تھے۔ نرموہی کے زیر انتظام بہت سے پرانے مندر ہیں۔ جھانسی کی رانی بھی ہمارے ایک مندر میں مر گئی تھیں۔ نرموہی اکھاڑے کے وکیل کی جرح کے درمیان میں مسلم وکیل راجیو دھون نے جب بولنا شروع کیا تو چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ کو بھی جرح کے لئے کافی موقع ملے گا تب دھون نے کہا کہ ہمیں شک ہے کہ ہمیں کافی وقت ملے گا۔ تب چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کورٹ میں برتاؤ کرنے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔
گزشتہ دو اگست کو عدالت نے پایا تھا کہ اجودھیا معاملے پر ثالثی کا عمل ناکام ہو چکا ہے۔ اس کے بعد کورٹ نے آج سے روزانہ سماعت کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر ثالثی کمیٹی نے گزشتہ یکم اگست کو اپنی فائنل رپورٹ کورٹ کو سونپی تھی۔ گزشتہ 18 جولائی کو کورٹ نے ثالثی کمیٹی سے یہ رپورٹ مانگی تھی۔
گزشتہ 11 جولائی کو سپریم کورٹ نے اجودھیا معاملے کی ثالثی کر رہی کمیٹی سے اسٹیٹس رپورٹ طلب کی تھی۔ سماعت کے دوران ہندو فریق گوپال سنگھ وشارد کی جانب سے سینئر وکیل کے پراسرن نے کورٹ سے جلد سماعت کی تاریخ مقرر کرنے کی مانگ کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر کوئی سمجھوتہ ہو بھی جاتا ہے، تو اسے کورٹ کی منظوری ضروری ہے۔ اس دلیل کی مسلم فریقین کی جانب سے راجیو دھون نے مخالفت کی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here