تین طلاق بل کے خلاف دائر پٹیشن پر سپریم کورٹ نے مرکز سے جواب طلب کیا

Share Article

 

نئی دہلی، تین طلاق کی آئینی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس دیا ہے۔ جمعیت علمائے ہند کی درخواست سمیت تین عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔ درخواست گزار کی جانب سے سینئر وکیل سلمان خورشید نے کہا کہ جس رواج کو سپریم کورٹ منسوخ کر چکا ہے، اس کے لئے سزا کا قانون کیوں بنایاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین سال کی سزا والا سخت قانون خاندان کے مفاد میں نہیں ہے۔

 

جمعیت علمائے ہند کی درخواست میںتین طلاق کے قانون پر روک لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ تین طلاق کو روکنے والا حالیہ قانون آئین کی روح کے مطابق نہیں ہے۔ وکیل اعجازمقبول کے ذریعے دائر درخواست میں اس قانونپر روک لگانے کے لئے ہدایات جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کو لاگو کرنے کے لئے ایسی کوئی صورت نہیں تھی کیونکہ اس طلاق کو سپریم کورٹ پہلے ہی غیر آئینی قرار دے چکا ہے۔

 

درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون بناتے وقت زیر غور قیدیوں کی صورت حال پر آنکھیں موند لی گئی ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلامی قانون کے مطابق شادی ایک دیوانی کانٹریکٹ ہے اور طلاق کے ذریعے اس کانٹریکٹ کو ختم کیا جاتا ہے۔اس لئے دیوانی غلطیوں کے لئے فوجداری کی ذمہ داری طے کرنا مسلمان مردوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایکٹ کی دفعہ -4 کے مطابق تین سال قید کی سزا زیادہ ہے کیونکہ اس سے سنگین مقدمات میں بھی اس سے کم کی سزا کا قانون ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *