مسجد میں خواتین کو داخل ہونے سے متعلق درخواست پر سپریم کورٹ نے تمام فریقوں سے مانگا جواب

Share Article

سپریم کورٹ نے مسجد میں خواتین کو داخلہ دینے کی اجازت مانگنے والی درخواست پر جواب داخل کرنے کے لئے تمام فریقین کو ایک ہفتے کا وقت دیا ہے۔ اس معاملے پر اگلی سماعت 5 نومبر کو ہوگی۔

گزشتہ 16 اپریل کو عدالت نے مرکزی حکومت، مسلم پرسنل لاء بورڈ اور وقف بورڈ کو نوٹس جاری کیا تھا۔ مہاراشٹر کے رہنے والے مسلم جوڑے نے درخواست کی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس ایس اے بوبڈے نے درخواست گزار سے پوچھا تھا کہ کیا آپ کو مسجد میں جانے سے روکا گیا؟ تو درخواست گزار نے کہا تھا کہ ہاں۔ تب کورٹ نے پوچھا تھا کہ کس مسجد میں خواتین کو رسائی کی اجازت دی جاتی ہے؟ تب درخواست گزار نے کہا تھا کہ مکہ میں۔ تب جسٹس بوبڈے نے پوچھا تھا کہ کیا مساوات کے حق کا استعمال کسی شخص کے خلاف کیا جا سکتا ہے؟ کیا اس کے لئے دفعہ 14 کا استعمال کیا جا سکتا ہے؟ کیا مندر، مسجد یا چرچ ریاست ہیں؟ تب درخواست گزار نے کہا تھا کہ یہ ریاست نہیں ہیں لیکن یہ ریاست سے تمام سہولیات لیتے ہیں۔تب کورٹ نے کہا تھا کہ ہم آپ کی درخواست پر صرف سبریمالا مندر کے فیصلے کی بنیاد پر سماعت کر رہے ہیں۔

وکیل آشوتوش دوبے کے ذریعے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مساجد میں خواتین کے داخلہ پر روک آئین کی دفعہ 14، 15، 21، 25 اور 29 کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت کا آئین خواتین کو برابری کا حق دیتا ہے۔ لہذا خواتین کو مساجد میں داخلہ نہیں دینا اس کے حق کی خلاف ورزی ہے۔پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ قرآن میں بھی ایسا کہیں نہیں ہے کہ خواتین کو داخلہ نہیں دیا جائے۔ قرآن میں ایسا کہیں ذکر نہیں ہے کہ نبی نے خواتین کو مسجد میں داخلہ کی مخالفت کی تھی۔ خواتین کو بھی عبادت کرنے کا آئینی حق ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ موجودہ نظام کے تحت جماعت اسلامی اور دیگر مساجد میں ہی خواتین کو داخلہ کی اجازت ہے۔ سنی کمیونٹی کے مساجد میں داخلہ کی اجازت نہیں ہے۔ جن مساجد میں خواتین کو رسائی کی اجازت ہے، وہاں ان کے لئے الگ داخلہ دروازے بنا رہے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کے سب سے زیادہ مقدس مقام مکہ میں خاتون اور مرد دونوں کو کعبہ میں داخلے کی اجازت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *