’چوتھی دنیا‘ کے ڈیرہ سچا سودا کے بارے میں انکشافات 5 برس پہلے کی کہانی

Share Article

پشپ راج
’رام رحیم اور ڈیرہ سچا سودا کے بارے میںسب سے پہلے ’چوتھی دنیا‘ نے 3تا – 9 دسمبر2012 کے شمارے میں انکشافاتی رپورٹ شائع کی تھی۔ اس کے ذریعہ تقریباً پانچ برس قبل ڈیرہ سچا سودا کی سچائی دنیا ے سامنے آئی تھی۔ ‘
ہریانہ کا سرسہ ویسے تو سیاحت کا مرکز نہیںہے لیکن اگر آپ صحافی ہیں اور ویلیو جرنلزم سے آپ کا تعلق ہے تو سرسہ آپ کے لیے ایک تیرتھ استھان ہو سکتا ہے۔ صحافت کی ایک لیک سرسہ سے شروع ہوتی ہے۔ اگر ہم سب نے مل کر اس لیک کو بچانے کی کوشش نہیں کی تو یہ جلد ہی ختم بھی ہوسکتی ہے۔ سرسہ کو صحافت کا تیرتھ آپ اس طور پر بھی مان سکتے ہیں کہ اسی سرسہ میں صحافی رام چندر چھترپتی نے سچ لکھنے کی وجہ سے اپنی شہادت دی۔ 21 نومبر 2003 کو آنجہانی پربھاش جوشی نے چھتر پتی کی پہلی برسی پر انھیںخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ آج صحافت کے شعبے میںکئی چھوٹے بڑے ہٹلر کھڑے ہیں۔ اگر آپ ان ہٹلروںسے نہیں لڑیںگے تو آپ کی صحافت کو گھن لگ جائے گا۔ پربھاش جوشی کے چیلنج کو اگر آپ قبول کرتے ہیں تو ایک بارسرسہ کی طرف رخ ضرور کیجئے۔
چھترپتی کو ہلاک کیوں کیا گیا؟
چھترپتی کی شہادت کے بارے میںجاننے کے لیے ہمیںان وجوہات کو تلاش کرنا ہوگا جس کے نتیجے میں انھیںاپنی شہادت دینی پڑی تھی۔ چھترپتی کے قریبی دوست اور ہریانہ کے سینئر ایڈووکیٹ لیکھراج ڑھوٹ کہتے ہیں کہ چھترپتی کو یاد کرنے کا مطلب ہے، ڈیرہ سچا سودا کے خلاف آواز بلند کرنا۔ اس کی دھمکیوں کے باوجود دہلی کی صحافتی دنیا نے اس کے خلاف اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈیرہ سچا سودا کا بھوت اگر اتنا ڈرا رہا ہے اور اس کا خوف صحافت کے لیے اتنا خوفناک ہے تو اس خوف کا قریب سے دیدار کرلینا چاہیے۔
یہاںایک ڈیرہ ہے اور ڈیرے میںسچ کی سودے بازی ہو رہی ہے۔ یہاں سب کچھ کھلا کھلا ہے۔ رام چندر چھترپتی کے قتل کے بعد ہریانہ کے صحافیوںکی مہاپنچایت نے ڈیرہ کا حقہ پانی بند کردیا۔ اس کے ساتھ ہی کچھ ڈیرہ حامی صحافیوں کو بھی صحافی برادری سے باہر کردیا گیا۔ مہا پنچایت کے ذریعہ خارج ہوئے صحافی اب ڈیرہ کی کمیٹی، مینجمنٹ کمیٹی اور ڈیرا سچا سودا کے ترجمان ’ سچ کہوں‘ کی صحافت کرنے میںلگ گئے ہیں۔ پریس کمیٹی سے جڑے لوگ آپ کو ڈیرے کے درشن کراسکتے ہیں،بشرطیکہ انھیںیہ تسلی ہوجائے کہ آپ ڈیرہ کے حق میں ہی لکھنے والے ہیں۔
سرسہ میںچھترپتی کی شہادت کو سلام کرکے لوٹنے کے ساتھ ہی ڈیرہ سچا سودا کے سچ کو نہار لینا ضروری ہے، جس کی خوبصورتی کا سارا چھدم چھتر پتی کو معلوم ہوچکا تھا۔ تیسرے دن جگدیش سنگھ، پون بنسل اور رام آسرے گرگ نام کے تین چہرے گیسٹ ہاؤس میں تشریف لائے۔ وہ لوگ ڈیرہ سچا سودا پریس کمیٹی کے ممبر ہیں اور انھیں نئے ویزٹرس کی معتبریت پرکھنے کا پورا حق ہے۔ آخر کار ہم نے طے کیا ہے کہ اگر سچ کی سودے بازی کے درشن کرنا ہیں تو ہمیں ہر طرح کا جھوٹ بولنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ وہ لوگ میری باتوںسے مطمئن ہوچکے تھے۔ کیا کسی نے فون سے کہیں کوئی انڈیکیشن دیا ہے، کیا بھگوان گرمیت رام رحیم سنگھ کو ہماے بارے میں بتا دیا گیا ہے؟ جگدیش سنگھ نے مارکیٹ کمیٹی کا گیسٹ ہاؤس چھوڑ کر ڈیرے کے اے سی گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرنے کی گزارش کی۔ یہاںڈیرے کی اپنی گرامر ہے اور لغت بھی۔ ڈیرہ کے احاطے میںسِرسہ کو سَرسا لکھا جاتا ہے۔ ’سچ کہوں‘ ڈیرے کا ڈیلی اخبار ہے۔ ہمیںبتایا گیا کہ ’سچ کہوں‘ کی ڈیڑھ لاکھ کاپیاں روزانہ پنجابی اور ہندی زبان میںچھپتی ہیں۔ میرے ہاتھ میں ’سچ کہوں‘ کا ایک خصوصی شمارہ ہے۔ تصویریں عالیشان قلعہ نما عمارتوں کی ہیں اور ان تصویروںکے بیچ میںخبر کا عنوان ہے گرلس اسکول یاپری لوک۔ شروع میں حیرت ہوئی لیکن جلدی ہی محتاط ہوگیا۔ یہ سچ کا ڈیرہ ہے، یہاں جھوٹ کچھ بھی نہیں ہے۔ یہاں ڈیرہ بیٹیوں کو پری کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔ ڈیرے کی قواعد میںبیٹی کو پری کہتے ہیں تو ہمیں کیا اعتراض؟

 

 

 

 

ڈیرہ کاتعارف
ڈیرہ آنے والے امیر سادھو سنگتوںکے لیے یہاںکی رنگین، حسین دنیا کا لطف لینا ضروری ہے۔ یہاںسویمنگ پل، جدید ترین جھولے اور ریستورانوںکی حسین دنیا بھی موجود ہے۔ 140 کمروں کا ایئر کنڈیشنڈ گیسٹ ہاؤس ہے۔ اندر کی دنیا آپ کو ایک لمحے کے لیے پھولوںکے گلدستہ کی طرح دکھائی دے سکتی ہے۔ دو سال قبل ڈیرے کے پانچ سادھو سنگتوںنے مل کر مہاراج جی کے آشیرواد سے یہ سب کچھ بنایا ہے۔ کشش ریسٹورنٹ میںہم کھانے کے لیے پہنچے تو وہاںکا نظارہ حیران کرنے والا تھا۔ دائیں بازو سیس کا گھیرا ہے اور گھیرے سے باہر پانی بھرا ہے۔ سیس پر پانی کا رنگ ہرا ہرا دکھائی دیتا ہے۔ باہر سے ہم مچھلیوںکی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ باہر واٹر سلیٹنگ، اسکیچنگ کرتی لڑکیا دکھائی دے رہی ہیں۔ ڈیرے کے اندر ایک سرے پر 200 سے زیادہ گائے بھینسیں بندھی تھیں۔ ان کے لیے باقاعدہ سیوادار دن و رات کام کررہے تھے۔ دوسری طرف انگور، سیب، چیکو، لیچی، لونگ، امرود، بادام، شہتوت اور ناریل کے درجنوں پیڑ لگے تھے۔ کئی لڑکیوں کو سادھوی کہنے کو کہا گیا۔ یہاں ڈیرہ پرمکھ گرمیت رام رحیم سنگھ کی تصویریں سجی تھیں۔ 23 سال کی عمر میںڈیرا پرمکھ بننے والے بابا گرمیت ابھی بھی نوجوان دکھائی دیتے ہیں۔ مسکراتے بابا،ٹریکٹر چلاتے بابا، پھاؤڑہ چلاتے بابا، الگ الگ پوز کے لیے الگ الگ رنگ برنگے لباس میں ہنستے کھلکھلاتے مہا راج تصویروںکی دنیا میں آج بھی خوب جمتے ہیں۔ پانی، پہاڑ، جنگل، اگتے سورج اور ڈوبتے سورج کو نہارتے مہاراج۔
یہاں پریس کمیٹی کا دفتر کافی منظم ہے۔ صحافیوں کی مہاپنچایت سے باہر ہوئے صحافی آج ڈیرے میں صحافت کررہے ہیں۔ ڈیرا سچا سودا کے لاکھو ں بھکت گرمیت رام رحیم سنگھ کو بھگوان مانتے ہیں، ان کے اوپر ایک سادھوی کا جنسی استحصال کرنے کا الزام ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک گمنام سادھوی کے خط کا رام چندر چھترپتی کی شہادت سے کیا رشتہ ہے؟ آخر وہ گمنام سادھوی کب تک گمنام رہے گی؟ جب اس نامعلوم سادھوی کے خط سے گرمیت رام رحیم کے قصے باہر آئے تو ہریانہ میںوبال مچ گیا۔ ڈیرا اور سماج آمنے سامنے کھڑے ہو گئے۔ چنڈی گڑھ ہائی کورٹ نے گمنام سادھوی کے خط کو بے حد سنگین مانتے ہوئے 24 ستمبر کو ڈیرا پرمکھ کے اوپر لگے الزاموں کی جانچ کے لیے سی بی آئی کو چھ ماہ کا وقت دیا۔ ڈیرا سچا سودا کی جانب سے ہائی کورٹ میںجن آٹھ سادھویوں کی عرضی داخل کرکے جانچ کی پرزور مخالفت کی تھی،ان میںسے ایک شیلا پونیا سے ملنا ہمارے لیے کافی اہم تھا۔ شیلا پونیا نے سی بی آئی کی معتبریت پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے ہریانہ پولیس کی سی آئی ڈی سے جانچ کرانے کا اصرار کیا تھا۔یہ الگ بات ہے کہ عدالت نے اس بے وقوفی بھری عرضی کو خارج کردیا تھا۔ شیلا پونیا اس گرلس اسکولس کی پرنسپل ہیں، جسے ڈیرے کے ترجمان ’سچ کہوں‘ نے پری لوک کا نام دیاہے۔ پونیا بتاتی ہیںکہ وہ انبالہ میں ایم اے ، بی ایڈ اور کمپیوٹر کورس کرکے اپنے ڈیرہ بھکت سابق جج والد کے رابطہ سے اس اسکول کی ٹیچر بنیں اور اب یہاں پرنسپل ہیں۔ شیلا پونیا سے بات چیت کرنے کے بعد ڈیرے کے بارے میں اور زیادہ جاننے کی بے چینی میرے دل میںہونے لگی۔ سب سے زیادہ خواہش ہمیںاس گپھا کو دیکھنے کی تھی جہاں ڈیرا پرمکھ رہتے ہیں۔
قلعہ نما گپھا
پریس کمیٹی کے لوگوںنے مجھ سے کہا کہ آپ کو گپھا کے اندر جانے کی ضد نہیں کرنی چاہیے۔ چلیے آپ کو باہر سے ہی دکھا دیتے ہیں۔ گپھا کے اندر ہے ہی کیا، جسے آپ دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہاں صرف دو کمرے کی کٹیا ہے۔ مہاراج جی کی سیدھی سادی زندگی ہے۔ رفتہ رفتہ ہم گپھا کی طرف بڑھ رہے تھے۔ دو اجلے چمکتے ہوئے ہاتھیوں کی آپس میںجڑتی ہوئی سونڈ داخلہ سے پہلے کا تورن دوار ہے۔ زمین کی سطح سے 40 فٹ کی اونچائی پر چمکتا ہوا ایک قلعہ تھا۔ یہاں ہر دس گز کی دوری پر سیکورٹی گارڈ تعینات تھا۔ اصل میںجسے لوگ گپھا کہہ رہے تھے، وہ دیکھنے میں پوری طرح قلعہ لگ رہا تھا۔ لوہے کے دروازے پر دھات سے تیار کیلے کے پیڑوں میںبڑے بڑے کیلے لٹک رہے تھے۔اس کے کنارے میں 25 فٹ اونچے دو ہنس کھڑے تھے۔ اس کے ٹھیک سامنے 15فٹ اونچا پیالہ تھا۔ سرسہ کے کچھ صحافیوںنے ہمیں پہلے ہی بتایا تھا کہ ڈیرے کے باہر ہر ماہ ایک دو نامعلوم لاشیں مل جاتی ہیں اور ڈیرے کے اندر بھی آخری رسوم کا بہتر انتظام ہے۔ ہم نے ڈیرے کے اندر چھترپتی کا نام کبھی نہیںلیا۔ ڈیرے کی یہ نام نہاد گپھا بڑے بڑے محلوںکو مات دے سکتی ہے۔ گپھا کے دروازے پر ہم نے دیکھا کہ کوئی شخص سیکورٹی اہلکاروںکو ہدایت دے رہا تھا۔ بائیںطرف کچھ خوبصورت سادھوی بہنیںاپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں۔ ڈیرے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ گپھا کے اندر کوئی نہیں جاسکتا، تو پھر سادھوی بہنیں وہاںکیا کر رہی تھیں؟ رات ڈھلتی جارہی تھی، گپھا کی خوبصورتی میںاضافہ ہوتا جارہا تھا۔ یہاںکافی دیر گھومنے کے بعد ہم واپس اسی کشش ریسٹورنٹ میںآئے۔سارا نظارہ دیکھ کر ہمیں ڈیرہ سچا سودا کی اصلیت کا پتہ چلا۔ بھگوان ،سادھوی اور ڈیرا یعنی ہم جو دیکھ رہے تھے، وہی آپ کو دکھارہے ہیں۔ جو مذہبی جانکار ہیں، وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کلیگ میں بھگوان کا یہ اعتدال پسند ایڈیشن ہے۔ چھترپتی کا قتل اگر بھگوان کے حکم پر ہوا تو کیا جمہوریت میںاس قاتل کے لیے کوئی سزا نہیں ہے؟ چھترپتی کی شہادت کو اگر آپ سلام کہنے کی ہمت رکھتے ہیں تو صاف صاف کہیے کہ یہ دھرم کا ڈیرا نہیں، دھرم کا دھوکا ہے۔ یہاں چاروں طرف فریب ہے اور اسی کی آڑ میں چل رہا ہے زنا کا کھیل۔
شیلا پونیا سے چند سوال و جواب
آپ ڈیرے کی تنخواہ دار پرنسپل ہیں؟
نہیں ،میں سادھوی ہوں۔
اکیلی زندگی میںکوئی نوجوان لڑکی کیس جوائے فیل کرسکتی ہے؟
میرے گروجی مکمل سنت ہیں، اس لیے میںمطمئن ہوں۔
کیا آپ اسکولی لڑکیوںکو بھی سادھوی بننے کے لے ترغیب دیتی ہیں؟
سب کو ان کی منزل بتا دی جاتی ہے۔ اپنی راہ چننا سب کی مرضی پر ہے۔ یہاں 2000لڑکیاں ہیں، کسی پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ کناڈا میںرہنے والے والدین بھی اپنی بیٹیوںکو یہاںبھیج کر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
شادی شدہ زندگی کے بغیر آپ کے اطمینان کا راز کیا ہے؟
اب مجلس کا وقت ہورہا ہے،بابا جی وہاںسے سارے سوالوں کا جواب دے دیںگے۔
میدھاوی لڑکیوں کا سلیکشن اچھا ہے، سب خوبصورت ہیں۔۔۔
جو خوبصورت ہوتی ہے، وہی میدھاوی ہوتی ہے، آپ بھی مجلس میںچلیے،آپ کو پتہ چل جائے گا کہ بابا جی سچ مچ مکمل سنت ہیں۔
مجلس کی عظمت اور گپھا
مجلس لگی ہے۔ دس ہزار سے زیادہ لوگو ں کی بھیڑ۔ عورتیںایک طرف، مرد دوسری طرف۔ ٹین کی چادروںکی مستقل چھت۔ مہاراج سنہاسن پر براجے تو سب نے ہاتھ جوڑ کر ، آنکھ بندکر ماتھے کو زمین پر نوایا۔ پسینے سے تربتر سیوا دار پنکھا جھلتے تھکتا ہے تو دوسرا کھڑا ہوجاتا ہے۔ ابھی جو سیوا دار بھگوان کو پنکھا جھل رہا ہے، ایک ریٹائرڈ جج ہے، ایسا بتایا گیا۔ بھگوان گپھا سے نکلے تھے،پھر گپھا میںسما گئے۔ یہ پوچھنے پر کہ کیا اب ہم بھگوان سے ملاقات کر سکتے ہیں؟ پریس ترجمان آدتیہ اروڑا کہتے ہیں، حضور بھگوان کی طرف سے ہم ہرسوال کا جواب دیںگے۔
لیکن ہمیںتو اپنے سوالوںکے جواب بھگوان سے چاہیے،کیونکہ ملزم وہ ہیں۔۔۔
ہمارے ڈیرے کا اپنا پروٹوکول ہے۔ سنتوں، فقیروں کی اپنی زندگی ہوتی ہے۔ سنتوںکے پاس رام نام کا دھن ہوتا ہے، انھیںناپنے کا ایک ہی پیمانہ ہے۔ سنتوں نے جو راہ دکھائی ہے، اس پر چلا جائے۔
ملک میںزیر زمین لڑائی لڑنے والے نکسلی بھی اپنی زندگی خفیہ نہیں رکھتے، پھر کسی سنت فقیر کی صاف زندگی کو چھپانے کی ضد کیوں؟
بابا جی جہاںرہتے ہیں ، وہاں تک جانے کی مجھے بھی اجازت نہیںہے، پھر آپ کیسے جاسکتے ہیں؟ کسی گھر کے قاعدوں میںمداخلت ٹھیک نہیں۔ آپ پریشان مت کریے۔ آپ ای ۔میل سے سوال کریے،صحیح صحیح جواب دیا جائے گا۔
گپھا کے اندر جاکر حضور سے ملنے پر پابندی کیوں؟
بابا جی کنسٹرکشن کے کاموںکو خود دیکھتے ہیں،پھر مجلس کی مصروفیت الگ۔وہ بہت تھک جاتے ہیں۔ سنت فقیر کو اس کے گرو وچن سے جانیے-پرکھیے۔
گپھا کے اندر جانے کی اجازت نہ دینے سے ڈیرے کی تئیںغلط فہمی بڑھتی ہے۔۔
آپ کچھ بھی لکھنے کے لیے آزاد ہیں، لیکن مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے بچنا چاہیے۔ بابا جی کی گپھا کے اندر ملک کے کسی پریس، کسی صحافی کوداخلے کی اجازت نہیںہے، اس کی ملک بھر میںتشہیر کردیجئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *