فرقہ پرست قوتیں سیکولرازم کا گلا گھونٹ دینے پر آمادہ: مولانا ارشد مدنی

Share Article
maulana-arshad-madani
سیکولر سیاسی قوتوں کی لا پروائی اور بے حسی کے نتیجہ میں فرقہ پرست قوتیں آج اتنی مضبوط ہو گئی ہیں کہ وہ ملک کے سیکولرازم کا گلا گھونٹ دینے پر آمادہ ہیں۔آرایس ایس اور بی جے پی ملک کو ہندوراشٹر میں تبدیل کر دینا چاہتی ہیں، چونکہ ان کے پاس دستور تبدیل کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں تین چوتھائی اکثریت نہیں ہے ا سلئے 2019میں ان کا نشانہ ’مشن 380‘ ہے، اگر یہ قوتیں اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو گئی تو اقلیتوں کا اپنے مذہی تشخض کے ساتھ زندہ رہ پانا بہت مشکل ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک بھر میں قومی یکجہتی کانفرنسوں کا انعقاد کرکے پیار و محبت کو فروغ دے کر سیکولرازم کو مضبوط کیا جائے تاکہ ملک کے ملک کے سیکولراور مذہبی غیر جانبدار کردار کا تحفظ کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار گذشتہ رات 30نومبرکوجامعہ نگر کے ابوالفضل انکلیو واقع ملّی ماڈل اسکول میں جمعیۃ علما ہند صوبہ دہلی کے تحت منعقد’قومی یکجہتی کانفرنس‘میں بطورر مہمان خصوصی کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کیا۔کانفرنس کی صدارت صوبہ دہلی کے صدر محمد مسلم قاسمی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ناظم عمومی صوبہ دہلی مفتی عبدالرازق نے انجام دئے۔
مولانا ارشد مدنی نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علما ہند سابقہ حکومتوں اور سیکولرسیاسی جماعتوں کو فرقہ پرست تنظیموں کی فرقہ وارانہ اور تعصبانہ سرگرمیوں سے آگاہ کراتے رہے اور انہیں یہ بھی باور کرایا کہ اگریہ فرقہ پرست قوتیں مضبوط ہوئیں تو سا رہ خمیازہ ان پارٹیوں کو بھی اٹھانا پڑے گا لیکن کسی نے اس تعلق سے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا۔ جس وقت ان فرقہ پرست قوتوں کا گلا دبایا جا سکتا تھا تب انہیں چھوٹ ملی رہی اور یہ فرقہ پرست قوتیں اب اتنی مضبوط ہو گئی ہیں کہ وہ سیکولر ازم کا گلا دبا دینے کے درپے ہیں۔مولانا مدنی نے کہا کہ اگر ان کا مشن 380مکمل ہو گیا تو ان کا پہلا کام ملک کے سیکولر دستور کو ختم کرنے کا ہوگا تب مسلمان ہو ں یا عیسائی یا پھردلت یا سکھ کوئی بھی اپنے مذہبی تشخص کے ساتھ زندہ نہیں رہ پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دستور کو سیکولر بنوانے میں جمعی? علماء4 ہندنے بہت اہم کردار ادا کیا تھا اور ہم اپنے اکابرین کی اس محنت کو یونہی ضائع نہیں جانے دیں گے اور اپنی جانب سے آخری وقت تک مزاہمت اور جد و جہد کریں گے۔ مولانا مدنی کہاکہ ملک کی فرقہ پرست قوتیں آج وہی سیاست کر رہی ہیں جو تقسیم سے قبل مسلم لیگ نے کی تھی۔ مسلمانوں کو دہشت گردی کے فرضی معاملات میں پھنسائے جانے اور انہیں برسوں تک جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے رکھنے کے لئے یو پی اے حکومت کے وزیر داخلہ شیو راج پاٹل کو ذمہ دار ٹھرایا اور کہا کہ بی جے پی اور اآر آر ایس سے مسلمانوں کو 70سال میں اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا کہ شیو راج پاٹل نے تین سال میں پہنچایا اور ہر مسلمان کو دہشت گرد بنا دیا۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یوپی اے 2کیوقت میں جب انہیں راہل گاندھی سے ملاقات کا موقع ملا تو انہوں نے تمام صورتحال ر اہل کو سمجھائی۔ مولانا مدنی نے کہا کہ راہل نے کئی معاملات میں سنجیدگی سے مدد کی کوشش کی لیکن فرقہ پرست لابی ان کے بھی آڑے آ گئی۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علما ہند تقسیم سے پہلے سے ہی مسلمانوں اور برادران وطن کے درمیان دوریاں کم کرنے اور پیار، محبت اور اتحادکو فروغ دینے کے لئے کام کرتی رہی ہے اور آج بھی اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ ا س کانفرنس کے انعقاد کے لئے انہوں نے جمعیۃ کے صوبہ دہلی کے عہدیداران اور کارکنان کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ مذہب سے اوپراٹھ کر انسانیت کی بنیاد پرپیارو محبت کی تاریخ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم یورپ کے ممالک میں جائیں تو شہر سے باہرنکلتے ہیں قصبوں اور گاؤں میں صرف وہاں کے مقامی باشندے جن کی زبان اور مذہب بھی ایک ہی ہوتا ہے نظر آتے ہیں لیکن یہ خاصیت صرف ہندوستا ن میں ہی ہے کہ آج دوردراز کہ گاؤں میں چلے جائیں وہاں آپ کو ہندو کے ساتھ مسلمان بھی ملیں گے سکھ اور عیسائی بھی ہوں گے اوربودھ اور پارسی بھی لیکن ا ن کے مذہب الگ ہونے کے باوجود ان کا کھانا پینا، رہن سہن، زبان اور سکھ دکھ مشترک ملیں گے۔یہی وجہ ہے کہ تمام کوششوں کے باوجود فرقہ پرست قوتیں ملک کے اتحاد اوربھائی چارہ کو ختم کرنے میں ناکام رہیں۔اس موقع پرخطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے صدر صوبہ دہلی مولانا محمدمسلم قاسمی نے کہا کہ ہمارا مقصد ملک کے گوشے گوشے میں صدر جمعی? مولانا ارشد مدنی کا بھائی چارہ، قومی یکجہتی،امن و اتحاد کاپیغام پہنچانا ہے۔
اس سے قبل مفتی عبدالرازق ناظم اعلیٰ جمعیۃعلماء صوبہ دہلی نے کہا کہ ملک کی سالمیت اور امان وامان کے لئے قومی یکجہتی پروگرام کرنا ضروری ہے تاکہ آپ کی نفرتیں پیارومحبت میں تبدیل ہوجائیں۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد کہا کہ ا س ملک میں قومی یکجہتی کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ ملک کی یکہجتی کو کوئی نہیں توڑ سکتا کیونکہ مسلمان کے لئے اپنے خون کا آخری خطرہ تک دینے کوتیار ہیں۔انہوں نے ملک کی موجود ہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا ایک طقبہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کو ایک حدکے اندر قید کر دیا جائے جبکہ ہونا یہ چاہئے کہ مسلمان نوجوان ہمت و حوصلہ کے ساتھ اپنے غیر مسلم دوستوں کی تعداد میں اضافہ کریں اور ان قوتوں کو کامیاب نہ ہونے دیں جو انہیں الگ الگ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ملک کی یکجہتی اوراتحاد کے لئے جمعیۃعلما ہند کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے ا سکی ستائش کی۔معروف آریہ سماجی رہنما سوامی اگنی ویش نے کہا کہ قوی یکجہتی اور بھائی چارہ کے لئے وہ برسو سں سے جمعیۃ کے ساتھ مل کرکا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری انسانیت ایک کنبہ کی طرح ہے اور انسان انسا ن میں تفریق اسلام بھی نہیں سکھاتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہر طرح کی دہشت گردی کی مخالفت کرنی چاہئے۔ دہشت گرد کا نہ تو کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ کوئی کردار اس لئے ہم سب کو مل کر انہیں بے نقاب کرنا چاہے۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کہا کہ انسان جو پوری دنیا کو جوڑنے کے لئے آیا تھا اسے اتفاق اوراتحاد کی دعوت دی جائے،یہ افسوس کا مقام ہے۔ آج جب ہم قومی یکجہتی کانفرس یا دہشت گردمخالف کانفرنس کا انعقاد کرتے ہیں تو یہ سوال اٹھائے جاتے ہیں کہ آخر مسلمان ہی کیوں یہ سب کرے؟مولاناسلفی نے کہا کہ ہاں یہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کیونکہ اللہ نے ہمیں آگہی بخشی ہے اور یہ کا م بھی ہمارے ایما ن اورتبلیغ کاایک حصہ ہے۔جمعی? کے صوبہ پنجاب وہریانہ کے صدر مولانا خالد قاسمی نے کہا کہ انسان کو اپنے اخلاق و کردار پرتوجہ دینی چاہئے۔ ہر مذہب پیار محبت اور امن کی تلقین کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے 90فی صد لوگ امن،چین اور محبت سے رپنا چاہتے ہیں۔اس موقع پر عیسائی دانشور پی آر جوس کے علاوہ مولانا محمد فرقان قاسمی، مفتی صغیر احمد، مفتی محمد قاسم قاسمی، مولانا عبدالحکیم قاسمی وغیرہ نے اظہار خیال کیا۔
اہم شرکامیں قاری محمد انورجامعی، مفتی اسرارالحق، قاری محمد ساجد فیضی، مولانا محمد عمرقاسمی، مولانا محمد شمیم، مولانا محمد عبدالسلام، قاری اسرارالحق، قاری چودھری محمد اسلام، مولانا انتظارحسین مظاہری، قاری محمد فیضان جامعی، مفتی عیاض مظاہری، ڈاکٹر مولانا عبدالکریم، مفتی محمد مستقیم قاسمی، قاری محمد صادق، مولانا محمد شوکت مولانا محمد ساجد، مولانا محمد راشد، مفتی عبداللہ،مفتی حسام الدین، قاری عبدالمنان، قاری عبدالرزاق، مولانا محمد عرفان، قاری محمد دلشادقمر، الحاج سلیم احمد رحمانی، مولانا جمیل احمد، قاری فضل الرحمن وغیرہ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *