آسٹریلیا میں نسلی تشدد کیا صل سچائی

Share Article

ششی شیکھر

آسٹریلیا ئی ہائی کمیشن کا کارنامہ
ہندوستانی میڈیا رپورٹرس کے مطابق، پچھلے کچھ سالوں میں آسٹریلیامیں پڑھنے گئے سینکڑوں طلباء پر حملے ہوئے، جن میں کچھ کی موت بھی ہو گئی۔ اس مسئلے کو لے کر دونوں ملکوں کی سرکاروں کی بے حسی بھی دکھائی دی۔ ایک طرف آسٹریلیا میں طلباء پر حملے ہوتے رہے تو دوسری طرف وہاں کے لیڈر دہلی آکر طلباء کو آسٹریلیا آکر پڑھنے کی دعوت دیتے رہے، اس یقین دہانی کے ساتھ کہ نسلی تشدد کے معاملے میں ان کی سرکار کی پالیسی زیرو ٹا لرنس والی ہے ، لیکن جینت ڈاگور کی کہانی ان سبھی دعووں کی پول کھولتی نظر آتی ہے۔ یہ کہانی شروع ہوتی ہے 1989 سے، جب جینت اپنے جڑواں بھائی آنند ڈگور کے ساتھ دہلی میں آسٹریلیا ئی ہائی کمیشن میں شیف ویزا کے لئے درخواست دیتے ہیں۔ ایک ہی ادارہ ( پوسا کیٹرنگ کالج، دہلی) سے پڑھے ان دونوں بھائیوں میں سے آنند کو تو ویزا مل جاتا ہے، لیکن جینت کو یہ کہہ کر ویزا دینے سے منع کر دیا جاتاہے کہ ان کی ڈگری ریکوگنائزڈ نہیں ہے۔ غور طلب ہے کہ اس وقت ویزا دی جانے والی درخواست کے ساتھ 500 ڈالر کی رقم بھی جمع کرانی پڑتی تھی، جو واپسنہیں کی جاتی تھی۔ آنند نے آسٹریلیا جانے کے بعد اپنے بھائی جینت کو ویزا دلوانے کی کافی کوشش کی، لیکن وہ ناکام رہا۔

یہ کہانی ایک ایسے بلند حوصلہ اور جدوجہد کرنے والے ہندوستانی کی ہے، جسے لوگ جینت ڈاگور کے نام سے جانتے ہیں ،جس نے ہندوستان میں رہ کر اپنی ضد سے آسٹریلیا کی سرکار کو جھکا دیا۔ ایک ایسی جدوجہدیا لڑائی ، جس کے لئے عام آدمی کے پاس نہ وقت ہوتا ہے اور نہ حوصلہ۔ جینت کی یہ لڑائی آسٹریلیا پہنچ کر بھی ختم نہیں ہوئی، لیکن وہ وہاں جاکر اپنی جیتی ہوئی بازی ہار گیا۔ یہ کہانی صرف اکیلے ہندوستانی کی نہیں ہے۔ جینت جیسے اور بھی سینکڑوں لوگ ہیں،جو اپنی آنکھوں میں سنہرے مستقبل کا خواب سجا کر آسٹریلیا جاتے ہیں ۔لیکن جب رنگ و نسل کی تفریق کے حملے میںان کے سپنے ٹوٹتے ہیں ، تب نہ آسٹریلیا کی پولیس، وہاںکی سرکار ، میڈیا، یا عدالت ان کا ساتھ دینے کے لئے آگے آتی ہیں اور نہ ان کی خود کی ہندوستانی سرکار ۔ آسٹریلیا میں رہنے والے ہندوستانیوں کے خلاف نسلی تشدد کے پیچھے کے اصل اسباب ، ثبوتوں اور ذمہ دار اداروں کی پول کھولتی ہے چوتھی دنیا کی یہ خاص رپورٹ۔

پھر دونوں بھائیوں نے مل کر کچھ ایسے شیف کے بارے میں پتہ کیا، جن کے پاس نہ تو مناسب ڈگری تھی اور نہ تجربہ، لیکن انھیں آسٹریلیا کا ویزا مل گیا تھا۔ انہوں نے وہ خبر آسٹریلیا کے ایک اخبار میں شائع کروائی۔ خبر چھپنے کے بعد اس وقت کے امیگریشن منسٹر ’نِکبو لکس‘ نے فیڈرل پولیس کے دو افسروں کو جانچ کے لئے دہلی بھیجا۔ پولیس افسروں نے دہلی آکر جینت سے بات کی۔ جانچ کے بعد، نک بولکس نے خط لکھ کر آسٹریلائی ہائی کمیشن کو جینت کا معاملہ دیکھنے کو کہا اور شیف ویزا دینے کا بھی حکم دیا۔ پہلے تو ہائی کمیشن نے بولکس کے خط کو بھی نظر انداز کیا ، لیکن جب جینت کے بھائی آنند نے آسٹریلیا میں اس معاملے کو عدالت میں لے جانے کی تیاری کی ،تب اچانک ہائی کمیشن کی طرف سے جینت کو 1996 میں ویزا دے دیا گیا۔ اس سلسلے میں جینت ڈاگور چوتھی دنیا کو بتاتے ہیں کہ دراصل آسٹریلیا ہائیکمیشن میں ویزا دینے کو لے کر ایک زبردست ریکٹ چل رہا ہے۔ موٹی رقم لے کر بنا کسی ڈگری یا کم تجربہ والے لوگوں کو بھی ویزا د ے دیا جاتا ہے۔ اس کی تصدیق تو خود آسٹریلیا کی اس وقت کی امیگریشن منسٹری کے خط کے مضمون کو پڑھ کر ہی ہو جاتی ہے۔
گور ے شیف کا حملہ
اس کے بعد، یہ کہانی ہندوستان سے شروع ہوکر آسٹریلیا پہنچتی ہے۔ 1996 میں جینت مستقل شیف کا ویزا لے کر آسٹریلیا پہنچتے ہیں۔ وہاں پہنچتے ہی وہ ملبورن میں واقع ’این او او ایس آر‘ محکمہ سے اپنے تعلیمی کاغذات کی جانچ کرواتے ہیں۔یہ کارروائی لازمی ہوتی ہے۔ اس سرکاری محکمے نے جینت کے تعلیمی کاغذوں کی جانچ کر کے اس کو مستند بتایا اور آسٹریلیامیں نوکری کے لئے منظور شدہ بتایا۔ دھیان دینے کی بات ہے کہ انہی کاغذوں کو غیر مستند و غیر تسلیم شدہ بتا کر دہلی میں آسٹریلیائی ہائی کمیشن نے جینت کو ویزا دینے سے کئی بار منع کر دیا تھا۔ ’چوتھی دنیا‘ کے پاس یہ تمام دستاویز ثبوت کے طور پر موجود ہیں۔ اس کے بعد کچھ وقت تک ادھر ادھر کام کرنے کے بعد جینت ڈاگور کوملبورن میں واقع کیری پیکر کے فائیو اسٹار ہوٹل ’کرائون کیسنو ‘میں سینئر شیف کی نوکری مل گئی۔ لیکن یہاں کے ایک انگریز شیف، جس کا نام مائکل شیلٹن تھا اور جینت سے سینئر تھا، اسے جینت پسند نہیں تھے۔ اس لئے وقت بے وقت وہ جینت کو برا بھلا کہتا رہتا تھا۔ جینت بتاتے ہیں کہ تنگ آکر انہوں نے اس کی شکایت ایچ آر منیجر’ڈیرن ہلڈ رڈ ‘سے کی، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بقول جینت ان کا سینئر جان بوجھ کر ان سے زیادہ کام لیتا تھا۔ جینت بتاتے ہیں کہ طاقت سے زیادہ کام کرنے، وزن اٹھانے ، کام کے دوران بریک نہ لینے کی وجہ سے انہیں اپنے دونوں ہاتھوں میں ’کارپل ٹنل‘ کی شکایت ہو گئی اور انہیں اس کا آپریشن کروانا پڑا۔ ڈاکٹروں نے بھی اس بات کو صحیح مانا اور ڈاکٹروں کی صلاح پر ہی انہیں یہ آپریشن کروانا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ ایک دن ، ان کے سینئر نے ان پر بھاری بوجھ (فریج میں جما ہوا دس کلو سخت چکن) سے حملہ بھی کیا ،جس میں وہ بال بال بچ گئے۔ چشم دید گواہ ہونے کے بعد بھی جب جینت نے اس کی شکایت ہوٹل کے ایچ آر محکمے سے کی تب بھی کچھ نہیں ہوا۔ جینت نے تب اس کی شکایت آسٹریلین ہاسپٹیلٹی یونین کے یہاں کی۔ پھر بھی کچھ نہیں ہوا۔
کرائون کیسنو اور لا ء فارم
ایک ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد بھی ’کرائون کیسنو ہوٹل‘ کی طرف سے جینت کے معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ پھر ہاسپٹلیٹی یونین والوں نے انہیں ایک لا ء فارم کے پاس بھیجا ۔ اس لا ء فارم کا نام تھا ’’ سلیٹر اینڈ گورڈن ‘‘ جو اسی طرح کے معاملے کو دیکھتا تھا۔ یہاں پر جینت ایک بہت ہی دلچسپ واقعہ کا ذکر کرتے ہیں۔ بتاتے ہیں کہ اسی ہوٹل انتظامیہ نے ایک گورے شیف کو اپنے جونیئر گورے شیف کو محض دھکا دینے کے الزام میں نوکری سے نکال دیا تھا، لیکن میرے معاملے میں ہوٹل منیجر کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔یہاں تک کہ لا ء فارم نے جینت کا کیس لیا ۔اس نے بھی چار سالوں تک اس کیس میں کچھ نہیں کیا۔ جینت نے وہ سبھی میڈیکل رپورٹس ، جو چیخ چیخ کر اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کہ جینت کے ساتھ اس کے سینئر نے غلط کیا ہے اور جس کی وجہ سے جینت کو جسمانی اور ذہنی اذیتوں سے گزرنا پڑ رہا ہے ، مذکورہ لاء فارم کو دی تھیں، لیکن لاء فارم کے وکیلوں ’’ڈیانا اگوستونیلی اور رڈیوڈ موڈی‘‘ کا کہنا تھاکہ آپ کا کیس مضبوط نہیں ہے، اس لئے کچھ نہیں ہو سکتا۔ سوال ہے کہ اتنی چھوٹی سی بات بتانے میں مذکورہ لاء فارم کو آخر چار سال کیوں لگ گئے۔ ان حالات کے سبب جینت کی نوکری بھی چھوٹ گئی تھی اور انہی میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر جینت کوآسٹریلیائی سرکار انہیں ڈس ایبلٹی سپورٹ پنشن بھی دے رہی تھی۔ غور طلب ہے کہ اب تک جینت آسٹریلیا کی شہریت بھی حاصل کرچکے تھے اور ایک آسٹریلیا ئی خاتون ’انا ماریا ‘سے ان کی شادی بھی ہو چکی تھی۔ جسمانی ، ذہنی اور مالی طور پر ٹوٹ چکے جینت کافی لمبے وقت تک ہندوستان بھی نہیں آسکے اور اپنے خاندان والوں سے بھی نہیں مل سکے۔
آسٹریلیائی سرکاری میڈیا
لیکن جینت نے ہار ماننے کے بجائے اپنی لڑائی جاری رکھی ،جو آسٹریلیائی میڈیا بلی اور کتے کے مرنے کی خبر کو اہمیت کے ساتھ چھاپتی ہے ،اس کے پاس بھی جینت نے اپنی بات رکھی۔ سبھی میڈیا والوں نے جینت کا کیس سنا، لیکن اسے نہ کہیں شائع کیا اور نہ ہی نشر کیا ۔ جولائی 2009 میں جینت نے آسٹریلیا کے وزیر اعظم‘ اور نائب وزیر اعظم ’جولیا گیلارڈ ‘کو خط لکھ کر انصاف کی مانگ کی ،و زیراعظم’ کیون رڈ‘ نے تو خط کا جواب بھی دیا لیکن ’جولیا گیلارڈ‘ کی طرف سے کوئی جواب تک نہیں ملا۔ غور طلب ہے کہ یہ وہی ’جولیاگیلارڈ‘ ہیں ،جو اگست 2009 میں دہلی آ کر لیڈی شری رام کالج میں ہندوستانی طالب علموں کی سیکورٹی کو لے کر لمبے چوڑے دعوے کر رہی تھیں۔ ظاہر ہے ، جینت آسٹریلیا کے شہری ہوتے ہوئے بھی وہاں کے میڈیا اور سرکار کے خلاف اس لئے اہم نہیںتھے کیونکہ وہ ایک ہندوستانی تھے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل
جینت اپنے لئے انصاف کی مانگ کرنے ایمنسٹی انٹرنیشل جیسی تنظیم کے پاس بھی گئے۔ سال 2000 میں جب وہ ایمنسٹی انٹرنیشنل پہنچے، تب ان سے کہا گیا کہ چھہ سال سے کم پرانا کیس نہیں لیا جاسکتا ہے ۔اور جب وہ 2006 میں اپنا کیس لے کر وہاں پہنچے تب ان سے کہا گیا کہ دو سال سے زیادہ پرانا کیس نہیں لیا جاتا۔2010 میں جینت نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے لندن دفتر میں اپنی شکایت جنرل سکریٹری’ سلل شیٹی ‘کے پاس رجسٹرڈ ڈاک سے بھیجی۔ لیکن ایک سال تک کوئی کارروائی ہوئی ،الٹے جینت کو ایمنسٹی لندن دفتر سے ایک خط ملا، جس میں لکھا تھا کہ جینت نے ان کے پاس جو کاغذات بھیجے تھے، وہ کھو گئے ہیں ۔ جبکہ پہلے انہی کاغذات کی وصولیابی کی رسید مل چکی تھی۔ جینت کہتے ہیں کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی یہ حالت تب ہے ،جب کارروائی کرنے کے لئے ذمہ دار آفیسر ایک ہندوستانی ’سلل شیٹی‘ اس دفتر میں اعلیٰ عہدے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔
ہندوستانی سرکار کا رویہ
اگست 2010 میں جینت جب ہندوستان آئے تھے، تب انہوں نے اپنے ساتھ ہوئی زیادتیوں کی شکایت پی ایم او، وزارت خارجہ، میں بھی کی۔ پی ایم او سے جینت کو چار خط ملے کہ کارروائی کے لئے آپ کے خط کو آگے بھیج دیا گیا ہے ،لیکن کارروائی کے نام پر کچھ نہیں ہوا۔ آخر انہوں نے رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کے تحت ایک درخواست دے کر اپنے شکایتی خط پر ہوئی کارروائی کے بارے میں جاننا چاہا ،لیکن بجائے اطلاع دینے کے ان سے کہہ دہا گیا کہ وہ چونکہ آسٹریلیا کی شہریت حاصل کرچکے ہیں، اس لئے اطلاع فراہم نہیں کرائی جا سکتی ۔ سینٹرل انفارمیشن کمشنر نے اپنے فیصلے میں بھی اس کا صاف صاف ذکر کیا اور اس طرح اپنے ملک سے بھی راحت ملنے کی جینت کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔
بہر حال ، جینت ڈاگور کی اس کہانی کا پیغام بڑا صاف ہے کہ اگر آپ آسٹریلیا جیسے ملکوں میں روزگار پانے یا تعلیم پانے کے لئے جاتے ہیں ،تو وہاں آپ کو اپنی حفاظت ، اپنی عزت، اپنی روایت ، اپنے وقار کی حفاظت خود کرنی ہوگی۔ غیر ملکی سرکار سے تو امید کرنا بیوقوفی ہے ہی، آپ اپنی سرکار سے بھی کوئی امید نہیں کر سکتے ۔ ایسے معاملوں کے لئے وزارت بھلے ہی بن گئی ہو، اس مد میں بھاری رقم بھی خرچ ہو رہی ہے ، آسٹریلیا میں سفارت خانہ چلانے کے نام پر اربوں کا خرچ ضرور کیا جا رہا ہے ،لیکن کسی ہندوستانی طالب علم یا ہندوستانی ورکر کو پریشان کیا جاتا ہے یا اس پر حملہ ہوتا ہے، تو ہندوستانی سرکار سوائے گائڈ لائن جاری کرنے، یا صلاح دینے کے کچھ نہیں کر سکتی ہے۔ یعنی مجموعی طور پرجیسے ہندوستانی عوام یہ مان کر چل رہے ہیں کہ یہ ملک بھگوان بھروسے چل رہا ہے ،اسی طرح آپ بھی اگر آسٹریلیا پڑھنے یا کام کرنے جاتے ہیں، تو کم سے کم اپنی سرکار بھروسے نہ جائیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *