ای وی ایم کو لے کر رابڑی دیوی نے ٹویٹ کرکے اٹھائے سوال

Share Article

rabri-devi

پٹنہ: لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے سے قبل آئے ایگزٹ پول سے گھبرائے اپوزیشن پارٹی اب ای وی ایم کا سہارا لے کر نیا پار لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔کئی ریاستوں کے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ای وی ایم کی خرابی کے الزامات کو ہوا دی جا رہی ہے، اگرچہ الیکشن کمیشن نے منگل کو بیان جاری کر کے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ کمیشن نے دعوی کیا ہے کہ جہاں بھی مسئلہ تھا، وہاں تمام معاملات کو سلجھا لیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے بیان کے بعد بھی لوک سبھا انتخابات کی ووٹوں کی گنتی سے پہلے ای وی ایم کی خرابی کا الزام لگاتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی نے کئی ٹویٹ کر کے الیکشن کمیشن سے سوال پوچھا ہے۔ رابڑی دیوی نے اپنے پہلے ٹویٹ میں لکھا ہے’ملک بھر کے اسٹرانگ روم کے ارد گرد ای وی ایم کی برآمدگی ہو رہی ہے۔ ٹرکوں اور نجی گاڑیوں میں ای وی ایم پکڑی جا رہی ہیں۔ یہ کہاں سے آ رہی ہیں، کہاں جا رہی ہیں؟ کب، کیوں، کون اور کس لئے انہیں لے جایا جا رہا ہے؟ کیا یہ پہلے سے مقرر عمل کا حصہ ہے؟ الیکشن کمیشن کو بہت جلد واضح کرنا چاہئے۔

انہوں نے اگلے ٹویٹ میں لکھا ہے ’سی بی آئی،ای ڈی کی طرح الیکشن کمیشن نے بی جے پی سے پہلے ہی مل چکاہے،اور بے شرمی سے کام کر رہا ہے۔ ووٹنگ کے دن تیجسوی یادو کو فرضی طریقے سے پھنسانے اور بدنام کرنے کے لئے اس کی جگہ کسی اور کی تصویر لگا دیا گیا تاکہ بے وجہ تنازعہ پیدا کرکے رکاوٹ پیدا کیا جائے۔


رابڑی دیوی نے اپنے تیسرے ٹویٹس میں تیجسوی یادو کی طرف سے ووٹ نہ کر پانے پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کے ساتھ الیکشن کمیشن کا ایسا سلوک بدقسمتی کی بات ہے۔ سوچئے عام ووٹر کے ساتھ کیسا ہوگا؟ الیکشن کمیشن نے تیجسوی کی جگہ کسی اور کی تصویر لگانے کے معاملے میں کیا کاروائی کی؟ اس کا مجرم کون ہے؟ تیجسوی کے ساتھ ہی ایسا کیوں کیا گیا؟ کیا سازش رچی جا رہی تھی؟
رابڑی نے آخری ٹویٹس میں اپنی بیٹی روہنی کے ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونے پر بھی سوال کیا ہے۔انہوں نے لکھاکہ میری بیٹی روہنی ووٹنگ سے ایک دن پہلے سنگاپور سے چل کر پٹنہ آئی لیکن ووٹر لسٹ سے اس کا نام غائب تھا۔ الیکشن کمیشن افسر بتائیں اس کا نام فہرست میں سے کیوں اور کس لئے کاٹا گیا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *