ریسرچ کے معیار سے تعلیمی اداروں کی اہمیت واضح ہوتی ہے: پروفیسر احرار حسین

Share Article

 

ریسرچ میں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹکنالوجی کی کافی اہمیت ہے ،اور اس کے ذریعہ ہی ریسرچ میں پختگی آتی ہے اور یہی سے ریسرچ کے رموز و ضوابط سے آگہی ہوتی ہے ان خیالات کا اظہار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سنٹر فارڈسٹنس اینڈ اوپن لرننگ کے ڈائریکٹر(اکیڈمک ) پروفیسر احرارحسین نے کیا۔ انہوں نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہا کہ کسی بھی ادارہ میں ریسرچ کے معیار سے اس ادارے کی اہمیت واضح ہوتی ہے کیوں کہ ریسرچ ایک ایسا شعبہ ہے جس کے ذریعہ نئی جہت وا ہوتی ہیں ، ملک میں یسرچ بڑے پیمانے پر کئے جارہے ہیں تاہم معیاری ریسرچ کی قدر و منزلت ہوتی ہے اور اس کی پہچان اور شناخت میں دشواری بھی نہیں ہوتی ۔پروفیسر حسین نے کہا کہ ڈسٹنس اینڈ اوپن لرننگ میں بھی ریسرچ کو فروغ دئیے جانے کی جانب پہل کی جانی چاہئے تاکہ ریسرچ میں اجافہ ممکن ہوسکے۔پروفیسر حسین نے آئی سی ٹی ،سوشل نیٹ ورکنگ ،موبائیل ٹکنالوجی ،ویئریبل ٹکنالوجی پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کی اوپن اینڈ ڈسٹنس ایجوکیش سے تعلق کو واضح کیا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ارجن سنگھ سنٹر فار ڈسٹنس اینڈ اوپن لرننگ کی جانب سے’’ آئی سی ٹی ٹولس ان ریسرچ ‘‘کے عنوان سے لیکچر کا انعقادعمل میں آیا ۔سنٹرکے ڈائریکٹر(اکیڈمک) پروفیسر احرار حسین نے کہا کہ حکومت کی جانب سے لگاتارٹکنالوجی کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ،لہذا سنٹر فار ڈسٹنس بھی ٹکنالوجی کو فروغ اور تقویت بخشنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہاہے ،انہوں نے کہا کہ سنٹر میں بھی داخلہ و دیگر سہولیات میں ٹکنالوجی کے استعمال پر زور دیاجارہا ہے۔ اس موقع پر آئی سی ٹولس پلیگزم اور اسکے ٹولس ،ویڈیو میکنگ اینڈ ایڈیٹنگ سمیت سافٹ ویئر اور ڈسٹنس ایجوکیشن میں سافٹ ویئر کے استعمال پر گفتگو ہوئی ۔ اس موقع پرجامعہ ملیہ اسلامیہ کے سنٹر فار ڈسٹنس اینڈ اوپن لرنگ کے ڈائریکٹر (یڈمنسٹریشن )آرپی بہوگنا نے کے علاوہ ڈپٹی ڈائریکٹر ز ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر /اکیڈمک کو آرڈینیٹر و دیگر نے شرکت کی ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *