مآب لنچنگ کا ظلم اورعشق ِرسول ﷺ

Share Article

 

ریاض فردوسی۔9968012976

مآب لیچنگ(ہجوم کے ذریعہ بے گناہوں کا قتل)مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور ان کے اعتماد کو توڑنے کا نفسیاتی لیکن پرانہ حربہ ہے۔ہمارے ملک میں خونی بھیڑ کا شکار ہوئے مظلوموں کی تعداد اب تک 170 سے پار ہو چکی ہے،محسن شیخ، اخلاق،منہاج، اور DSP ایوب سے لے کر جنید احمد، تبریز انصاری اور دیگر بے گناہ اور مظلوم مسلمانوں پر کئے گئے ظلم کی ایک لمبی داستان ہے۔سال 2014 میں اس کے نام پر 3 واقعات ہوئے تھے جن میں 11 لوگ زخمی ہوئے تھے،سال 2015 میں اس کے نام 12 واقعات ہوئے تھے، جن میں 10 لوگ ہلاک اور 48 لوگ شدید طور پر زخمی ہوئے تھے، سال 2016 میں اس کے نام پر 24 واقعات ہوئے تھے، جن میں 8 لوگوں کی جانیں گئیں اور 58 لوگ شدید طور پر زخمی ہوئے تھے، سال 2017 میں اس کے نام پر 37 واقعات ہوئے تھے، جن میں 11 لوگ جاں بحق اور 152 لوگ شدید طور پر زخمی ہوئے تھے، سال 2018 میں 13 واقعات ہوئے، جن میں تقریبا 10 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوئے ہیں،جولائی 2019 میں مجموعی طور پر اب تک گوئو رکشا کے نام پر مآب لنچنگ کے 468واقعات ہوچکے ہیں، جن میں129 لوگ جان بحق اور 311 لوگ نیم مردہ ہو چکے ہیں۔باقی لوگ زخمی ہوئے۔

Image result for mob lynching in india
جب کہ امریکی میگزین ٹائم کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں اب تک مآب لنچنگ کے 450 سے زائد واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اسی طرح ہندوستان ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق سال رواں کے ماہ جون 2019 تک مآب لنچنگ کے 460 واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن میں سے ایک یا دو واقعہ کو چھوڑ کر سب کا شکار مسلمان ہی ہوئے ہیں۔.2017 میں آئی انڈیا اسپینڈ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ مسلمان مآب لنچنگ کا سب سے آسان اور سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں.شروع میں تواس قسم کے واقعات قومی میڈیامیں جگہ پاتے تھے اوراخبارات کے پہلے صفحے پرپانچ پانچ چھ چھ کالموں میں انھیں جگہ ملتی تھی، مگراب حالات اس حدتک خراب ہوچکے ہیں کہ ماب لنچنگ ایک عام واقعہ بن چکاہے اورایسے واقعے پرمیڈیامیں بھی اب زیادہ کچھ نہیں آتا۔

Image result for junaid mob lynching
بنو ثقیف کے تین معزز اشخاص عبد، مسعود اور حبیب جو تینوں بھائی تھے اور عمرو بن عمیر بن عوف کے لڑکے تھے،آپ ﷺ تبلیغ اسلام کی خاطر ان سے ملے۔لیکن انہوں نے نہایت بے رخی اور بد اخلاقی کا ثبوت دیا اور ہر طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نازیبا سلوک کیا اور آوارہ لڑکوں کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے لگا دیا جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتھر مار مار کر زخمی کر دیا حتیٰ آپ کے نعلین مبارک لہو سے بھر گئے۔ ابن ہشام بیان کرتے ہیں کہ،زخموں سے چور جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت زید ایک باغ میں پناہ گزین تھے تو عتبہ نے انگوروں کا ایک خوشہ اپنے غلام عداس سے بھجوایا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہہ کر منہ میں رکھا۔ عداس نے حیرت سے کہا ”یہ کلام تو یہاں کے باشندے نہیں بولتے”۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عداس سے پوچھا کہ تم کہاں کے ہو اور کس مذہب سے تعلق رکھتے ہو؟ اس نے عرض کیا ”میں مسیحی ہوں اور نینویٰ کا رہنے والا ہوں”۔ آپ نے اسے اسلام کی دعوت دی اور وہ مسلمان ہو گیا۔(اوکما قال ﷺ)

Image result for mob lynching jharkhand

ماب بیجنگ نیا عمل نہیں ہے؟
حضرت ابو بکر صدیقی رضی اللہ عنہ پر کفار مکہ کی بھیڑ نے حملہ کیاتھا۔حضرت عمار بن یاسر ؓپہلے مسلمان تھے جنھوں نے اپنے گھر میں نماز پڑھنے کے لیے الگ جگہ مخصوص کی۔رسول اکرم ﷺ نے انھیں ‘الطیب المطیب’ (پاکیزہ اور خوش گوار) کا لقب عطا کیا تھا۔ حضرت عمارؓ ملنے آتے تو آپ نے ‘مرحبًا بالطیب المطیب’ کہہ کر فرمایاکرتے تھ اور کہتے ،ان کو آنے دو (ترمذی، رقم۔3898۔ ابن ماجہ، رقم۔146)۔ آپ ﷺکا ارشاد ہے: جنت تین نفوس قدسیہ کو سمونے کی شدت سے منتظر ہے، حضرت علی، حضرت عمار اور حضرت سلمان (ترمذی، رقم.3898۔ مستدرک حاکم، رقم.2444)رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین

حضرت عمار ابن یاسر ؓکو مجبور کیا گیا تھا کہ وہ اسلام اور آپ ﷺ کے بارے میں فحش کلمات اداکریں۔آپ ﷺ نے تسلی دی کہ اگر آپؓ کے دل میں اسلام کی محبت ہے تو آپ ؓنے کوئی گناہ نہیں کیا۔(او کما قال ﷺ)
امیہ اور ابوجہل اور اس کے ظالم ساتھیوں نے سیدنا بلالؓ کو تپتی ریت پر لٹا کر ان کے سینے پر پتھر رکھے ہوئے ہیں مکہ کی گرم دوپہر ان کے چہرے کو جھلسا رہی تھی۔لیکن سیدنا بلال ؓاس عالم میں بھی اتنی بھیڑ کے ذریعے ظلم کے باوجود احد احد کی آواز ہی بلند کر رہے تھے۔حضرت بلالؓ اور ان کے مظلوم ساتھیوں کو مآب لنچنگ کے ذریعے ہی ہراساں کرنے کی کوشش کی جاتی تھی کہ اسلام سے منحرف ہو جائے۔

ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ خود کئی بار اس ظلم کا شکار ہوئے۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ قومیں تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے بھوکے دسترخوان کی کی طرف لپکتے ہے ۔ صحابہ ؓ نے سوال کیا، کیا یہ اس وجہ سے ہوگا کہ ہماری تعداد کم ہوگی؟ جواباََ آپﷺ نے فرمایا:”دنیا کی محبت اور موت اور موت کا خوف.”(سنن ابو داود 4297)اوکماقال ﷺ
اللہ اس قوم کی حالت میں تبدیلی نہیں کرتا جب تک کہ وہ خود نہ بدلیں (قرآن 13:11)

 

سیدنا ابوذرؓ کے اسلام قبول کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر، اپنے ایمان کو (قریش سے) ابھی پوشیدہ رکھنا۔ ابھی اس کے اظہار کا موقع نہیں۔ اور اب آپ اپنے قبیلے کی طرف لوٹ جائیں۔ جب مناسب موقع آئے تو واپس آجانا۔”مگر ابوذر ؓاپنی افتاد طبع سے مجبور تھے، بولے: ”اللہ کی قسم، یہ کام مجھ سے نہ ہو سکے گا۔ میں اپنا اسلام ہرگز نہ چھپا سکوں گا! میں ان لوگوں کے سامنے اعلان کرنا چاہتا ہوں!”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اس سے تمھاری جان کو خطرہ ہے۔”مگر اے اللہ کے رسول ﷺاس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، مکہ سے روانگی سے قبل، ایک مرتبہ ضرور قریش کے روبرو کلمۂ حق کی گواہی دینے کو جی چاہتا ہے۔”سیدنا ابوذر ؓکی طبیعت کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اندازہ لگا چکے تھے۔ ان کے جواب میں خاموش رہے۔ اور ابوذرؓ وہاں سے اٹھے اور سیدھے کعبہ پہنچے۔ ان کی خواہش کے عین مطابق قریش کا مجمع لگا ہوا تھا۔ ابوذر ان کے سامنے آئے اور با آواز بلند بولے:
”اے خاندانِ قریش۔۔۔ سن لو۔۔۔ میں ابوذر اعلان کرتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔”

Image result for mob lynching jharkhand
جیسے ہی یہ الفاظ ان کی سماعت سے ٹکرائے وہ غصے سے ان کی طرف لپکے۔ کئی ایک آوازیں ایک ساتھ اٹھیں:
”اس بے دین کو پکڑو۔۔۔”مار دو اس کو۔۔۔ ”جانے نہ پائے۔۔۔”اور پھر پورے کا پورا ہجوم ان پر پل پڑا۔ گھونسے، لاتیں، تھپڑ، اگر کسی کے ہاتھ میں لاٹھی تھی تو وہ بھی۔ انھوں نے ابوذرؓ کو آڑے ہاتھوں لیا۔
قبل اس کے کہ بپھرا ہوا قریشی مجمع ابوذر ؓکی جان لے لیتا۔ عباس بن عبدالمطلب حرکت میں آئے۔ عباس حضور ﷺکے چچا تھے اور اس تعلق کی وجہ سے وہ حضور کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے۔ اس موقع پر بھی وہی کام آئے۔ انھوں نے اپنے آپ کو ابوذرؓ کے اوپر گرا لیا اور چیخ چیخ کر پکارنے لگے: ”اے قریش، تمھاری عقلوں کو کیا ہو گیا ہے۔ تم ابوذر کو مار رہے ہو، جو غفاری قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اب تمھاری خیر نہیں، یہ ضرور تمھارے قافلوں کو راستے میں لوٹیں گے!”
عباس کی یہ یاد دہانی جلد ہی موثر ہوئی اور لوگوں نے اپنے ہاتھ روک لیے۔ دراصل عباس کی بات محض ڈراوا نہ تھی۔ حملہ آور اچھی طرح جانتے تھے کہ غفاریوں سے دشمنی مول لینا اپنے تجارتی قافلوں کو غیر محفوظ کرنا ہے۔ مگر ابوذر اس وقت بھی خاصے پٹ چکے تھے اور لباس تار تار ہو چکا تھا اور چہرے پر زخم آ چکے تھے اور خون رس رہا تھا۔ لوگوں میں سے بعض نے ان کے زخم صاف کیے اور وہ واپس حضور ﷺ کے پاس چلے آئے۔

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ النصر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلالؓ کو اذان دینے کا حکم دیا۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جسے سن کر لوگ بہت روئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے لوگو میں کیسا نبی ہوں؟ اس پر ان لوگوں نے کہا اللہ آپ کو جزا دے۔ آپ سب سے بہترین نبی ہیں۔ آپ ہمارے لئے رحیم باپ کی طرح اور شفیق اور نصیحت کرنے والے بھائی کی طرح ہیں۔ آپ نے ہم تک اللہ کے پیغام پہنچائے اور اس کی وحی پہنچائی اور حکمت اور اچھی نصیحت سے ہمیں اپنے رب کے راستے کی طرف بلایا۔ پس اللہ آپ کو بہترین جزا دے جو وہ اپنے انبیاء کو دیتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے مسلمانوں کے گروہ! مَیں تمہیں اللہ کی اور تم پر اپنے حق کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر کسی پر میری طرف سے کوئی ظلم یا زیادتی ہوئی ہو تو وہ کھڑا ہو اور میرے سے بدلہ لے۔ مگر کوئی کھڑا نہ ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار قسم دے کر کہا مگر کوئی کھڑا نہ ہوا۔ آپ نے تیسری بار پھر فرمایا کہ اے مسلمانوں کے گروہ! مَیں تمہیں اللہ اور تم پر اپنے حق کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر کسی پر میری طرف سے کوئی ظلم یا زیادتی ہوئی ہو تو وہ اٹھے اور قیامت کے دن کے بدلہ سے پہلے میرے سے بدلہ لے۔ اس پر لوگوں میں سے ایک بوڑھے شخص کھڑے ہوئے جن کا نام عُکاشہ تھا۔ آپ مسلمانوں میں سے ہوتے ہوئے آگے آئے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رُوبرو کھڑے ہو گئے اور عرض کی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ اگر آپ نے بار بار قسم نہ دی ہوتی تو میں ہرگز کھڑا نہ ہوتا۔ حضرت عکاشہ کہنے لگے۔ میں آپ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھا جس سے واپسی پر میری اونٹنی آپ کی اونٹنی کے قریب آ گئی تو میں اپنی سواری سے اتر کر آپ کے قریب آیا تا کہ آپ کے پاؤں کو بوسہ دوں۔ مگر آپ نے اپنی چھڑی ماری جو میرے پہلو میں لگی۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ چھڑی آپ نے اونٹنی کو ماری تھی یا مجھے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے جلال کی قسم کہ خدا کا رسول جان بوجھ کر تجھے نہیں مار سکتا۔ پھر آپ نے حضرت بلالؓ کو مخاطب کر کے فرمایا اے بلال! فاطمہؓ کی طرف جاؤ۔ (حضرت فاطمہؓ کے گھر میں) اور اس سے وہ چھڑی لے آؤ۔ حضرت بلالؓ گئے اور حضرت فاطمہؓ سے عرض کی کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی! مجھے چھڑی دے دیں۔ اس پر حضرت فاطمہؓ نے کہا اے بلال! میرے والد اس چھڑی کے ساتھ کیا کریں گے؟ کیا یہ جنگ کے دن کی بجائے حج کا دن نہیں۔ اس پر حضرت بلالؓ نے کہا کہ اے فاطمہؓ آپ اپنے ا با رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی بے خبر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو الوداع کہہ رہے ہیں اور دنیا چھوڑ کر جا رہے ہیں اور اپنا بدلہ دے رہے ہیں۔ اس پر حضرت فاطمہؓ نے حیرانگی سے پوچھا اے بلالؓ! کس کا دل کرے گا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ لے۔ پھر حضرت فاطمہؓ نے کہا کہ اے بلالؓ!حسنؓ اور حسین ؓسے کہو کہ وہ اس شخص کے سامنے کھڑے ہو جائیں کہ وہ ان دونوں سے بدلہ لے لے اور وہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ نہ لینے دیں۔ پس حضرت بلال ؓمسجد آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھڑی پکڑا دی اور آپﷺ نے وہ چھڑی عُکاشہ کو پکڑائی۔ جب حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ نے یہ منظر دیکھا تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے اور کہا اے عکاشہ!ہم تمہارے سامنے کھڑے ہیں۔ ہم سے بدلہ لے لو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نہ کہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: اے ابوبکر اور عمر رک جاؤ۔ اللہ تم دونوں کے مقام کو جانتا ہے۔ اس کے بعد حضرت علیؓ کھڑے ہوئے اور کہا اے عکاشہ! میں نے اپنی ساری زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری ہے اور میرا دل گوارا نہیں کرتا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارو۔ پس یہ میرا جسم ہے میرے سے بدلہ لے لو اور بیشک مجھے سو بار مارو مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ نہ لو۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے علی بیٹھ جاؤ۔ اللہ تمہاری نیت اور مقام کو جانتا ہے۔ اس کے بعد حضرت حسن ؓاور حسین ؓکھڑے ہوئے اور کہا اے عکاشہ! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے ہیں اور ہم سے بدلہ لینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ لینے کے جیسا ہی ہے۔ آپ ﷺنے ان دونوں سے فرمایا۔ اے میرے پیارو! بیٹھ جاؤ۔ اس کے بعد آپ ﷺنے فرمایا اے عکاشہ مارو۔ حضرت عکاشہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ نے مجھے مارا تھا تو اس وقت میرے پیٹ پر کپڑا نہیں تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ پر سے کپڑا اٹھایا۔ اس پر صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم اجمعین دیوانہ وار رونے لگ گئے اور کہنے لگے کیا عکاشہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارے گا؟ مگر جب حضرت عُکاشہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن کی سفیدی دیکھی تو دیوانہ وار لپک کر آگے بڑھے اور آپ کے بدن کو چُومنے لگے اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کس کا دل گوارا کر سکتا ہے کہ وہ آپ سے بدلہ لے۔ اس پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا بدلہ لینا ہے یا معاف کرنا ہے۔ اس پر حضرت عُکاشہ نے عرض کی یا رسول اللہ! میں نے معاف کیا اس امید پر کہ اللہ قیامت کے دن مجھے معاف فرما دے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جو جنت میں میرا ساتھی دیکھنا چاہتا ہے وہ اس بوڑھے شخص کو دیکھ لے۔ پس مسلمان اٹھے اور حضرت عُکاشہ کا ماتھا چومنے لگے اور ان کو مبارکباد دینے لگے کہ تو نے بہت بلند مقام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کو پا لیا۔‘‘ ایک واقعے میں مہر نبوت ﷺ کو بوسہ لینے کابھی ذکر ہے۔(مجمع الزوائد جلد 8 صفحہ 429 تا 431 کتاب علامات النبوۃ حدیث 14253 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2001ئ)
اُحد کے دن حضرت عباس بن عُبادۃؓ اونچی آواز سے کہہ رہے تھے کہ اے مسلمانوں کے گروہ!اللہ اور اپنے نبی ﷺ سے جڑے رہو۔ جو مصیبت تمہیں پہنچی ہے یہ اپنے نبیﷺ کی نافرمانی سے پہنچی ہے۔

وہ تمہیں مدد کا وعدہ دیتا تھا لیکن تم نے صبر نہیں کیا۔ پھر حضرت عباس بن عُبادۃ ؓنے اپنا خود اور اپنی زرہ اتاری اور حضرت خارجہ بن زیدؓ سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس کی ضرورت ہے؟ خارجہ ؓنے کہا نہیں جس چیز کی تمہیں آرزو ہے وہی میں بھی چاہتا ہوں۔ پھر وہ سب دشمنوں کی صف میں داخل ہوگئے۔ عباس بن عُبادۃ ؓکہتے تھے کہ ہمارے دیکھتے ہوئے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچی تو ہمارا اپنے رب کے حضور کیا عذر ہو گا؟ اور حضرت خارجہ ؓیہ کہتے تھے کہ اپنے رب کے حضور ہمارے پاس نہ تو کوئی عذر ہو گا اور نہ ہی کوئی دلیل۔ حضرت عباس بن عبادۃ ؓکو سفیان بن عبدِ شمس سَلَمی نے شہید کیا اور خارجہ بن زیدؓ کو تیروں کی وجہ سے جسم پر دس سے زائد زخم لگے۔‘‘ (کتاب المغازی جلد 1 صفحہ 227-228 باب غزوہ احد مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2004ئ)

حضرت زید بن دثنہؓ کو چند ساتھیوں کے ساتھ کفار مکہ نے گرفتار کرلیا تھا۔ صفوان بن امیہ نے جس کا باپ امیہ بن خلف بدر میں مارا گیا تھا، حضرت زیدؓ کو اپنے باپ کے عوض میں قتل کرنے کے لئے خریدا کہ انہیں قتل کر کے دل کو یہ کہتے ہوئے تسلی دی جاسکے کہ میرے باپ کو اگر مسلمانوں نے قتل کیا ہے تو میں نے بھی اپنے باپ کی جان کے بدلے ایک مسلمان کی جان لی ہے۔بہرحال صفوان بن امیہ نے حضرت زید بن دثنہؓ کو خرید کر بلا کسی تاخیر کے اپنے غلام نسطاس کے ساتھ حرم سے باہر تنعیم میں قتل کرنے کے لئے بھیج دیا اور قتل کا تماشا دیکھنے کے لئے قریش کی ایک جماعت تنعیم میں جمع ہوگئی، جن میں ابوسفیان بھی تھا۔ جب حضرت زید کو قتل کے لئے سامنے لایا گیا تو ابوسفیان نے ان سے مخاطب کرتے ہوئے کہا: اے زید! میں تم کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم اس کو پسند کروگے کہ ہم تم کو چھوڑ دیں اور محمد ﷺ کو تمہارے بدلے میں قتل کردیں، اور تم اپنے گھر آرام سے رہو، حضرت زیدؓ نے جھنجھلاتے ہوئے فرمایا: ’’اللہ کی قسم مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ حضور اقدس ﷺجہاں ہیں وہیں ان کے مبارک پیر میں ایک کانٹا بھی چبھے اورمیں اپنے گھر میں بیٹھا رہوں۔‘‘ یہ جواب سن کر ابوسفیان نے کہا: خداکی قسم میں نے کسی کو کسی کا اس درجہ محب، مخلص اور دوست و جان نثار نہیں دیکھا، جتنا محمدﷺکے ساتھی ان کے جان نثار اور چاہنے والے ہیں۔قریش نے زید ابن دثنہؓ کے دوسرے ساتھی حضرت خبیب بن عدیؓ کو پھانسی دیتے وقت تختہ دار پر چڑھایا تو یہی سوال ان سے بھی کیا گیا:کیا تم گوارا کرو گے کہ محمد ﷺتمہاری جگہ تختہ دار پر ہوں؟ وہ بولے: ’’ربِ عظیم کی قسم! مجھے یہ بھی گوارا نہیں میری جگہ محمدﷺ کے قدم مبارک میں کوئی کانٹا بھی لگے، اور میری جان کی حفاظت کے بدلے محمد ﷺ کو اتنی بھی تکلیف پہنچے جتنی تکلیف ایک کانٹا چبھنے میں کسی کو ہوتی ہے، قریش یہ جواب سن کر دنگ رہ گئے (البدایہ و النہایہ)۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *