اسکالر شپ کی درخواست فارم بھرنے کی کی کارروائی کو آسان بنایا جائے گا: نقوی

Share Article

 

مشن تعلیم کے وفد کی مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی سے ملاقات

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ اسکالر شپ درخواست فارم کو آن لائین بھرنے میں آنے والی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ درخواست فارم بھرنے کی کی کارروائی کو بہت جلد سہل بنایا جائے گا ۔انہوں نے نے یہ یقین دہانی انہوں نے مشن تعلیم کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کرائی ۔ مشن تعلیم کے وفد نے اقلیتی وزارت کی جانب سے جاری کی جانے والی اسکالر شپ کے لئے آن لائین درخواست فارم بھرنے میں آنے والی پریشانیوں سے نقوی کو آگاہ کیا۔

 

وفد کی قیادت کر رہے اکرام الحق نے بتایا کہ نقوی نے ملاقات کے دوران ہمیں یقین دلایا ہے کہ بہت جلد اس مسئلے کا کوئی حل نکالا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آن لائن درخواست فارم بھرنے کی کارروائی کو آسان بنانے کی بات وزیر نے کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر سال کی طرح اس بار بھی مشن تعلیم کے رضار کار پورے ہندوستان میں غریب بچوں کا مفت آن لائن فارم بھرنے اور اسکالر شپ دلانے میں مدد کریں گے۔ انہوںنے بتایا کہ ابھی کچھ دن پہلے مرکزی حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر اقلیتی طلبا کو 5 کروڑ اسکالر شپ دیئے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسکالر شپ اسکیم کے تحت ایک بڑی اسکیم ہے بیگم حضرت محل اسکالر شپ کو کلاس 9 سے کلاس 12 میں تعلیم حاصل کرنے والی بچیوں کو دیا جاتاہے ۔حالانکہ رقم بہت چھوٹی ہے پھر بھی گزشتہ سال پورے ہندوستان سے تقریبا 4.25 لاکھ لڑکیوں نے اس کے لئے درخواست دی تھی، جس میں سے تقریبا 2 لاکھ بچیوں کو اس کا فائدہ مل سکا تھا۔اب اس سال سے نئی دشواریاں پیدا ہو گئی ہیں۔

 

آن لائن فارم بھرنے کے لئے سب سے پہلے اوٹی پی جنریٹ ہوتی ہے جو گارجین کے موبائل پر آتی ہے، اس کو انٹر کرنے کے بعد ہی آگے کا فارم بھرا جا سکتا ہے۔ پھر اس کے بعد انکم سرٹیفکیٹ، مارک شیٹ، آدھار کار، فوٹو گراف، بینک ڈیٹیل، پرنسپل سے سرٹیفکیٹ، فیس رسید وغیرہ کو اسکین کر کے سائیز ریڈیوس کر کے سسٹم میں لوڈ کرنا ہے جوکہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان بہت بڑا ملک ہے اور گاؤں شہر میں پھیلا ہوا ہے۔ اتر پردیش اور بہار کے زیادہ تر شہروں میں اسکیننگ اور آن لائن کی سہولت ہی موجود نہیں ہے۔ اگر کہیں ہے بھی تو انٹرنیٹ کیفے والے اس کام کے لئے پیسے مانگتے ہیں۔ جبکہ اسکالرشپ ملنے کی ضمانت بھی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریبا ایک مہینہ نکل جانے کے باوجود بھی بہت کم تعداد میں اسکالر شپ فارم بھرا گیا ۔انہوںنے کہا کہ ان ساری دشواریوں کو دور کرنے اور کارروائی کو آسان بنانے کے لئے ہی مشن تعلیم کا وفد اقلیتی وزیر مختار عباس نقوی سے ملا ہے ۔ وفد میں رفیع سیفی، شیر محمد، محمد موسی، مولانا شہزاد، مولانا قاسم، عابد خان، افضال انصاری، منا خان، آبادخان، خالد خان وغیرہ شامل تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *