کسانوں کے مسائلحل کرنا قومی مفاد میں ہے

Share Article

پچھلے دنوں کسانوں کے دہلی کوچ کو لے کر خبریں آئیں۔ سرکار کسانوں کے اس آندولن سے نمٹنے میں ایک بار پھر ناکام رہی۔ سرکار کو سوچنا چاہئے کہ ہندوستان ایک زرعی ملک ہے اور اگلے کئی سال تک زراعتی ڈومینٹیڈ ہی رہے گا۔ ایک پالیسی جو پچھلی سرکار نے شروع کی تھی اور یہ سرکار بھی آگے بڑھانا چاہتی ہے، وہ یہ ہے کہ 80 کروڑ لوگوں کو دیہی علاقوں سے شہری علاقے میں لانے کی بات کی جارہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت ہی زیادہ اہم منصوبہ ہے اور اتنی جلد یہ قابل عمل نہیں ہو پائے گا۔ کسانوں کی جو حالت ہے وہ بہت ہی خراب ہے۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ وہ کسانوں کی آمدنی دوگنی کر دیں گے۔ ان کے اگریکلچرل منسٹر بھی یہی کہتے ہیں۔
کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے دو طریقے ہیں۔ پہلا ان کی پیداوار دو گنی ہو جائے جبکہ یہ ہو نہیں سکتی۔جتنی زمین ہے اس میں دس بیس فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ زمین تو دوگنی نہیں ہو سکتی۔ دوسرا ہے مینمم سپورٹ پرائس ، اس میں سرکار اضافہ کر سکتی ہے۔ آج کل خبریں آتی ہیں کہ کسان نے خود کشی کر لی یا ریاستی سرکاروں نے قرض معاف کر دیا۔ لیکن جب تک ہم لوگ بنیادی مسائل کا حل نہیں ڈوھونڈیں گے ، ان سب سے کچھ نہیں ہونے والاہے۔
آج کسان بے حال ہے، غریب ہے، بہت دبائو میں ہے۔ ان کے ساتھ بھدا مذاق کرنا ملک کے حق میں نہیں ہے۔ کسان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟سب سے پہلے تو کسان کے مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے پاس جو اناج ہوتا ہے، اس کے اسٹور کے لئے جگہ چاہئے۔ ٹرانسپورٹ چاہئے تاکہ اناج منڈی تک پہنچ سکے۔ منڈی میں اس کو صحیح دام ملنا چاہئے۔ سرکار کے پاس اس طرح کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ آج کسانوں کی آواز سرکار تک نہیں پہنچتی ہے۔ صنعتی گھرانے کے پاس تو فکی، ایسوچیم اور چیمبر آف کامرس ہیں، جو دبائو بنا لیتے ہیں لیکن اگر ملک کا طویل مدتی مستقبل ٹھیک رکھنا ہے تو دیہی علاقے ٹھیک ہونے چاہئے۔نوجوان طبقہ کو نوکری ملنی چاہئے۔ زمین محدود ہے۔ ایک خاندان میں جیسے ہی نسل بڑھتی ہے زمین تقسیم ہوجاتی ہے، تو ضروری یہ ہے کہ زراعت سے جڑی صنعت، چھوٹی صنعتیں بڑھیں تاکہ لوگ نوکری پا سکیں۔

 

 

 

وزیر اعظم بیان دیتے ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ نوکری مانگنے کی جگہ آپ لوگوں کو نوکری دیں۔ جاب سیکر کی جگہ لوگ جاب گیور بنیں۔ یہ جملہ ہی ہو سکتا ہے ۔جو آدمی خود نوکری ڈھونڈ رہاہے، آج سوچ رہاہے کہ وہ کوئی اکائی کھول کر نوکری دے گا۔ بہت اچھی سوچ ہے، کیجئے لیکن موجودہ صورت حال کو بھی سمجھئے۔ یوروپ یا امریکہ جیسے ملکوں کا حل ہندوستان میں بھی کام کر جائے، ضروری نہیں ہے۔ میں نہیں کہتا کہ صرف زراعت سے ملک کی ترقی ہو جائے گی ، صنعت بھی کھولئے۔ لیکن جب تک آپ فوری مسائل کا حل نہیں کریں گے، لوگوں میں غصہ بڑھتا جائیگا۔ الیکشن میں کیا ہوتا ہے، کیا نہیں ہوتاہے، اس سے مجھے کوئی مطلب نہیں ہے۔ ملک تو ہے۔ہر پانچ سال میں ملک نئے سرے سے تو شروع نہیںہو سکتا۔ ملک جیسے چلتا ہے ، آگے بھی چلے گا۔
آج کسان آندولن نے ایک ایسا موڑ لے لیا ہے جو نہ صرف سیاسی یا عوامی زندگی سے جڑے لوگوںکے لئے بلکہ عام لوگوںکے لئے بھی تشویش کی بات ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ آندولن غیر متوقع ہے ،کیونکہ نریندر مودی نے اپنی انتخابی تقریروں میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ کسانوں کو ایک ایسا کم سے کم سپورٹ پرائس دیں گے جو ان کی لاگت سے 50 فیصد زیادہ ہوگا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ سرکار کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ بعد میں انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ کسانوں کی آمدنی دوگنی ہو جائے گی۔ مجھے نہیںمعلوم کہ ان کے صلاح کار کون ہیں۔ لیکن وہ ماہر اقتصادیات نہیں ہوں گے،کیوںکہ یہ ایسے وعدے ہیں جنہیں پورا کرنا ناممکن ہے۔ ہندوستاں کے ساتھ ایک اچھی بات یہ ہے کہ یہاں عام آدمی، کسان اور مزدور امکانات کی حد کے اندر رہ کر کام کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔

 

 

 

 

بہر حال سرکار کی اپنی رکاوٹیں ہوتی ہیں۔یہ بھی سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ مودی 2014 میں انتخاب جیتنا چاہتے تھے لیکن پھر انہوں نے سال در سال ایسے وعدے کیوں کئے؟فطری طور سے اس سے ناراضگی بڑھے گی ،لوگوں میں مایوسی پیدا ہوگی اور بد امنی پھیلے گی۔ بھارتیہ ریزو بینک کے گورنر بھی مانتے ہیں کہ قرض معافی کی مانگ بے قابو ہو جائے گی۔یہ بہت ہی سنگین اقتصادی مسئلے ہیں۔ جواہر لعل نہرو اور اندرا گاندھی کی قیادت والی سرکاروں کو یہ سہریٰ دینا چاہئے کہ یہ جانتے ہوئے کہ مقبول اسکیموں سے ووٹ حاصل کیا جاسکتاہے، انہوں نے لوگوں کی امیدوں کو کبھی اتنا نہیں بڑھایا جو تشدد اور بد امنی کا سبب بنے۔ وہ ذمہ دار لیڈر تھے اور جانتے تھے کہ کوئی بھی ہدف حاصل کرنے کی ایک حد ہوتی ہے۔
فی الحال وزیر اعظم کو ایک کل جماعتی میٹنگ بلانی چاہئے یا کم سے کم بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوںکے وزراء اعلیٰ کی میٹنگ بلانی چاہئے اور کوئی ایسا فارمولہ تلاش کرنا چاہئے جو عملی ہو۔ صرف اپوزیشن کو نظر انداز کرنے کی کوشش سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اگر کسانوں کا احتجاج جاری رہتا ہے تو ملک کی مشکلیں اور بڑھ جائیںگی۔ وہیں کسانوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ بیشک سرکار اس کے لئے کسانوں کو ذمہ دار ٹھہرا سکتی ہے لیکن صرف ذمہ داری ڈال دینے سے مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا ہے۔ لوگوں نے حکومت چلانے کے لئے سرکار کو چنا ہے۔ اگر سرکار حکومت نہیں چلا سکتی ہے تو یہ بہت افسوسناک حالت ہے۔ جتنی جلد سرکار زرعی شعبے کے بنیادی مسائل کی طرف دھیان دے گی ،اتنا ہی بہتر رہے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *