پاپولر فرنٹ آف انڈیا شہری حقوق کے تحفظ کی اپنی جدوجہد میں تمام ہندوستانی شہریوں کے ساتھ آخر دم تک کھڑی رہے گی

Share Article

pfi

 

تفریقی و آئین مخالف قوانین سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے تمام جمہوری و پُرامن احتجاجات کے ساتھ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی مرکزی سکریٹریٹ نے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ سکریٹریٹ کے اجلاس نے آئین کے ذریعہ دئے گئے شہری حقوق کے تحفظ کے لئے تمام شہریوں کے ساتھ کھڑے رہنے اور نئے پرانے الزامات کے ذریعہ تنظیم کو دبانے کی تمام کوششوں کو شکست دینے کے اپنے عزم کا ایک بار پھر اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی تنظیم نے ملک بھر میں جاری احتجاجات میں طلبہ، تعلیمی اداروں اور سماج کے مختلف طبقات کی سرگرم موجودگی کو بھی سراہا ہے۔

پاپولر فرنٹ نے شروع سے ہی شہریت کے حق اور ہر طرح کے شہری حقوق جنہیں حکومتی ایجنسیاں یا فرقہ پرست و فسطائی جماعتیں پامال کرتی ہیں، ان کی حفاظت کے لئے لڑی جانے والی لڑائی کا ساتھ دیا ہے۔ پاپولر فرنٹ نے اس بات کی پہچان کی ہے کہ آر ایس ایس سماج اور ملک کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ تنظیم نے اس کے متعلق مختلف جمہوری طریقوں کو اپناتے ہوئے اپنے کارکنان اور عوام کو بیدار بھی کیا ہے۔ صرف اسی وجہ سے حکومت تنظیم کو بدنام کر رہی ہے۔ بی جے پی حکومت اپنی پوری مشینری کا استعمال کر کے ان احتجاجات کا رخ پھیرنا، اسے کمزور اور تباہ کرنا چاہتی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پورے ملک میں ہونے والے پرامن احتجاجات صرف بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ہی پرتشدد ہوگئے، جو کئی اموات اور تباہی کا باعث بنے۔ یوپی میں ہوئے مظاہروں کے دوران پولیس کے لوگوں اور ہندوتوا جماعتوں نے تشدد کا راستہ اپنایا اور جنسی حملے بھی کئے، جسے پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اسی لئے اپنا دامن صاف کرنے کے لئے انہوں نے پورا الزام مظاہرین اور کچھ مخالف تنظیموں پر ڈالنا ضروری سمجھا۔

ہر کوئی جانتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے جمہوری و پرامن احتجاجات میں شرکت اور حمایت کے باوجود، پاپولر فرنٹ کا مظاہروں میں ہوئے کسی بھی مبینہ پرتشدد واقعے میں کوئی رول نہیں ہے۔ پولیس یا چند بی جے پی لیڈران نے جن میں یوپی، آسام اور کرناٹک کے کچھ وزراء بھی شامل ہیں، یہ الزام لگایا کہ تشدد بھڑکانے میں پاپولر فرنٹ کا ہاتھ ہے، حتیٰ کہ انہوں نے تنظیم کو ”ماسٹر مائنڈ” تک کہہ دیا، لیکن کوئی بھی اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے ایک بھی ثبوت پیش نہیں کر پایا ہے۔ یوپی پولیس گرفتار کارکنان و لیڈران کو ضمانت دینے کے عدالتی احکام کی تعمیل بھی نہیں کر رہی ہے اور انہیں جان بوجھ کر نئے مجرمانہ دفعات میں پھنسا کر جیل میں رکھا گیا ہے۔اجلاس نے اس بات پر اپنی افسردگی کا اظہار کیا کہ میڈیا کا ایک طبقہ تحریک کو بدنام کرنے کی مہم میں شامل ہو گیا ہے، حالانکہ وہ اس معاملے میں بی جے پی کے خفیہ ایجنڈے سے بخوبی واقف ہے۔ مرکزی سکریٹریٹ نے یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کی ماتحت مرکزی و ریاستی حکومتوں کو ہندوتوا نظریے کے خلاف اس عوامی بغاوت کو دبانے اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا جیسی فسطائیت مخالف عوامی تحریک کو روکنے کی کوشش میں بالآخر منہ کی کھانی پڑے گی۔شہریت ترمیمی قانون کی آئینی درستگی پر داخل کردہ درخواستوں پر سپریم کورٹ اسی مہینے غور کر سکتی ہے، لیکن حکومت نے ملک بھر میں اس قانون کے خلاف عوامی ناراضگی پر ذرا بھی توجہ دئے بغیر، بڑی جلدبازی میں قانون کو نافذ کر دیا۔ پاپولر فرنٹ کی مرکزی سکریٹریٹ نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ حکومت جمہوری مخالفتوں کے تئیں حد درجہ انانیت کا شکار ہے اور عدلیہ کے لئے اس کے نزدیک کوئی احترام نہیں ہے۔

اجلاس نے یہ بھی کہا کہ قومی آبادی رجسٹر (این پی آر)ہر دس سال پر ہونے والی مردم شماری کا حصہ نہیں ہے، بلکہ اسے شہریت کے ضوابط کی بنیاد پر عمل میں لایا جا رہا ہے۔ موجودہ کوشش صرف این پی آر کا نیا راؤنڈ نہیں ہے، جو پہلے 2010 میں کیا گیا اور 2015میں جسے اَپ ڈیٹ کیا گیا۔ دانشوران اس شبہ کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ ویب سائٹ پر موجود اور سروے کرنے والوں کو بتائی گئی باتیں دونوں آپس میں ٹکراتی ہیں۔ دراصل بی جے پی حکومت نے اسے این آر سی کی بنیاد اور شروعات کے طور پر تیار کیا ہے۔ پاپولر فرنٹ سی اے اے اور این آر سی کے ساتھ ساتھ این پی آر کو بھی مسترد کرنے کی اپیل کرتی ہے۔اجلاس نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ ہمارے دستور کے ذریعہ دئے گئے مخالفت کے اظہار کے حق کو ہمیں مشترکہ کوششوں سے بچانے کی ضرورت ہے۔ پاپولر فرنٹ کو بدنام کرنے کی مہم اور اسے نشانہ بنانے کی کوشش ملک کی تمام مخالفت کی جمہوری آوازوں کے لئے ایک انتباہ ہے۔ پاپولر فرنٹ تمام سیکولر، جمہوری اور شہری حقوق کی جماعتوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بدنام کرنے کی جاری مہم اور ظالمانہ کاروائیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔مرکزی سکریٹریٹ نے پورے ہندوستان میں زمینی سطح پر دس ہزار عوامی بیداری پروگراموں کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ پاپولر فرنٹ کی یونٹیں گھر گھر جاکر سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے پیچھے کے فرقہ وارانہ و تفریقی مقاصد کے بارے میں لوگوں کو بتائیں گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *