سماجی کارکن کی درخواست پر بولے چیف جسٹس ضرورت پڑی تو خود جموں و کشمیر جاؤں گا

Share Article

عدالت میں درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ وادی میں 10 سے 18 سال کے بچوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ اس پر چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے درخواست گزار کو ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرنے کو کہا، اسی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اس پر رپورٹ بھی مانگی۔

سپریم کورٹ میں پیر کو جموں و کشمیر میں حراست میں لئے جا رہے بچوں کو لے کر سماعت ہوئی۔ عدالت میں درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ وادی میں 10 سے 18 سال کے بچوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ اس پر چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے درخواست گزار کو ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرنے کو کہا، اسی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اس پر رپورٹ بھی مانگی۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا کہ اگر لوگ ریاست کی ہائی کورٹ کا رخ نہیں کر پا رہے ہیں اور اپنی بات نہیں کہہ پا رہے ہیں تو یہ کافی مشکل مسئلہ ہے، اگر ضرورت پڑی تو میں خود سرینگر کا دورہ کروں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ خود اس مسئلے پر تفصیل سے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے جسٹس سے بات کریں گے۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ بچے کارکن کو اس وقت ہائی کورٹ جانا بہت مشکل ہے۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے اس دوران کہا کہ آپ کی وجہ بتائیں کہ یہ مشکل کیوں ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ سنگین مسئلہ ہے۔

اسی دوران چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا کہ وہ خود جموں و کشمیر کے چیف جسٹس سے مکمل رپورٹ مانگیں گے، یہ کافی سنگین مسئلہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اس مسئلے پر اب کسی وکیل سے نہیں بلکہ براہ راست ہائی کورٹ کی بات سنیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *