روہتاس کے کسانوں کی دردناک کہانی

Share Article

دھان کا کٹورا کہے گئے روہتاس ضلع میںاس سال دو لاکھ ہیکٹیئر زمین پر لگی فصل سے 16 لاکھ میٹرک ٹن دھان پیدا ہونے کی امید ہے۔ کسانوںکے کھلیان تک فصل پہنچ چکی ہے۔ ایک بار پھر سرکاری خرید مرکز اور کسانوںکے بیچ کاغذکا کھیل کھیلنے والے بچولیے دھان کی فصل پر گدھ کی نظر لگائے بیٹھے ہیں۔ جو کسانوںکی قسمت سے کھیل کر ان کی گاڑھی پونجی ہضم کرجاتے ہیں۔ 16 لاکھ میٹرک ٹن ممکنہ پیداوار میںسے 13 لاکھ میٹرک ٹن دھان تو مقامی بازاروں اور ملروںتک پہنچ جائے گا۔ کیونکہ تین لاکھ میٹرک ٹن دھان خریداری کا ہدف ہے۔ اسی تین لاکھ کی خریداری میںبچولیے کاغذ کے کھیل کے ذریعہ ایس ایف سی ، پیکس،ملروں اور ایف سی آئی گوداموںکے بیچ اپنی بساط پر سرکاری پونجی کے گھوڑے دوڑانے کی فراق میں بیٹھے ہیں۔
ہم نظر دوڑائیںگے صرف سات سال قبل 2010 میںشروع ہوئی بہار سرکار کی دھان کی خریداری کی پالیسیوں پر،جب سے سرکار کی نوڈل ایجنسی راجیہ کھادیہ نگم نے کسانوںکی دھان خریداری کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔ یہاںبتانا ضروری سمجھ رہا ہوں کہ اسی مدت میںریاست میںسب سے بڑا چھ سو کروڑ فصل خریداری کا گھوٹالہ سامنے آیا ہے۔ جب سے راجیہ کھادیہ نگم نے کسانوںکی فصل خریداری کی ذمہ داری اٹھائی ہے، تب سے سب سے زیادہ خراب حالت روہتاس کے کسانوںکی ہوئی ہے۔ جس کا تذکرہ 2011-12 میںدھان خریداری کے دوران ہوئے گھوٹالوں کی جانچ کرنے پہنچے نگرانی محکمے کے ایس پی راجندر پرساد کی ایک اہم رپورٹ میںملا تھا۔
وہ رپورٹ صرف روہتاس کی شیو ساگر بلاک سے جڑی دھان خریداری کی تھی۔ اس میںپایا گیا کہ جن گاڑیوں سے راجیہ کھادیہ نگم کے گودام سے دھان اٹھاکر ملروں تک پہنچایا گیا، ان نمبروں کی کوئی گاڑی ہی نہیںتھی۔ جب گہرائی سے جانچ ہوئی تو اکیلے شیو ساگر بلاک میں 30 کروڑ روپے کا گھوٹالہ سامنے آیا۔ اس کے بعد نوکھا، کرگہر سمیت کئی بلاکوں کے ایس ایف سی گودام سے اٹھائے گئے دھان اور گیہوںکی جانچ کے سلسلے میں80 سے 90 کروڑ روپے کی گڑبڑ سامنے آئی۔
بچولیوں کا کردار
جب سے راجیہ کھادیہ نگم نے دھان کی خریداری شروع کی تب سے روہتاس میںبچولیوں کا سب سے اہم کردار گودام سے ملر اور ملر سے پھر گودام تک اناج کو پہنچانے اور لے جانے میںسامنے آیا۔یہیںپر شروع ہوتا ہے کاغذوںکا کھیل،جس میںمال ڈھلائی کے بدلے کاغذ پر دھان کی خریداری اور چاول جمع کرنے کی تکنیکی روایت تیار کی گئی،جس کے حصہ دار گودام کے چوکیدار سے لے کر ایس ایف سی کے بڑے افسر تک بنے۔ اس وقت کے ایس ایف سی منیجر دھرمیندر کمار کے اوپر اس معاملے کو لے کر بی جے پی کے سابق ایم ایل اے رامیشور چورسیا کے ذریعہ اسمبلی میںسوال بھی اٹھایاگیا تھا۔ لیکن جانچ کے بعد پورا معاملہ ٹھنڈے بستے میں چلا گیا۔ ان جانچوںمیںاٹھاؤ کے دوران جب پایا گیا کہ جن گاڑیوںسے دھان اور چاول کی ڈھلائی ہوئی ہے، وہ ٹرک نہیںبلکہ کمانڈر جیپ اور آٹو تھے، وہیںپر خریداری میںگھوٹالے سامنے آنے لگے۔ نگرانی محکمے کے ایس پی راجندر پرساد کے ذریعہ کی گئی جانچ اور تیار کی گئی رپورٹ پر اب تک کارروائی کا نہیں ہونا بہت بڑا سوال ہے جو سرکار اور محکمے کے بڑے افسروں کو کٹہرے میںکھڑا کرتا ہے۔
برباد ہوتا ہے دس ہزارمیٹرک ٹن سے زیادہ اناج
دھان اور گیہوں کی خریداری کے بعد گوداموں کے فقدان میںکسانوں سے لی گئی فصل کھلے آسمان کے نیچے ایس ایف سی نے جمع کرائی۔ کبھی بارش تو کبھی پانی اکٹھا ہونے کے سبب فصل کا جزوی نقصان ہوا۔اس جزوی نقصان کو بڑے پیمانے کا نقصان دکھا کر ہر سال دس ہزار میٹرک ٹن سے زیادہ اناج سڑنے کی رپورٹ تیار کی گئی جبکہ ایک ہزار میٹرک ٹن اناج بھی نہیںسڑا۔ سڑے ہوئے اناج کو کہاںبھیجا گیا ، اس کی بھی کوئی رپورٹ جانچ میں نگراں ایس پی راجندر پرساد کو نہیں ملی ۔ یہ بھی ایک اہم سوال تھا۔ سال 2013 کے بعد سرکار نے خریدی گئی فصل سے اٹھاؤ اور جمع کرنے کے سسٹم میں تھوڑی تبدیلی کی،جس میںکہا گیا کہ ہر خرید مرکز کے پاس والے ملروں کو چاول بنانے کی ذمہ داری دی جائے۔ اس کی بھی روہتاس میںجم کر خلاف ورزی ہوئی۔ کبھی نوکھا خرید مرکز کا دھان چناری تو کبھی کرگہر خرید مرکز کا دھان نٹوار بھیج کر ٹرانسپورٹیشن کی رقم نکاسی میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگی برتی گئی۔
نوڈل ایجنسی کم ہونے سے کسانوں کا ہوا نقصان
سال 2010 سے پہلے بہار میں کسانوں کی فصل خریداری کی ذمہ داری کیندریہ کھادیہ نگم، وسکومان، نیفیڈ، پیکس کے ساتھ پرائیویٹ کوآپریٹو کمیٹیوں کے اوپر تھی ۔ زیادہ ایجنسیوں کے ہونے کے سبب بازار میںفصل کی قیمت ہمیشہ اچھی رہتی تھی، جس کا بالواسطہ طور پر فائدہ کسانوںکو مل جاتا تھا۔2010 کے بعد جب راجیہ کھادیہ نگم کو خرید نوڈل ایجنسی بنایا گیا جس کے تحت پیکسوں کو لاکر خریداری شروع کی گئی تو کسانوںکے سامنے بازار کے متبادل کم ہوگئے۔ متبادل کم ہونے کی وجہ سے محدود بازار میںمحدود قیمت کی صورت حال پیدا ہوئی، جس کا سیدھا اثر کسانوںپر پڑا۔ کسان لیڈر منوج کمار سنگھ نے بتایا کہ جب سے ریاستی سرکار نے راجیہ کھادیہ نگم کو نوڈل ایجنسی بنایا ہے، اس کے بعد سے ہی کسانوں کی فصل خریداری میںبچولیوں کا کردار بڑھ گیا ہے۔ انھوںنے بتایا کہ اب تک کی فصل خریداری تاریخ میںصرف 2010-11 کا مالی سال ہی رہاجب سرکار کے ذریعہ تعین کیے گئے دو لاکھ تیس ہزار میٹرک ٹن کے ہدف کو روہتاس انتظامیہ نے پار کیا۔ ورنہ اس سے پہلے یا بعد میںہمیشہ خریداری کے ہدف سے انتظامیہ پچھڑتا رہا ہے۔اس کے پیچھے صرف نوڈل ایجنسیوںکی منمانی اور بچولیوںکا کردار اہم ہے۔

 

 

 

 

 

ٹرانسپورٹر بھی شک کے دائرے میں
دھان کے کٹورا روہتاس میںکسانوںکی فصل خریداری میںبچولیوںکے کردار کو اہم بنانے میںٹرانسپورٹروں کا کردار بھی اہم رہا ہے۔ جانچ میںگاڑیوں کے نمبر میںملی گڑبڑی ٹرانسپورٹروں کے کردار کو مشکوک کرتی ہے جو ایس ایف سی سے گودام سے ملر اور ملر سے ایف سی آئی گودام تک اناج پہنچانے میںکئی شاطرانہ ہتھکنڈے اپناکر ٹرانسپورٹیشن کے لیے ملنے والی رقم میںکروڑوں روپے کے وارے نیارے کرتے رہے ہیں،جسے دیکھ کر روہتاس انتظامیہ نے اس سال ایسی گاڑیوںسے ٹرانسپورٹیشن نہیں کرنے کی ہدایت دی ہے، جن میںجی پی ایس سسٹم کا فقدان ہو۔ یہاں تک کہ پی ڈی ایس دکانوںتک بھیجے جانے والے اناج کو لے جانے والی گاڑیوں میںبھی جی پی ایس کا ہونا ضروری کردیا گیا ہے۔ دیکھنا ہے جی پی ایس سسٹم ٹرانسپورٹروں پر کس حد تک قابو پاتا ہے۔ اس سال تین لاکھ میٹرک ٹن کے آس پاس دھان کی خریداری کے ہدف کے بعد ضلع کے کسانوں کے پاس 13 لاکھ میٹرک ٹن دھان بچے گا جو ساہوکاروں اور پرائیویٹ ملروںتک پہنچے گا، جس کی قیمت ایک ہزار روپے فی کونٹل بھی مل جائے تو بھگوان بھروسے ہے۔
پیکسوں کا کردار بھی کم مشکوک نہیں
اس سال روہتاس میںتقریباً ایک درجن پیکس دھان خریداری سے محروم رہ جائیںگے کیونکہ ان کے اوپر ایس ایف سی کے لاکھوںروپے باقی ہیں۔ بیس سے تیس پیکس ایسے ہیں جن کے اوپر فی پیکس پچاس لاکھ روپے بقایا میںسے اس کا 25 فیصد حصہ جمع کرنے کے بعد دھان خرید کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔جانچ کے دائرے میںابھی بھی تیس سے چالیس پیکس اجازت کے انتظار میںہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کو ظاہر کررہے ہیں کہ کہیںنہ کہیں خریداری کے دوران پیکسوںکی طرف سے بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی ہے۔ 24 نومبر کو ضلع کے بیس سے زیادہ ملروں نے ضلع افسر انیمیش پراشر سے مل کر مختلف پیکسوں پر تقریباً چھ کروڑ ر وپے بقایا ہونے کی لسٹ سونپی تھی جو دو سال سے نہ تو دھان دے رہے ہیں اور نہ ہی اس کی قیمت۔ ان پیکسوں کے اوپر جانچ کرنے کے بعد ڈی ایم کی طرف سے کارروائی کی ہدایت دی گئی۔ اتنے بڑے پیمانے پر پیکسوںکے ذریعہ کی جارہی بے ضابطگی کے باوجود راجیہ کھادیہ نگم کے ذریعہ ان پر اطمینان کرنا بہت بڑا سوال کھڑا کرتا ہے۔ کھادیہ نگم سے ملے اعدادو شمار کے مطابق تیس کروڑ روپے سے زیادہ کے بقایا دار ضلع کے مختلف پیکس ہیں۔ یہ پیسے کسانوںتک نہیں پہنچے ہیں جس کے لیے کسان کوآپریٹو محکمہ کے لگاتار چکر لگا رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *