سانحہ کو یاد رکھنے کا انوکھا طریقہ

Share Article

ہندوستان اور بعض دیگر ممالک کی خواتین نے اپنے ان کپڑوں کی تصاویر لینے کے لیے ایک مہم شروع کی ہے جن کپڑوں میں ان کا جنسی استحصال ہوا یا پھر ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی۔
ایسے لباسوں کی تصویر لینے کی مہم ‘بلینک نوائز’ نامی ایک خیراتی ادارے کی جانب سے چلائی گئی ہے۔بین الاقوامی سطح پر خواتین کے ساتھ ہونے والے مظالم اور جنسی زیادتی جیسے مسائل کے تعلق سے یہ ادارہ 2003 میں قائم کیا گیا تھا۔
اس تنظیم سے وابستہ جیسمین پٹھیجا کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے کے لیے ایسے دس ہزار کپڑوں کی تصاویر چاہتی ہیں۔اس پروجیکٹ کا نام ‘آئی نیور آسک فار اٹ’ ہے، یعنی میں نے تو اس کے لیے نہیں کہا۔قابل ذکر ہے کہ اس سال کے آغاز میں نئے سال کی تقریب کے موقع پر انڈیا کے جنوبی شہر بنگلور میں ہونے والے جنسی تشدد کے واقعات پر کافی ہنگامہ ہوا تھا۔اس معاملے میں اب تک کم سے کم چھ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس سے متعلق کئی ویڈیو کلپز آن لائن شیئر کیے گئے تھے۔بہت سی خواتین کا کہنا تھا کہ ان پر حملہ کرنے سے پہلے مردوں کی بھیڑ نے انھیں گھیرے میں لے لیا تھا۔
اس معاملے میں ایک وزیر کے متنازع بیان پر بھی کافی نکتہ چینی ہوئی تھی۔ وزیر کا کہنا تھا کہ ایسا واقعہ اس لیے ہوا ہے کیونکہ عورتوں نے ‘مغربی طرز کے کپڑے پہن رکھے تھے۔’آئی نیور آسک فار اٹ’ پروجیکٹ کے تحت پہلی کہانی ایک انڈین خاتون ایشوریہ کی پیش کی گئی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ایک بار ایک ٹیکسی ڈرائیور نے ان سے کہا تھا کہ انھوں نے مناسب کپڑے نہیں پہن رکھے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس پر بحث ہونے کے بعد انھیں کئی سارے مردوں نے گھیر لیا تھا اور صورت حال اس وقت اور خراب ہو گئی جب فیس بک پر انھیں اس کے لیے برا بھلا کہا گیا۔’میں پورے ہفتے باتھ روم میں جا کر روتی رہی اور پریشان رہی کہ کہیں کوئی آدمی مجھے پہچان لے گا اور میرے ساتھ جنسی زیادتی کر بیٹھے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *