بنگلور کی کراچی بیکری پر ٹوٹا لوگوں کا قهر- ڈھکنا پڑا سٹور کا نام

Share Article

 

بنگلور میں کراچی بیکری نام کی ایک مشہور بیکری ہے، جمعہ کی رات لوگوں نے اس بیکری کے باہر جم کر مخالفت کی، اس بیکری کو بند کرنے کا مطالبہ اٹھائی گئی، مخالفت اس قدر بڑھ گیا تھا کہ نوبت مسمار تک پہنچ جاتی، لیکن مخالفت بڑھتا، بیکری کے مینیجر نے اس کے نام کو فوری طور پر ڈھک دیا لوگوں نے یہ مطالبہ کیا ہے یا تو بیکری بند کر دو یا بیکری کا نام تبدیل کرو۔

 

سننے میں یہ خبر تھوڑی اٹپٹي سی لگتی ہے،لیکن سچ یہی ہے کہ بنگلور میں واقع کراچی بیکری پر لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا، جب لوگوں نے اس بیکری کے نام کی مخالفت کی تو اس بیکری کے نام کو ڈھکنا پڑا، جموں وکشمیر کے پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد ملک میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔پاکستان کے خلاف لوگوں کا غصہ سڑکوں پر بھی پھوٹا، جگہ جگہ پر لوگوں نے پاکستان مردہ باد کے ساتھ ساتھ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بھی نعرے لگائے لگائے گئے۔ اسی درمیان اپنے نام کو لے کر ایک بیکری لوگوں کے غصے کا شکار بن گئی ہے۔

 

Image result for karachi bakery in bangalore

احتجاج کرنے والے لوگوں نے کی بیکری کا نام تبدیل کرنے کی مانگ کی۔
دراصل بنگلور میں کراچی بیکری نام کی ایک مشہور بیکری ہے، جمعہ کی رات لوگوں نے اس بیکری کے باہر جم کر مخالفت کی، اس بیکری کو بند کرنے کا مطالبہ اٹھائی گئی، مخالفت اس قدر بڑھ گیا تھا کہ نوبت مسمار تک پہنچ جاتی، لیکن مخالفت بڑھتا، بیکری کے مینیجر نے اس کے نام کو فوری طور پر ڈھک دیا لوگوں نے یہ مطالبہ کیا ہے یا تو بیکری بند کر دو یا بیکری کا نام تبدیل کرو۔

 

Image result for karachi bakery in bangalore

 

كھن چندر رماني نے 1952 میں کی تھی کراچی بیکری کے آغاز
آپ کو بتا دیں کہ جو معلومات ملی ہے اس کے مطابق كھن چندر رماني نام کے ایک شخص نے 1952 میں اس بیکری کے آغاز یہاں کی تھی۔ وہ 1947 میں تقسیم کے بعد پاکستان کے کراچی سے حیدرآباد آ گئے تھے، لہٰذا انہوں نے اپنی بیکری کا نام اپنے آبائی گاؤں کے نام پر رکھا یعنی کراچی تب سے لے کر اب تک بنگلور میں کراچی بیکری کافی مشہور ہے، لیکن پلوامہ حملے کے بعد اس بیکری کا نام لوگوں کو ناگوار گزر رہا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کراچی نام 1952 سے ہے، اب تک لوگوں کو اس نام سے اعتراض نہیں تھا لیکن پلوامہ حملے کے بعد لوگوں کا اعتراض اچانک آ گیا ہے، مطلب کیا کچھ وقت بيت جانے کے بعد لوگوں کو یہ نام برا نہیں لگے گا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *