سترہویں لوک سبھا میں ملک کے مسلمانوں کی سیاسی بیداری اور سوجھ بوجھ سے 27مسلمان امیدواروں نے جیت حاصل کی ہے

Share Article

 

27مسلمان 17ویں لوک سبھا میں پہنچے ،تین مسلم خواتین نے بھی جیت حاصل کر کے تاریخ رقم کی ہے

 

 

سترہویں لوک سبھا میں ملک کے مسلمانوں کی سیاسی بیداری اور سوجھ بوجھ سے 27مسلمان امیدوار جیت حاصل کرکے پارلیمنٹ میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اترپردیش میں جہاں پچھلی بار ایک بھی مسلمان جیت حاصل نہیں کر پائے تھے، اس بار 6 ممبران پارلیمنٹ نے جیت حاصل کی ہے۔ اسی طرح مغربی بنگال سے بھی 6 ممبران پارلیمنٹ نے جیت حاصل کرکے تاریخ رقم کی ہے۔ 16ویں پارلیمنٹ میں مسلم ممبران پارلیمنٹ کی تعداد 23تھی جو کی اس بار پڑھ کر 27 ہو گئی ہے، یعنی مسلمانوں نے اس بار اپنی سیاسی بیداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 ممبران پارلیمنٹ کا اضافہ کیا ہے۔

 

لوک سبھا انتخابات میں جن مسلمانوں نے جیت حاصل کی ہے، اس میں آسام کے ڈھبری سے یو ڈی ایف کے سربراہ مولانا بدرالدین اجمل۔ بارپیٹا سے کانگریس امیدوار عبد الخلیق، بہار کے کھگڑیا سے چودھری محبو ب علی قیصر، کشن گنج سے ڈاکٹر محمد جاوید، جموں وکشمیر سے حسنین مسعود۔محمد اکبر لون،فاروق عبد اللہ، اسی طرح انڈین مسلم یونین لیگ کے تین امیدوار میدان تھے جن میں سبھی نے جیت حاصل کی۔ کیرالہ میں ای ٹی محمد بشیر اور پی کے کنہلی کٹی جبکہ تمل ناڈ و کی راماننت پورم لوک سبھا سیٹ سے انڈین مسلم یونین لیگ کے امیدوار نواز کانی نے جیت حاصل کی۔اس کے علاوہ کیرالہ کی ایک اور لوک سبھا سیٹ سے ای ایم عارف نے کامیابی حاصل کی۔لکشدیپ سے محمد فیضل۔پنجاب سے محمد صادق۔حیدر آباد سے اسد الدین اویسی۔اورنگ آباد ایم آئی ایم کے امتیاز جلیل،اتر پردیش کے امروہہ سے کنور دانش علی، سہارنپور سے حاجی فضل الرحمن، سنبھل سے شفیق احمد برق، مرادآباد سے ڈاکٹر ٹی ایس حسن،رامپور سے اعظم خان،غازی پور سے افضال انصاری، اس کے علا ہ مغربی بنگال سے نصرت جہاں روحی، خلیل الرحمن،ابو طاہر خان،ساجدہ احمد، آفرین علمی اور ابو ہشیم خان نے جیت حاصل کی ہے۔اس میں سے شروع کے پانچ ٹی ایم سے کے امیدوار تھے جبکہ ایک کانگریس نے جیت حاصل کی ہے ۔

 

واضح رہے کہ سولہویں لوک سبھا میں کل 23 مسلمان لوک سبھا پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔سال رواں سب سے زیادہ اتر پردیش اور اس کے بعد مغربی بنگال سے مسلمانوں نے جیت حاصل کی ہے۔ بہار میں مسلم امیدواروں کی جیت کا تناسب اس الیکشن میں افسوسناک رہا۔سب سے بڑی بات اس بار کے انتخاب میں جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ 3 مسلم خواتین نے بھی جیت حاصل کرکے پارلیمنٹ میں پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *