ہندوستان کی 14.2 فیصد مسلم آبادی کا سیاسی طور پر امپاورمنٹ نہیںہونا ایک تلخ حقیقت ہے۔ پارلیمانی سطح ہو یا اسمبلی یا بلدیاتی یا پنچایتی ، ہر جگہ یہ اپنی آبادی کے تناسب سے کافی پیچھے ہیں۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کو سامنے رکھیں تو 543 ارکان والی لوک سبھا میں صرف 23 مسلمان منتخب ہوئے۔ یعنی محض 4.2 فیصد جبکہ ان کی آبادی کے تناسب میںیہ تعداد 77 ہونی چاہیے تھی۔ اس انتخاب میں مسلمان صرف سات ریاستوں میںمغربی بنگال (8)، بہار (4)، جمو ںو کشمیر اور کیرل (3-3)، آسام (2)اور تمل ناڈو اور تلنگانہ (1-1) نیز ایک یونین ٹیری ٹوری لکش دیپ سے منتخب ہوئے۔ حیرت کی بات تو یہ رہی کہ باقی 22 ریاستوں اور 6 یونین ٹیری ٹوریز سے ان کی لوک سبھا میںکوئی نمائندگی نہیں ہوئی۔
یہ تو رہی ریاستی سطح پر مسلم نمائندگی کی پوزیشن جبکہ پارٹی کی سطح پر بھی مایوس کن حالت ہے۔ لوک سبھا میںموجود کل 37 پارٹیوں میںصرف گیارہ پارٹیوںکے 23 مسلم نمائندے ہیں۔
یہی صورت حال ریاستی سطح پر اسمبلیوںمیںہے۔ جہاںتک ریاست گجرات جہاں9 اور 14 دسمبر کو انتخابات ہورہے ہیں،کا معاملہ ہے، یہاںتقریباً 10 فیصد مسلم آبادی ہے۔ مگر گزشتہ 2012 کے اسمبلی انتخابات میں182 سیٹوںوالی اسمبلی میںصرف دو مسلمان منتخب ہوئے، جس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ گجرات اسمبلی میںمسلم نمائندگی محض ایک فیصد ہوئی۔
ماضی کی صورت حال کا جائزہ لیںتو اندازہ ہوتا ہے کہ 1980 کے اسمبلی انتخابات میں17 مسلمان کھڑے ہوئے تھے جن میںسے ایک درجن کامیا ب ہوکر اسمبلی میںپہنچ گئے۔ اس کے برعکس 1990 کے اسمبلی انتخابات میں11 مسلمانو ںکو ٹکٹ ملا جبکہ ان میںسے صرف 3 جیت پائے۔ 2012 کے اسمبلی انتخابات میںٹکٹ پانے والوںکی تعداد صرف 5 پر محدود ہوگئی، جن میںسے صرف دو ہی کامیاب ہوکر اسمبلی پہنچے۔

 

 

 

 

 

 

اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک ایسی ریاست جہاں1980 میںمسلم نمائندگی آبادی کے تناسب کے آس پاس یعنی 10 فیصد تھی۔ان دنوںاس ریاست سے تینوںارکان راجیہ سبھا بھی مسلمان ہی تھے۔ آج سینئر کانگریس لیڈر اور صدر کانگریس کے سیاسی سکریٹری احمد پٹیل اس ریاست سے واحد مسلم رکن راجیہ سبھا ہیں۔ اس سال کے اوائل میںاحمد پٹیل بہت ہی مشکل سے جیتے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ احمد پٹیل ان اصحاب میںسے ہیں جو کہ ایمر جنسی کے بعد ہوئے کانگریس کے لیے بہت ہی سخت انتخابات میںکانگریس کے ٹکٹ پر جنوبی گجرات میںبھروچ سے محض 28 برس کی عمر میںلوک سبھا کے لیے منتخب ہوکر ریکارڈ بنایا تھا۔ یہ وہی وقت تھاجب ان کی اس صلاحیت کو بھانپتے ہوئے اندرا گاندھی جو کہ خود بری طرح ہار گئی تھیں،انھیںپارٹی میںآگے بڑھایا تھا۔ ویسے یہ بھی عجب بات ہے کہ اس وقت لوک سبھا میں گجرات سے کوئی بھی مسلم نمائندگی نہیں ہے۔
جہاںتک 2017 کے اسمبلی انتخابات میںٹکٹ کی تقسیم کا معاملہ ہے، اس کا تو سلسلہ ابھی چل رہا ہے۔ گجرات کانگریس ترجمان منیش دوشی کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کا یہ موقف ہے کہ جہاںمسلمانوں کے جیتنے کے امکانات ہیں، وہاں انھیں ٹکٹ دیا جائے اور ان کی پارٹی سماج کے تمام طبقات کو نمائندگی دیتی ہے۔ منیش دوشی کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے کہ آخر 1980 میں17 مسلمانوں کو اسی کانگریس نے ٹکٹ دیا تھا اور ان میںسے 12 کامیاب ہوئے تھے، پھر 2012 میںکیا ہوگیا کہ یہ صرف 5 مسلمانوں کو انتخابات میںکھڑا کر پائی؟ ریاست گجرات کے مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ کانگریس جو کہ ریاست میں مسلم نوازی کا دم بھرتی ہے، وہ مسلمانوں پر سیاست کرنے کے بجائے انھیں سیاسی طور پر مضبوط بنائے او راس کے لیے انھیںان کی آبادی کے تناسب کا خیال رکھتے ہوئے 1980 کی طرح 17 ٹکٹ تو دے ہی ۔
دوسری جانب ریاست گجرات کے مسلمانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بی جے پی جو کہ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ریاست کے مسلمان اس کے ساتھ ہیں تو وہ بھی انھیں ریاست کی سیاست میںبھرپور نمائندگی دے۔ وہاںکے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ابھی حال میںوزیر اعلیٰ روپانی کی ایک اہم عوامی میٹنگ میںمسلمانوںکے بڑے مجمع کو دکھایا گیا جس سے یہ تاثر دینا مقصود تھا کہ ریاست کا مسلمان بی جے پی کے ساتھ ہے۔ اس اہم موڑ پر ظفر سریش والا جیسی شخصیات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بی جے پی کو اس بات کے لیے قائل کریںکہ وہ 2017 کے اسمبلی انتخابات میںمسلمانوںمیںمثبت پیغام دینے کے لیے چند مسلم امیدوار کھڑا کریں۔ بہر حال اب دیکھنا ہے کہ مسلمانوں کے نام پر یہ دونوں پارٹیاں صرف سیاست کرتی رہیںگی یا اس سے اوپر اٹھ کر انھیںسیاسی طور پر امپاور کرنے کے لیے کچھ ٹھوس اقدامات اٹھائیں گی؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here