لبنان اور شام کے درمیان 124 غیر قانونی سرحدی گزر گاہیں اسمگلنگ کا مرکزی ذریعہ

Share Article
The main source of smuggling of 124 illegal border crossings between Lebanon and Syria

 

لبنان اور شام کے درمیان غیر قانونی گزر گاہوں کے ذریعے اسمگلنگ ایسا دیرینہ مسئلہ ہے جس کی جڑیں گذشتہ صدی کی 70ء کی دہائی سے جا کر ملتی ہیں۔ یہاں اسے انسانوں کے علاوہ بہت سے اقسام کا سامان اسمگل کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لبنان کی معیشت کو بھاری نقصانات کا سامنا ہوتا ہے اور ملک کی سیکورٹی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لبنانی حکام اس رجحان پر روک لگانے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکے ہیں جو کسی وقت غائب ہو جاتا ہے اور کبھی پوری طرح زور پکڑ لیتا ہے۔

 

لبنان کے وزیر مالیات علی حسن خلیل نے چند ماہ قبل دفاعی سپریم کونسل کے اجلاس میں انکشاف کیا تھا کہ لبنان میں اسمگلنگ کے لیے 124 سے زیادہ (سرحدی) گزر گاہیں موجود ہیں۔ انہوں نے شکایتا کہا کہ ان گزر گاہوں کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے حقیقی اقدامات کرنے کی قدرت نہیں ہے۔لبنانی پارلیمنٹ میں بجٹ کو زیر بحث لانے کے دوران ایک سیکورٹی دستاویز سامنے آئی جس میں شام کے ساتھ زمینی سرحد پر 136 غیر قانونی گزر گاہوں کے وجود پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ ان میں ہر گزر گاہ کو اسمگلر کا نام اور اسمگل کی جانے والے سامان کی نوعیت کا نام دیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق کسٹم سے بچ کر نکلنے کے انسداد کے حوالے سے ریاست کی صلاحیت موجود نہیں۔سرحد پر قانونی اور غیر قانونی گزر گاہوں کے راستے شام سے آنے والا سامان لبنان میں داخل ہوتا ہے اور اس پر کوئی نگرانی نہیں ہوتی۔ اس طرح لبنانی پیداوار اور مصنوعات پر کاری ضرب لگتی ہے۔ ان اشیائ￿ میں مرغی، انڈے، گوشت، پھل، سبزیاں، دْھونی اور کپڑے وغیرہ شامل ہیں۔

 

لبنان کے علاقے البقاع میں کاشت کاروں اور کسانوں کی ایسوسی ایشن کے سربراہ ابراہیم الترشیشی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ “لبنان کی مارکیٹ میں کسی بھی سامان یا زرعی پیداوار کی قیمت میں مندی کا مطلب ہے کہ یہ چیز شام سے پہنچ چکی ہے۔ ملک میں ایسی مافیائیں موجود ہیں جنہوں نے 25 برس سے زیادہ عرصے سے ریاست کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور وہ خود کو ریاست سے زیادہ طاقت ور سمجھتی ہیں”۔شام میں جنگ کے آغاز کے بعد اسمگلنگ کی کارروائیوں میں کافی اضافہ ہو گیا۔ اس لیے کہ شام میں مقامی کرنسی کی قدر میں کمی کے سبب شامی تاجروں کو نقدی کی صورت میں ڈالر کی ضرورت ہوئی۔ علاوہ ازیں کئی عرب اور بین الاقوامی منڈیوں نے جنگ کے سبب اپنے دروازے شامی سامان اور مصنوعات کے لیے بند کر دیے۔الترشیشی کے مطابق شامی تاجر کے سامنے لبنانی مارکیٹ کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں رہا جاہں وہ محفوظ طریقے سے اپنی مصنوعات کو ٹھکانے لگا دے۔الترشیشی نے بتایا کہ اسمگلنگ کے ذریعے لبنان میں داخل ہونے والی مصنوعات اور اشیائ￿ پر طبی نقطہ نگاہ سے کوئی نگرانی نہیں لہذا ان کے نتیجے میں لبنانی صارفین کی صحت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

 

لبنان اور شام کے درمیان 375 کلو میٹر کے قریب طویل سرحد ہونے کے پیش نظر اس پر پوری طرح کنٹرول رکھنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔لبنانی فوج گذشتہ چند ماہ سے دونوں ملکوں کے بیچ غیر قانونی گزر گاہوں کی ایک بڑی تعداد کو ریت کی دیواروں کے ذریعے بند کر دینے میں کامیاب رہی۔ یہ گزر گاہیں شمالی البقاع کے علاقے میں تھیں۔عسکری ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ غیر قانونی گزر گاہوں کے ذریعے اسمگل کی جانے والی اشیائ￿ میں چوری کی ہوئی گاڑیاں سرفہرست ہیں۔ اس کے بعد ایندھن اور پھر زرعی مصنوعات کا نمبر آتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس رجحان کو روک لگانے کے لیے انتہائی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں سپریم دفاعی کونسل کے فیصلوں سے ہم آہنگ ہو کر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔لبنان میں بجٹ پر بحث کے دوران غیر قانونی گزر گاہوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی جن کے سبب ریاست کا خزانہ کروڑوں ڈالروں سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ منڈیوں میں غیر ملکی مصنوعات کی بھرمار ہونے کے سبب مقامی مصنوعات کو خسارے کا سامنا ہوتا ہے۔ غیر قانونی گزر گاہوں کے راستے اسمگلنگ کے نتیجے میں لبنان کو کسٹم ڈیوٹی اور ٹٰیکسوں کی مد میں ہونے والے مالی خسارے کا اندازہ 60 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔لبنان کے معیشت کے وزیر منصور بطیش نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں باور کرایا کہ گزر گاہوں کے ذریعے اسمگل کیے جانے والے سامان کی مجموعی مالیت کا اندازہ ایک ارب ڈالر کے قریب لگایا گیا ہے۔لبنانی وزیر کے مطابق دفاعی سپریم کونسل نے غیر قانونی گزر گاہوں کی بندش کا فیصلہ کر لیا ہے اور سیکورٹی ادارے اس میدان میں صورت حال درست کرنے میں مصروف ہیں۔

 

بطیش نے زور دے کر کہا کہ اس حوالے سے لبنانی موقف ٹھوس اور فیصلہ کن ہے اور غیر قانونی گزر گاہوں کی بندش کا فیصلہ واپس نہیں لیا جائے گا۔

 

لبنان کے صوبے کار میں واقع وادی خالد کے علاقے میں ایک اندازے کے مطابق غیر قانونی گزر گاہوں کی تعداد دس سے زیادہ ہے۔ یہاں اسمگلنگ کی کارروائیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ وادی خالد کی بلدیہ کے سربراہ نور الدین الاحمد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ان کے قصبے اور شامی اراضی کے بیچ مشترکہ سرحد کی کل لمبائی 18 کلو میٹر ہے۔ شام میں جنگ کے آغاز کے وقت سے بشار کی فوج نے سرحد پر بارودی سرنگیں بچھا دیں اور ریت کی رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ اس کے بعد یہ سرحدی پٹی پوری طرح کنٹرول میں آ گئی۔ الاحمد کے مطابق شام کی جنگ شروع ہونے سے قبل وادی خالد کا علاقہ شام سے اسمگلنگ کے لیے کھلا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *