پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کی تحصیل دِیر بالا وہ علاقہ ہے جہاں ماضی میں انتخابات میں خواتین کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔لیکن اس بار جولائی کے آخری ہفتہ میں ہونے والے انتخابات میں خواتین بھی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لے رہی ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک کی نصف آبادی کو کبھی اسلام کے نام پر اور کبھی معاشرتی روایات کے نام پر انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے سے روک دیا جاتاتھا بلکہ بہت سی خواتین کو ووٹر لسٹ میں شامل ہی نہیں کیا گیا ۔الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریباً ساڑھے دس کروڑ ہے۔ جن میں مرد ووٹرز 5.8 کروڑ سے زائد اور خواتین ووٹرز 4.5 کروڑ سے زائد ہیں لیکن خیبر پختونخوا میں ہر100 میں سے 25 خواتین ایسی ہیں جن کے ووٹ رجسٹرڈ نہیں ہیں یا ان کے پاس شناختی کارڈ ہی نہیں۔ بلوچستان میں 100 میں سے 27، پنجاب میں 22 جبکہ سندھ میں 20 خواتین ان عام انتخابات میں حصہ نہیں لے پاتی ہیں۔
اس مرتبہ انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین میں ایک خاتون حمیدہ شاہد ہیں ۔وہ ضلع دیر بالا سے میدان میں اتری ہیں۔ وہ صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے10 سے امیدوار ہیں۔انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انتہائی عزم و حوصلہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بات درست ہے کہ ہمارے پسماندہ علاقوں میں خواتین کے لیے انتخاب لڑنا ایک مشکل عمل ہے لیکن آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ کچھ ماہ قبل ضمنی انتخاب کے دوران یہاں خواتین کی ایک بڑی تعداد نے ووٹ ڈالا جو ایک مثبت قدم تھا۔لیکن میں صرف ووٹ ڈالنے تک محدود رہنا نہیں چاہتی۔ میں چاہتی ہوں کہ خواتین ایک قدم آگے بڑھیں اور مردوںکی طرح ہر انتخاب میں بطور امیدوار میدان میں اتریں۔یاد رہے کہ رواں برس فروری میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مقامی آبادی کے مطابق اپر اور لوئر دیر میں خواتین نے تقریباً چار دہائیوں کے بعد بڑی تعداد میں حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا۔
 
 
 
خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کی خواتین حال ہی میں ایک اور حوالے سے بھی خاصی متحرک نظر آئیں اور وہ تھی ’پشتون تحفظ موومنٹ‘۔ اس تحریک کے منفی یا مثبت پہلو سے قطع نظر اس میں بھی نوجوان اور تعلیم یافتہ خواتین کا کردار انتہائی نمایاں رہا۔اس بار کسی مخصوص طبقے یا خاندان کا سہارا لیے بغیر خواتین کی خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کی سیاست میں شمولیت سے ایک مجموعی تبدیلی کا رجحان نظر آ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انتخابات میں چاہے خاتون امیدوار ہوں یا خاتون ووٹر دونوں اپنی اہمیت اور موجودگی کا بھرپور احساس دلائیں گی۔
الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں مجموعی طور پر 76 لاکھ سے زیادہ خواتین ووٹر ہیں۔ تاہم کئی عشروں سے رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی اتنی بڑی تعداد ہونے کے باوجود خواتین کی پارلیمنٹ میں براہ راست نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے اور انھیں اکثر مخصوص نشستوں کا سہارا لینا پڑتا ہیں۔جب حمیدہ شاہد سے پوچھا گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ خواتین ووٹ ڈالنے میں دلچسپی نہیں لیتی ہیں تو انہوں نے کہا کہ ان خواتین اور ان کے حقوق کو یکسر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، امیدوار اور مقامی افراد گھر کے باہر ہی فیصلہ کر دیتے تھے کہ سیاست صرف مرد کر سکتا ہے اور ووٹ بھی وہی ڈالے گا۔
میں سمجھتی ہوں کہ اگر خواتین کے ووٹوں سے مرد کے جیتنے میں کوئی قباحت نہیں، تو میرے خیال میں یہی خواتین ایک عورت کی حمایت میں نکلیں تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ان کے خیال میں مقامی افراد میں ووٹ سے متعلق آگاہی پھیلانا سب سے اہم قدم ہے۔جب تک آپ کسی کو پیغام نہیں پہنچائیں گے اور رہنمائی نہیں کریں گے کہ ووٹ کیا ہے تب تک ووٹ کی اہمیت کسی کو پتہ نہیں چلے گی۔ ابھی لوگوں کو ووٹ کی اہمیت کا پتہ چلا ہے خاص طور پر خواتین کو کہ ہمارے ووٹ کی اہمیت یہ ہے کہ ہم کس رہنما کو چنیں گے اور کس کو ووٹ دیں گے کہ وہ ہمارے آنے والے وقت کے لیے بہتر ہو گا۔‘
خیال رہے کہ ان کا حلقہ دِیر بالا جماعتِ اسلامی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہاں سے جیت آسان نہیں ہے۔ مقامی افراد کے مطابق 2013 کے انتخابات میں اس علاقے سے صرف ایک خاتون نے ووٹ ڈالا تھا جبکہ یہاں تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار خواتین ووٹرز رجسٹرڈ تھیں جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق جولائی میں ہونے والے انتخابات میں یہاں رجسٹرڈ ووٹرز میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد خواتین بھی شامل ہیں۔
اس مرتبہ متعدد خواتین کا انتخابی میدان میں آنا مرد سیاستدانوں کے لیے اگر خطرے کی گھنٹی نہیں تو ایک چیلنج ضرور ہے اور یہ بات واضح ہے کہ مسقبل قریب میں صوبے اور ملک کے سیاسی میدان میں ان کا کلیدی کردار ہو گا۔البتہ انتخاب کے وقت ایک چیلنج ہوگا کہ علاقہ میں مذہبی جماعت کا تسلط قائم ہے ۔اگر ووٹنگ کے دوران خواتین کے پردے کا خاص لحاظ نہیں رکھا گیا تو ممکن ہے کہ ان مذہبی جماعتوںکوبولنے کا بھرپور موقع مل جائے اور پھر ووٹنگ کے تعلق سے خواتین میں آنے والی تبدیلی ایک مرتبہ پھر پہلے کی طرح منجمد ہوجائے۔ اس لئے اس مرتبہ الیکشن میں خواتین کے پردے کا خاص لحاظ رکھا جائے گا۔ووٹ کے لیے باہر نکلنا کوئی گناہ نہیں ہے۔ خواتین کے لیے علاحدہ پولنگ بوتھ ہوں گے، جہاں انھیں سیکورٹی ملے گی، پردے کا انتظام ہو گا۔ اگر ان خواتین کے پردے اور عزت کا خیال رکھا جائے تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here