جموں وکشمیر میں انٹرنیٹ نہ چلنے کی وجہ سے لوگ پریشان، معلومات حاصل کرنے میں ہو رہی ہے دشواری

Share Article

 

اگست کی صبح جب ریاست جموں وکشمیر کے خصوصی دفعہ 370 اور 35 اے کو منسوخ کئے جانے سے قبل بھاری تعداد میں سیکورٹی فورسسز کی تعیناتی چپے چپے پر کی گئی تھی۔ سات ہفتہ بعد بھی تاحال اْنہی جگہوں پر بدستور تعینات ہیں۔ اس سب کے بیچ مواصلاتی نظام وادی کشمیر میں معطل ہے۔ گرچہ صوبہ جموں میں موبائل فون سروس کو بحال کیا گیا ہے تاہم انٹرنیٹ سروس پر مکمل طور پابندیاں ابھی جاری ہیں۔

انٹرنیٹ پر عائد پابندی کی وجہ سے صحافی برادری کا کام بْری طرح مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ معلومات حاصل کرنا میڈیا افراد کے لئے بہت مشکل ہو گیا ہے۔ تمام سیاسی سماجی کارکنان نے میڈیا سے دوری اختیار کر لی ہے دوری کے پیچھے کیا وجوہات ہیں، وہ ہی بہتر جانتے ہیں۔

مختلف قسم کے فیس بْک و یوٹیوب پر چلنے والے سوشل میڈیا چینل بند ہونے کے دہانے پر کھڑے ہیں کیونکہ دیکھنے والوں کی تعداد لاکھوں سے کم ہو کر سینکڑوں تک پہنچ گئی ہے۔ اس وجہ سے عام لوگوں کی آواز بھی دب سی گئی ہے جس کا فائدہ سرکاری ملازمین پورا اْٹھا رہے ہیں ڈیوٹی سے غیر حاضری لاپرواہی عروج پر ہے۔انٹرنیٹ معطلی نے ہزاروں نوجوانوں کا روزگار چھین لیا ہے۔ جن دکانوں پر ہر روز سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کا آنا جانا رہتا تھا۔ اب وہاں سناٹا چھایا ہوا ہے۔انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے ترقیاتی کام ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔اخبارات،مقامی ٹی.وی چینلوں پر انفارمیشن کے پریس نوٹ ہی شائع ہو رہی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *