قرآن سائنس اور ماحولیات

Share Article

وصی احمد نعمانی
اللہ نے کتنے جتن سے زمین کے چاروں طرف ایک مضبوط ڈھال بنا کر اس نیلی دھرتی اور اس پر بسنے والے جانداروں کی ہر طرح سے حفاظت کی ہے۔ جب ماحولیات کے بہت سے اہم نکات اور باریکی پر غور کرتے ہیں تو عقل و خرد بھی سپر ڈال کر اللہ کے حضور سر بہ سجود ہوجاتے ہیں۔اللہ نے اسی زمین کی سطح کے اوپر اور سمندروں میں کوہِ آتش فشاں کی تخلیق کرکے اسے حکم دیا کہ زمین کے اندر کے بے شمار معدنیات کو زمین پر بکھیر دیے تاکہ اس سے زمین زرخیز ہوکر بڑے بڑے جنگلات اور نہایت خوبصورت جھرنوں کی تعمیر کرے۔ جنگل آکسیجن ، نائٹروجن ،کاربن ڈائی آکسائد جیسے گیسوں کے توازن کو برقرار اور بحال رکھے ۔جھرنے کے پانی کی سپلائی کو خوبصورت سے جاری رکھ کر زندوں کے لئے حیات کا سامان مہیا کیا،پھر اس لرزتی ہوئی زمین پر بڑے بڑے پہاڑوں کو جما کر اسے استقامت عطا کیا ورنہ یہ کوہ آتش فشاں زمین کے اندر موجود لاوا کی وجہ سے جانداروں کو ایک لمحہ بھی چین نہیں لیتے دیتے اور نہ کوئی زندہ انسان ٹھیک سے اس زمین پر کھڑا ہوسکتا تھا۔ ان ہی پہاڑوں کی  وجہ سے زمین میں ٹھہرائو پیدا ہوا۔ اس طرح اللہ نے ایک طرف زمین کے اندر کے لاوا کو باہر نکال کر کھاد اور دیگر کیمیاء کی سپلائی کو جاری کرکے زمین کے اندر کی اتھل پتھل کو کنٹرول میں رہنے کا انتظام کیا تو دوسری طرف لرزتی تھرتھراتی اور کانپتی ہوئی زمین کو پہاڑوں سے استقامت عطا فرمایا۔

کبھی بارش برسا کر، کبھی زمین سے کوہ آتش فشاں کو نمودار کرکے،  اس کے دہانے سے بے شمار قسم کی گیسوں کے اخراج سے فضا کی تشکیل کی جاتی ہے۔ ہر جگہ یا طبقہ یا منطقہ میں الگ الگ درجۂ حرارت پیدا کرکے ، زمین کو اپنے محور پر 23.5 شمال کی جانب جھکا کر ہمیشہ گردش میں رہنے کا حکم دے کر زمین کے چاروں طرف کی مستقل فضا کو برقرار رکھ کر اللہ اپنی موجودگی اور بے مثال کرشمہ سازیوں کا ثبوت پیش کرتا رہتا ہے اور جوانسان صحیح عقل و شعور رکھتے ہیں انہیں دعوت فکر دے کر اللہ کو پہچاننے کی مہلت دی جاتی رہتی ہے۔

اس کی کرشمہ سازی تو دیکھئے کہ پوری دھرتی کے پیٹ کو چین سے شروع کرکے تبت ، ہندوستان، پاکستان سے ہمالیہ پہاڑ جیسی بلند و بالا کھوٹی یا میخ کے ذریعہ اسے جوڑ کر مضبوط کر دیا اور اسی پہاری سلسلہ کو اس کے نشیب و فراز کی خصوصیت کی وجہ سے ہزاروں کلومیٹر  کی رفتار سے اٹھنے والے طوفان کو لگام کردیا۔ یہی ہمالیائی پہاڑی سلسلہ آگے بڑھ کر ’’ اناطولیہ‘‘ میں واقع ’’ ٹورس مائونٹن‘‘ تک چلا جاتا ہے اور پھر انہیں پہاری سلسلوں کے ذریعہ اس دھرتی کے مغربی حصہ میں واقع بحر اوقیانوس یا مشرق میں بحر الکاہل کو آپس میں ملا دیتا  ہے۔ یہی پہاڑی سلسلہ یوروپ میں کوہ اپلس تک  چلا جاتا ہے۔ زمین کے اوپر اور سمندر کے اندر اسی پہاڑی سلسلہ کی وجہ سے پوری زمین بندھی ہوئی ٹھیک اپنے محور اور مدار پر ترتیب وار 1670 کلو میٹر اور 108000 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے لگ بھگ 4 ارب سال سے نہایت استقامت کے ساتھ گردش کر رہی ہے اور اس کی رفتار میں سرِ مو  فرق نہیں پیدا ہوتا ہے۔ سمندر میں جو زیادہ گرمی خط استوا پر سال بھر پڑتی ہے وہ پانی کی خصوصیت کی وجہ سے شمال اور جنو ب کی جانب مڑ کر فضا میں ایک توازن پیدا کردیتی ہے ۔ اس طرح گرمی کے تفاوت میں توازن برقرار ہوجاتاہے ۔ اس طرح ماحولیات کو برقرار اور معتدل رکھنے کے لئے ہزاروں قسم کے طبعی اور ماحولیاتی لوازمات کی ضرورت پڑتی ہے۔ زمین کا ایسا متناسب فرش جو کسی گہوارہ کا سکون دے، اللہ کے علاوہ کوئی پیدا نہیں کرسکتا ہے۔ ایک ہمالیہ پہاڑ کے ذریعہ زمین کی کوکھ یا کمر کو چاروں طرف سے بیلٹ کی طرح باندھ کر اس کو بکھرائو سے بچا رکھا ہے۔ اسی طرح زمین کے اندر کے لاوا وغیرہ کے بھیانک پریشر کو ایک سیفٹی والیو جیسے ہم آسانی سے کوہ آتش فشاں  کہہ سکتے ہیں ، اس کے ذریعہ باہر نکالنے کا انتظام کر رکھا ہے۔ مثال کے طور پردنیا کا سب سے زندہ اور بے چین آتش فشاں یا سب سے زیادہ فعال آتش فشاں امریکہ کی ریاست ’ہوائی‘ میں  واقع ’ کیلائو‘ میں موجود ہے۔ جبکہ مشہور سائنس داں  ’سیپر‘ کے مطابق بحر ظلمات یا  اٹلانٹک سمندر  میں اور بحر ہند کے علاقہ میں 67 اور بحر الکاہل کے علاقہ میں 353 آتش فشاں موجود ہیں۔ زندہ آتش فشاں کی دوسری اہم مثال ہے اٹلی کے قریب بحر روم  میں ’ اسٹرا بولی ‘ آتش فشاں ،جس کے منہ سے ہمیشہ آگ کے شعلے نکلتے ہیں۔ اسے بحر روم کا ستون کہتے ہیں ۔ہوائی کا آتش فشاں 1983 سے اب تک مستقل لاوا اگل رہا ہے۔ اس آتش فشاں کے دہانے سے ایک سکنڈ میں 176 مکعب فٹ لاوا خارج ہوتا ہے۔ واہ رے اس کی کبریائی اور حکمرانی کہ ایک طرف پہاڑوں کی زنجیروں سے زمین کو باندھ رکھا ہے کہ وہ ڈھلک نہ جائے’’ اس نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ زمین تم کو لے کر ڈھلک نہ جائے‘‘ سورہ النجل چیپٹر 16 آیت نمبر 7-10۔دوسری طرف آتش فشاں کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ زمین کے اندر سے لاوا کو باہر نکالتا رہے تاکہ زمین کے باسیوں کو مختلف قسم کی کھاد اور پانی سپلائی کرنے کا جھرنا ملے اور زمین کا اندرونی بوجھ کم ہو اور نا فرمانوں کو سبق ملے کہ وہ زمین کے اندر ایسی گیسوں کا اخراج کرسکتا ہے۔’’جو پتھروں کی بارش کرکے انہیں سبق اور نصیحت دے۔ اوریہ کہ یہی آتش فشاں زمین کو پھاڑ کر نا فرمانوں کو زمین کے اندر دھنسا دے۔زلزلے آکر زمین کو تہہ و بالا کردے۔ وہ اللہ جہاں کوہ آتش فشاں  ، سیلاب ، سونامی، زلزلے  وغیرہ جیسے آفات سے اپنے اچھے بندوں کو ہدایات دیتا ہے وہیں نافرمانوں  کو سزا بھی دیتاہے۔ اللہ کا یہ عمل، ماحولیات کی تخلیق کر کے بلا تفریق تمام جاندار کو سکون عطا کرتا ہے۔ اللہ کی کبریائی ہے کہ ایک طرف تو وہ نافرمانوں  کو زمین  میں دھنسا دیتا ہے ۔ اس پر زمین کی گیسوں سے پتھر ائو کراتا ہے اور دوسری طرف ان اقدام کے ذریعہ ماحولیات پیدا کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ وہ ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے پست کردیا تو تم اس کے رستوں میں چلو اور اس کے رزق میں سے کھائو اور اسی کی طرف ہے اٹھنا۔ کیا تم اس سے بے خوف ہوگئے ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تم کو زمین میں دھنسادے۔پھر  وہ لرزنے لگے ۔ کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے ۔ بے خوف ہوگئے ہو کہ وہ تم پر پتھرائو کرنے والی ہوا بھیج دے۔ پھر تم جان لو میرا ڈرانا کیسا ہے ۔ اور انہوں نے جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے۔ تو کیسا ہوا میرا انکار‘‘ سورہ الملک  چیپٹر 67 آیت نمبر 18۔مذکورہ بالا  اللہ کے تمام اقدام  ماحولیات کے اجزائے ترکیبی ہیں۔ یہی تمام حادثات و واقعات مل کر اپنے متعلقہ نتائج کو یکجا کرکے ماحولیات یا  فضا کی تخلیق کرتے ہیں۔
آپ غور فرمائیں کہ قطبین کی برف کی موٹی موٹی تہیں،سائیبریا سے چلنے والے برفیلی جان لیوا ہوائیں ماحولیات کو بے حد متاثر کرتی ہیں ۔ابھی دسمبر کے آخری اور جنوری 2013 ے شروع  ہفتوں میں سائیبریا سے منفی 80 ڈگری کی برفیلی طوفانی ہوائوں کی یلغار نے دہلی کے درجۂ حرارت کو ایک سے بھی کم ڈگری تک پہنچا کر شمالی ہندوستان کے لوگوں کو اتنا کپکپا دیا کہ سینکڑوں  انسان کی جانیں چلی گئیں۔ اس برفیلی ہوانے  پورے ماحولیات کو متاثر کردیا اور یہ سلسلہ لگاتار چلتا رہے گا ۔ماحولیات کی تخلیق ہوتی رہے گی۔اللہ نے زمین کو فرش بنایا۔ اسے گہوارہ کیحیثیت دی۔جانداروں کے رہنے بسنے اور زندگی گزارنے کے لائق بنایا، مگر اس کے لئے اس نے ہزاروں جتن کیا ہے۔ زلزلہ، زمین کا دھنسنا، کھسکنا، کٹنا، آتش فشاں کا پھٹنا، سونامی، سیلاب کا آنا، ماحولیات پیدا کرنے کے طریقے ہیں۔ پانی ، گیس ، گرمی ، تپش، ٹھنڈک ، نشیب و فراز ، بلندی و پستی ،اونچائی گہرائی، خون خوار جانوروں کا شورو غل، چڑیوں اور پھولوں کی آماجگاہ بنا کر اسے نہایت متناسب ماحولیات کا لبادہ اوڑھا کر ڈھانک دیا۔ زمین کو ایک طے شدہ رفتار اور محور مدار عطا کیا۔ معلوم ہے کہ زمین اپنے محور پر گھومتی ہے۔ مگر18 میل کے بعد زمین اپنے مدار پر گھومتے گھومتے ایک جمپ لیتی ہے۔ یہ 2.8ملی میٹر کی جمپ ہوتی ہے لیکن آپ غور فرمائیں کہ  اگر اس کی اس طے شدہ جمپ میں معمولی سا بھی فرق پیدا ہوجائے تو زمین کے تمام جاندار ناپید ہوجائیںگے یعنی اگریہ جمپ .2 ملی میٹر کم ہوجائے تو زمین پراتنی ٹھنڈک بڑھ جائے گی کہ تمام جاندار منجمد ہوکر مر جائیںگے اور اگر .3  ملی میٹر کی جمپ بڑھ جائے  تو اتنی گرمی بڑھ جائے گی کہ تمام جاندار جھلس کر مرجائیںگے۔اللہ نے ہر ایک چیز بلکہ بے شمار مراحل کا نہایت باریک بینی سے حساب لگا کر ماحولیات کی تخلیق کی ہے۔ اسی لئے حکم ربی ہے کہ اللہ کی نشانیوں ، کارفرمائیوں، علامات اور کرشمہ سازیوں پر غور کرو تو بے ساختہ زبان سے نکلے گا کہ اے اللہ تونے یہ سب کچھ بے کار نہیں بنایا ہے بلکہ ان سب میں تیری حکمت بے پایاں ہے۔چنانچہ فرمایا’’ زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں ان ہوشمند لوگوں کے لئے۔ بہتنشانیاںہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے ،ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور زمین اور آسمانوں کی ساخت میں غور فکر کرتے ہیں‘‘
(جاری)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *