ہائی کورٹ کے جج نے پی ایم مودی کو لکھا خط، ججوں کی تقرری پر اٹھائے سوال

Share Article
Collegium fraught with favouritism: Allahabad HC judge

الہ آباد ہائی کورٹ کے جج رنگ ناتھ پانڈے نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرریوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ ساتھ ہی سنگین الزام لگائے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو انہوں نے خط لکھا ہے۔ خط میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرریوں میں بھائی بھتیجا اور نسل پرستی کا الزام لگایا ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ تقرریوں میں کوئی مقررہ معیار نہیں ہے، اس وقت صرف کنبہ پروری اور نسل پرستی چل رہا ہے۔ جسٹس رنگناتھ پانڈے نے خط میں لکھا ہے کہ ہندوستانی آئین بھارت کو ایک جمہوری قوم اعلان کرتا ہے، اور اس کے تین میں سے ایک سب سے زیادہ اہم عدلیہ (ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ) بد قسمتی سے نسل پرستی اور نسل پرستی سے بری طرح دوچار ہے، یہاں ججوں کے خاندان کا رکن ہونا ہی اگلا جج ہونا یقینی بناتا ہے۔

سیاسی کارکن کا اندازہ اس کے کام کی بنیاد پر انتخابات میں عوام کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ انتظامی افسر کو سروس میں آنے کے لئے مدمقابل امتحانات کی کسوٹی پر کھرا اترنا ہوتا ہے۔

ماتحت عدالتوں کے ججوں کو بھی مدمقابل امتحانات میں قابلیت ثابت کر ہی منتخب ہونے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کا ہمارے پاس کوئی معیار نہیں ہے۔ موجودہ کسوٹی ہے تو صرف خاندان اور نسل پرستی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *