عبادت گاہوں میں خواتین کے داخلے پر سماعت تین ہفتے کے لئے ملتوی

Share Article

سپریم کورٹ نے عبادت گاہوں میں خواتین کے داخلے کی اجازت دینے کے معاملے پر سماعت تین ہفتے کے لئے ملتوی کر دی ہے۔ کورٹ نے تمام فریقوں کے وکلاء کو تین ہفتوں کا وقت دیا۔ سپریم کورٹ کے کورٹ کے سکریٹری جرنل کو ہدایت کہ اس معاملے کے تمام وکلاء کی ایک کانفرنس 17 جنوری کو بلائے جس میں بنچ کے ذریعہ سماعت کے لئے مسائل اور سوالات کو طے کئے جائیں۔

17 جنوری کو سکریٹری جرنل کے ساتھ میٹنگ میں تمام وکلاء کو تین پوائنٹس طے کرنا ہے۔ پہلا کہ تمام فریقوں کو بتانا ہے کہ جو سوال طے کئے گئے ہیں کیا انہیں دوبارہ طے کرنے کی ضرورت ہے یا اس میں کچھ اضافی فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔دوسرا کہ تمام وکلاء کے سپریم کورٹ کے 9 ججوں کی بنچ کے سامنے بحث کی طے حد ہو۔ اور تیسرا کہ کون سا وکیل کس موڑ پر آئین بنچ کے سامنے بحث کرے گا۔ آج سماعت کے دوران چیف جسٹس نے صاف کیا کہ نو ججوں کی آئینی بینچ سبریمالا نظر ثانی عرضیوں پر سماعت نہیں کر رہی ہے، بلکہ بنچ عبادت گاہوں اور مذہبی حقوق سے منسلک ان بڑے سوالوں پر غور کر رہی ہے، جو پانچ ججوں کی بنچ نے 3-2 کی اکثریت سے غور کے لئے بھیجے تھے۔

چیف جسٹس نے صاف کیا کہ آگے مسلم خواتین کی مسجد میں داخلہ، عبادت گاہوںمیں پارسی خواتین داخلہ، داؤدی بوہرا کمیونٹی میں ختنہ کی روایت جیسے معاملات پر یہ 9 ججوں کی بنچ غور کرے گی۔ سماعت کے دوران سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے کہا کہ 22 جنوری سے آئینی بینچ شہریت ترمیم قانون پر سماعت کرنے جا رہی ہے اور ان مسائل کی وجہ سے اس کی سماعت میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ تب چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سینکڑوں سال پرانے مسئلے ہیں۔پہلے یہ طے ہونے دیجئے۔اس کے بعد ان پر سماعت ہوگی، جو مسئلے بعد میں آئے ہیں۔ چیف جسٹس کی صدارت والی بنچ میں جسٹس آر بھانومتی، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ایل ناگیشور راؤ، جسٹس ایم شانتاناگودر، جسٹس ایس عبدالنذیر، جسٹس آر سبھاش ریڈی، جسٹس بی آر گوت اور جسٹس سوریہ کانت شامل ہیں۔

بتا دیں کہ 14 نومبر 2019 کو کیرالہ کے سبریمالا مندر میں تمام عمر کی خواتین کے داخلے کی اجازت دینے کے معاملے پر دائر نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے بڑی بنچ کے لیے ریفر کر دیا تھا۔ 3-2 کے اکثریت والے فیصلے میں عدالت نے کہا تھا کہ بڑی بنچ صرف سبریمالا مندر میں خواتین کے داخلہ سے جڑے معاملے کی ہی سماعت نہیں کرے گی بلکہ مساجد اور درگاہوں میں مسلم خواتین کے داخلے اور پارسی خواتین کے ختنہ جیسی رسم پر بھی سماعت کرے گی۔ کورٹ نے کہا تھا کہ مذہبی آزادی کا حق اور لوگوں کے ذاتی بنیادی حقوق کے توازن پر سماعت ہو۔ اس سلسلے میں ضروری لگے تو اس معاملے کو بھی دیکھیں۔ مسلم خواتین کے مسجد میں داخلہ، شادی شدہ پارسی خواتین کے حق جیسے مسئلے بھی وہ بنچ چاہے تو دیکھ سکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *