اہم بلوں کو منظور کرانے کے لئے حکومت نے اپوزیشن سے کی تعاون کی اپیل

Share Article

 

مرکز کے اقتدار میں دوبارہ واپسی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر سے شروع ہو رہے پارلیمنٹ سیشن میں بہتر طریقہ سے کام کاج ہونے اور اہم بلوں کو پاس کرانے میں اپوزیشن سے تعاون کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں اس وقت تمام اراکین پارلیمنٹ نئے ہیں ایسے میں امید ہیں کہ نئے خیالات بھی سامنے آئیں گے۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے 19 جون کو کل جماعتی میٹنگ بلائی ہے۔سمجھا جا رہا کہ اس اجلاس میں وزیر اعظم ایک ملک ایک الیکشن کے معاملے پر تمام جماعتوں کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں۔

Image result for The government appealed to the opposition to accept important bills

پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں اتوار کو وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کل جماعتی میٹنگ کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے اتحادیوں کے ساتھ ہی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کئی تجاویز آئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے پیر سے شروع ہو رہے سیشن کے دوران کچھ اہم مسائل کو اٹھانے اور ان پر بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اجلاس کی مختصر جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے تمام جماعتوں سے سیشن کے دوران اہم کام کاج اور بل کو منظور کرنے میں تعاون کی اپیل کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں نئے چہروں کے منتخب ہو کر آنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نئے اراکین کی جانب سے نئے اور بہتر خیال سامنے آئیں گے۔ وزیر اعظم نے اجلاس میں تمام جماعتوں سے تعاون کی اپیل کے ساتھ ہی مثبت اور تخلیقی بحث کو اپنے ایجنڈے میں سب سے اوپر رکھا۔

 

پارلیمانی امور کے وزیر نے کہا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خط لکھ کر ان سے 19 جون کو کل جماعتی میٹنگ میں شامل ہونے کی اپیل کریں گے۔ اس اجلاس کی صدارت وزیر اعظم کریں گے۔ سمجھا جارہا ہے کہ اس اجلاس میں ایک ملک ایک الیکشن کے معاملے پر مودی تمام جماعتوں سے بات چیت کریں گے۔اس کے بعد وہ 20 جون کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ممبران پارلیمنٹ سے بات چیت کریں گے۔

 

اجلاس میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے ساتھ ہی کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی سپریا سلے، نیشنل کانفرنس سے فاروق عبداللہ، کانگریس لیڈر آنند شرما، اپنا دل کی انوپریا پٹیل، سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر رام گوپال یادو سمیت تمام جماعتوں کے رہنما شامل ہوئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *