عالمی معیشت کو 2050 تک آٹھ کھرب ڈالر کے نقصان کا خدشہ

Share Article

 

ایک عالمی جائزے کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث 2050 تک دنیا کی معیشت کو لگ بھگ آٹھ کھرب ڈالر تک نقصان پہنچ سکتا ہے۔اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای ا?ئی یو) کے جاری کردہ انڈیکس میں دنیا کے 82 ممالک کی معیشتوں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ماہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث قحط سالی، سیلاب، پیداوار میں کمی اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے 2050 تک ان ممالک کی معیشت کی مجموعی قومی پیدوار (جی ڈی پی) میں آٹھ کھرب ڈالر یعنی تین فی صد کمی آسکتی ہے۔

اس جائزے میں ان عوامل کو شامل کیا گیا ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث مختلف ممالک پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس کے تحت افریقہ کی معیشت سب سے زیادہ 4.7 فی صد کی شرح سے متاثر ہو گی۔ماہرین کے مطابق ترقی پذیر ممالک کی معیشت زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کیوں کہ وہ امیر ممالک کے مقابلے میں گلوبل وارمنگ سے نمٹنے میں زیادہ متحرک نہیں ہیں۔

ای آئی یو کے ڈائریکٹر جان فرگوسن نے خبر رساں ادارے’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ بلاشبہ امیر ممالک اپنے وسائل سے ‘گلوبل وارمنگ’ کا مقابلہ کرنے میں زیادہ متحرک ہیں اس لیے گلوبل وارمنگ کا اثر ایسے ملکوں پر کم پڑے گا۔ البتہ ترقی پذیر ممالک جو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہونا چاہتے ہیں ان کی معیشت پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے زیادہ اثرات مرتب ہوں گے۔اس انڈیکس میں افریقی ملک انگولا ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث 2050 تک اپنی مجموعی قومی پیداوار کے ہدف سے 6.1 فی صد پیچھے رہے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انگولا سمیت افریقہ اور ایشیا کے ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ یہ ممالک براہ راست موسم کی شدت کا مقابلہ کرتے ہیں اور یہاں سطح سمندر میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔افریقی ملک نائجیریا 5.9 فی صد، مصر 5.5 فی صد، بنگلہ دیش 5.4 فی صد اور وینزویلا 5.1 فی صد کے ساتھ زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق عالمی معیشت کے مجموعی حجم کا تخمینہ 2050 تک 258 کھرب ڈالر ہے لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث یہ گھٹ کر 250 کھرب ڈالر تک رہ جائے گا۔

جان فرگوسن کا کہنا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بعض غلط پالیسیوں کے باوجود امریکہ کی معیشت ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے کم متاثر ہو گی۔ البتہ روس کی معیشت کو پانچ فی صد تک گراوٹ کا سامنا کرنا ہوگا۔پیرس میں 2015 میں ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران شریک ملکوں نے درجہ حرارت میں اضافے کو دو فی صد تک محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ جس کے لیے گلوبل وارمنگ کا باعث بننے والی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔جان فرگوسن کا کہنا ہے کہ یہ ‘اب یا کبھی نہیں’ والی صورتِ حال ہے۔ اب کسی کو یہ شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ عالمی معیشت ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث کن خدشات سے دوچار ہے۔فرگوسن کہتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک اپنے طور پر اس چیلنج سے نہیں نمٹ سکتے۔ اس کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *