18 سال کی شادی شدہ اپنی خالہ کے گھر گئی تو وہاں اس کے ساتھ گھنائونا کام کر دیا گیا۔ خالہ نے اپنے ایک جانکار کو گھر بلایا اور اس کی بہن کی شادی شدہ لڑکی کو اس کے ساتھ کمرے میں بند کر دیا۔ اندر کمرے میں لڑکے کا نہ صرف ریپ کیا بلکہ اس کا ویڈیو بھی بنایا۔ کمرے کے باہر دروازے پر خالہ کرسی ڈال کر بیٹھی رہی۔ اس کے بعد شادی شدہ کو 7 ماہ تک یرغمال بنا کر رکھا گیا۔
लड़की के रेप का बन रहा था वीड‍ियो, गेट पर कुर्सी डालकर बैठी रही मौसी
رتن گڑھ کے پاس گاؤں ٹيڈياسر کی ایک 18 سالہ شادی شدہ کے آبروریزی کا معاملہ 7 ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ شادی شدہ نے آبروریزی کر فحش ویڈیو بنانے، اس ویڈیو سے بلیک میل کرنے اور سات ماہ تک قید میں رکھنے کو لے کر جمعہ کو متاثرہ کی خالہ اور ریپ کرنے والے لڑکے کے خلاف کیس درج کرایا۔
लड़की के रेप का बन रहा था वीड‍ियो, गेट पर कुर्सी डालकर बैठी रही मौसी
معلومات کے مطابق، متاثرہ خاتون کی شادی رتن گڑھ شہر کے ایک لڑکے کے ساتھ ہوئی تھی۔ شادی کے بعد وہ سسرال نہیں گئی بلکہ باپ کے گھر ٹيڈياسر میں ہی رہی۔ اس کی خالہ ہریانہ کے هرساوا، سوانڑی میں رہتا ہے جہاں اجے جاٹ کا آنا جانا تھا۔
लड़की के रेप का बन रहा था वीड‍ियो, गेट पर कुर्सी डालकर बैठी रही मौसी
خالہ نے ہی متاثرہ خاتون کی اجے سے جان پہچان کرائی تھی اور کئی بار زبردستی فون پر اس سے بات بھی کروائی تھی۔ اس خالہ نے نومبر 2018 میں اسے اپنے گاؤں هرساوا بلا لیا۔ متاثرہ خاتون وہاں پہنچی تو اجے پہلے ہی وہاں موجود تھا۔ خالہ نے ان دونوں کو ایک کمرے میں بیٹھا دیا اور گیٹ بند کر کے خود آگے بیٹھ گئی۔
लड़की के रेप का बन रहा था वीड‍ियो, गेट पर कुर्सी डालकर बैठी रही मौसी
اجے نے اس وقت اس کے ساتھ بدفعلی کی اور موبائل سے ویڈیو بھی بنا لیا۔ دونوں نے یہ ویڈیو دکھا کر متاثرہ خاتون سے کہا کہ اس واقعہ کے بارے میں کسی کو نہ بتائے، اگر کسی کو بتایا تو جان سے مار دیں گے۔ یہ کہہ کر اسے واپس گاؤں بھیج دیا۔
लड़की के रेप का बन रहा था वीड‍ियो, गेट पर कुर्सी डालकर बैठी रही मौसी
اس کے دو دن بعد اجے نے فون کر کے متاثرہ خاتون کو اس کی ماركشيٹ اور آدھارکارڈ کے ساتھ ملاقات کی۔ وہ اصل کاغذات لے کر ایک مندر پہنچی تو ملزم نے کاغذات لے کر شادی کے لئے دباؤ بنایا لیکن عمر کم ہونے کی وجہ سے شادی نہیں ہو پائی۔ اس کے بعد وہ رہن کے طور پر سات ماہ تک ان دونوں کے چنگل میں رہی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here