جامعہ ملیہ کے شعبہ انگریزی میں پہلے ایم ایچ ڈی ڈی اسپارک کورس شروع

Share Article

 

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پہلا ایم ایچ آر ڈی اسپارک کورس بعنوان ’’تھنکنگ وتھ دی سی: ہسٹریس آف دی انڈین اوسی‘‘کا آج افتتاح یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں عمل میں آیا۔’’ کاسموپولیٹین کلچرس اینڈ اوسی اینک تھاوٹ: تھنکنگ تھرو ہسٹری ایکراس دی واٹرس‘‘ کے نام سے یہ مختصر مدتی کورس جہانس برگ کے وٹ واٹرس رینڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹر سارا جیپی نے پیش کش کی ہے۔ اس افتتاحی تقریب کی مہمان خصوصی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر تھیں، جنھوں نے اس کورس میں حصہ لینے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے پیش کش کی کہ اس پروجیکٹ کے لیے جتنا بھی ممکن ہوگا وہ اسے تعاون اور بڑھاوا دیں گی۔ پروفیسر نشاط زیدی، صدر شعبہ انگریزی نے ایم ایچ آر ڈی اسپارک پروگرام کے بارے میں مختصرا روشنی ڈالی جبکہ بایو ٹکنالوجی کے پروفیسر زاہد اشرف نے بتایا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ گیارہ پروجیکٹ ملے ہیں ،ان میں سے اکیلے شعبہ انگریزی کے حصے میں چار پروجیکٹ آئے ہیں جو کسی شعبہ کے لئے فخر کی بات ہے۔

 

تقریب کے اختتام پر شعبہ انگریزی کی پروفیسر سیمی ملہوترا نے کلمات تشکر ادا کئے۔ اس تقریب میں فیکلٹی برائے عمرانیات و لسانیات کے ڈین پروفیسر وہاج الدین علوی کے علاوہ دیگر یونیورسٹی کے نمائندے اور طلباء نے بھی شرکت کی جن میں بطور خاص دہلی یونیورسٹی، جودھپور یونیورسٹی اور امبیڈکر یونیورسٹی کے لوگ شامل ہیں۔ اس افتتاحی تقریب کا آغاز ڈاکٹر سارہ جیپی کے اولین خطبہ سے شروع ہوا۔2015 میں ہندوستان میں اعلی تعلیمی اداروں اور دنیا بھر کے اعلیٰ تحقیقی اداروں کے مابین ایک نیٹ ورک اور علمی، تحقیقی اور سائنسی معاونت کے لئے گیان نامی پروگرام کا آغاز کیا تھا۔ گیان کے کام کا جائزہ لینے کے بعد تحقیقاتی نظام اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے مواقع کو مزید بہتر کرنے کے لئے حکومت نے ملک کے اعلی تعلیمی اداروں اور بہترین عالمی یونیورسٹیوں کے درمیان مشترکہ تحقیقاتی منصوبوں کو فنڈ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے مطابق، حکومت نے اسپارک کو منظوری دی ہے جو عالمی تحقیق کے تعاون کو فروغ دینے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *