ریاست میں کانگریس کو نئی توانائی دینے والے اور اقتدار تک پہنچنے کے راستے پر آگے بڑھانے والے مندسور فائرنگ سانحہ کو کانگریس نے دو سال میں ہی بھلا دیا ہے۔ جمعرات کے روز مندسورگائرنگ سانحہ کی دوسری برسی ہے، لیکن وزیر اعلیٰ کے ذریعہ خراج عقیدت دیے جانے کے علاوہ کانگریس نے اس میں مرنے کسانوں کو خراج عقیدت پیش کرنیکے لئے کوئی تقریب نہیں کی گئی۔
 
 
دو سال پہلے 6 جون کو مندسور ضلع میں پولیس نے تحریک چلا رہے کسانوں پر گولی چلائی تھی، جس میں 6 کسانوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس واقعہ کو کانگریس نے خوب اچھالا تھا۔ اس وقت مرنے والے کسانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے کانگریس صدر راہل گاندھی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر مندسور پہنچ گئے تھے۔ اس فائرنگ سانحہ کے ذریعے ہی کانگریس نے بی جے پی حکومت کو کسان مخالف ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے بعد فائرنگ کی پہلی برسی پر سال 2018 میں یہاں منعقد اجلاس میں ہی راہل گاندھی نے کسانوں کے لئے قرض معافی کا اعلان کیا تھا، جس نے کانگریس کو اقتدارکے راستے پر آگے بڑھایا تھا۔ لیکن فائرنگ واقعہ کی دوسری برسی آنے تک کانگریس کا کسانوں کے تئیں ٹھنڈا پڑ گیا۔ کچھ کسان لیڈر اور سماجی کارکن کسانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ضلع کے بوڑھا گاؤں ضرور پہنچے، لیکن کانگریس سمیت کسی بھی دوسرے سیاسی پارٹی نے کوئی پروگرام نہیں کیا۔ اس بارے میں ریاستی کانگریس ترجمان سنگیتا شرما کا کہنا ہے کہ کانگریس کسانوں کو بھولی نہیں ہے۔ ریاستی صدر اور وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے ٹویٹ کرکے فائرنگ کے قصورواروں کو سزا دلانے کی بات کہی ہے۔
 
 
فائرنگ واقعہ کی دوسری برسی پر وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے مرنے والے کسانوں کو ٹویٹ کرکے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے آج مندسور فائرنگ کی دوسری برسی ہے۔ اس وحشیانہ فائرنگ واقعہ میں مرنے والے تمام 6 کسانوں کے تئیں خراج عقیدت۔ ہماری حکومت پرعزم ہے اس سانحہ کے قصورواروں کو سزا دلانے، متاثرین کو انصاف دلوانے، بے گناہ کسانوں پر درج جھوٹے مقدمے واپس لینے کے لیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here