چہرے کے داغ دھبے خوبصورت جلد میں رکاوٹ

Share Article

 

عمر کے بڑھنے کے ساتھ ہماری جلد کی رنگت اور ساخت میں رونما ہونے والی تبدیلیاں قدرتی ہوتی ہیں لیکن سنگین نوعیت کی تبدیلیاں غلط مصنوعات نامناسب صفائی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔

نامعلوم زمانوں سے عورتیں ایسے طرح طرح کے طریقے تلاش کرتی اور دریافت کرتی رہی ہیں جن کی مدد سے وہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ خوبصورت بناسکیں اور دیکھنے والوں کو وہ حسین نظر آئیں۔

چہرہ جسم کا وہ حصہ ہے جو عناصر کی زد میں سب سے زیادہ رہتا ہے‘جو دیکھنے والوں کو عیب سے زیادہ نظر آتا ہے ۔اور جس پر خوبصورت بنانے والی ہر قسم کی اشیاء کا سب سے زیادہ تجربہ کیا جاتاہے۔ جلد کی حالت کے بارے میں عام طور پر رنگت اور ٹیکسچر (Texture)کے حوالوں کے ساتھ بات کی جاتی ہے۔مختلف اقسام کی جلد مختلف رنگتوں اور ٹیکسچرز کی حامل ہوتی ہے ۔

عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہماری جلد کی رنگت اور ٹیکسچر میں جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں‘وہ قطعی طور پر قدرتی ہوتی ہیں‘لیکن زیادہ نقصان دہ اور سنگین نوعیت کی تبدیلیاں غلط قسم کے طریقوں کے استعمال کے نتیجے میں پیدا ہو سکتی ہیں۔
ان میں سے بعض یہ ہیں:

 

جلد کی جانب نامناسب توجہ
روغنی(Oily)جلد کی نامناسب طریقے سے صفائی کے نتیجے میں جلد کالی ہوجاتی ہے اور ایسے مہا سے پیدا ہوتے ہیں جو داغ دھبے چھوڑ جاتے ہیں۔
اگر بڑھتے ہوئے مساموں پر مناسب اسٹیمنگ اور ٹوننگ (Steaming and Toning) کے ذریعے قابو نہ پایا جائے تو روغنی جلد کا ٹیکسچر خراب ہو جاتاہے۔

 

غلط قسم کے کاسمیٹکس کا استعمال
ایسے صابنوں کا استعمال جن میں کریم اور تیل کی مقدار زیادہ ہو اور میک اپ کی ایسی اشیاء کا استعمال جن میں تیل والے کیمیکلز شامل ہوں‘روغنی جلد پر خراب اثر ڈالتا ہے ۔

رنگ گورا کرنے والی بعض کریموں میں مرکری ڈرگ مادے شامل ہوتے ہیں جو کہ دھوپ میں جلد پر داغ دھبے پیدا کر دیتے ہیں اور رنگت کو خراب کر دیتے ہیں۔

 

سورج کی شعاعیں اور ٹیننگ
دھوپ کی تیزی جلد کو اس کے رقیق مادے سے محروم کر سکتی ہے جس سے ٹیکسچر کی نفاست متاثر ہو سکتی ہے۔بعض دوائیں مثلاً مانع حمل گولیاں اور بلڈ پریشرکی دوائیں دھوپ میں جلد پر نا خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہیں اور سرخ داغ دھبے پیدا کرتی ہیں جن میں خارش ہوتی ہے۔

 

مہاسے
مہاسے جلد کی ایک عام بیماری ہیں۔ان میں جلد کے مسام بند ہو جاتے ہیں اور دانے نمودار ہو جاتے ہیں تقریباً 75فیصدی نوعمر اور نوجوان بالغ افراد مہاسوں کاشکار ہوتے ہیں ۔
تیس اور چالیس کی عمر کے مردوں اور عورتوں کے بھی مہاسے نکل سکتے ہیں مہاسوں کی اصل وجہ تواب بھی غیر واضح ہے‘لیکن ان دھبوں کے بارے میں زیادہ معلومات موجود ہیں جومہاسوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔اس تکلیف سے نجات کیلئے زیادہ سے زیادہ طریقہ ہائے علاج تلاش کئے جارہے ہیں۔
بشکریہ : اردو پوائنٹ

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *