قطر میں مزدوروں کا استحصال بدستور جاری

Share Article
The exploitation of workers continues in Qatar

قطر میں 2022میں ہونے والے عالمی فٹ بال کپ کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔اس سلسلے میں لاکھوں بیرونی مزدور بھی تعمیراتی کاموں میں ملازمت کررہے ہیں۔اس سلسلے میں قطر پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہناہے کہ قطر اپنے یہاں زیر ملازمت مزدوروں کا استحصال کر رہا ہے۔میڈیا ذرائع کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ قطر مہمان مزدوروں کے استحصال کو روکنے کے اپنے وعدے پورے نہیں کر رہا۔ 2022ء کے فٹ بال کے عالمی کپ کی تیاری کے سلسلے میں غیر ملکی مزدوروں کی ایک بڑی تعداد میں قطر میں کام کر رہی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے ‘‘All Work, No Pay’’ نامی ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے، 2022ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کے حوالے سے کیے گئے بڑے بڑے وعدوں کے باوجود قطر بے اصول آجروں کے لیے کھیل کا ایک میدان بنا ہوا ہے۔‘‘

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر منظر عام پر آئی ہے، جب آج جمعرات کو فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے پیرس میں ملاقات کر رہے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے قطر میں غیر ملکی مزدوروں کو درپیش حالات کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مزید کہا کہ اصلاحات کے باوجود ان مزدوروں کو تباہ کن حالات کا سامنا ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق اس شرمناک استحصال کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ کی تیاری کے سلسلے میں تعمیراتی اور صفائی ستھرائی کرنے والی تین کمپنیوں میں کام کرنے والے ایسے کئی سو مزدوروں سے بات چیت کی، جنہیں کئی مہینوں سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ”مہمان مزدور اکثر اپنے خاندانوں کو بہتر زندگی مہیا کرنے کی امید کے ساتھ قطر جاتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ اپنی تنخواہوں کے حصول کی خاطر کئی ماہ ادھر ادھر صرف کرنے کے بعد بغیر کسی رقم کے واپس پہنچتے ہیں۔اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس سلسلے میں قطری محکموں کی جانب سے انہیں کم ہی تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔

قطر میں 2022ء کے فٹ بال کے عالمی کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں بڑے بڑے تعمیراتی منصوبے جاری ہیں۔ شدید تنقید کی بعد قطر 2017ء میں بین لاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر روزگار کے شعبے میں اصلاحات کرنے پر رضامند ہوا تھا۔ اس میں تنازعات کے خاتمے کے لیے ایک کمیٹی کا قیام بھی شامل تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *