سنتوش بھارتیہ
بار بار کہنے کے باوجود سرکار کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی ہے۔ سرکار سے مطلب صرف وزیر نہیں، بلکہ سرکار سے مطلب پور ا سسٹم ،داروغہ سے لے کر ہوم سکریٹری تک۔یہ سب نشے کی گولی کھاکر سو رہے ہیں اور ملک ہر دوسرے تیسرے مہینے خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔دلی ہائی کورٹ میں تین مہینے کے اندر ہوا دوسرا بم دھماکہ ہمارے سسٹم کے کھوکھلے پن اور سب سے آخر میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے ناکارہ پن کو چیخ چیخ کر بیان کر رہا ہے۔ انگریزوں کے زمانے میں سسٹم اتنا بڑا نہیں تھا، جتنا آج ہے۔ اس وقت تھانے میں دس سپاہی ہوتے تھے اور سو گائووں کو کنٹرول کرتے تھے۔ سپاہی اکیلا چلا جاتا تھا اور لوگ اس کی عزت کرتے تھے۔کیوںکہ سرکار کی ساکھ تھی، سرکار کا اقبال تھا۔ وہ سسٹم مخبروں کے بل پر چلتا تھا۔ پورے علاقے میں، چاہے وہ شہر کا محلہ ہو، شہر کے تھانہ حلقے کا کوئی بھی حصہ ہو یا دیہات کے تھانہ حلقے کا کوئی بھی گائوں ہو، وہاں سے اپنے آپ لوگ خبریں لے کر داروغہ کے پاس پہنچتے تھے۔ داروغہ ان خبروں پر اپنی فہم وبصیرت سے فیصلہ لیتا تھا کہ کیا کرنا ہے، لیکن جانکاری اس کے پاس سب رہتی تھی۔ اسی لئے ان دنوں معاملے بہت آسانی سے سلجھا لئے جاتے تھے۔
آزادی کے بعد زیادہ سے زیادہ دس سالوں تک یہ سسٹم چلتا رہا، لیکن اس کے بعد بد عنوانی نے اس سسٹم کو کھانا شروع کر دیا۔ مخبروں کو ملنے والا پیسہ افسر کھانے لگے۔ مخبروں سے ملنے والی خبریں کم ہونے لگیں۔ کسی کو اس کی فکر نہیں ہوئی کہ اگر مخبر نہیں رہیں گے، وہ خبریں نہیں دیں گے تو سسٹم کام کیسے کرے گا۔لوٹ، قتل ، عصمت دری، الگ الگ طرح کے جرائم اور اب بڑے پیمانے پر دہشت گردی ہے۔ ان کے بارے  میں جانکاری کہاں سے ملے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ مخبروں کے نام پر سرکار کے بجٹ میں پیسہ نہیں ہوتا۔ پورے سسٹم میں خفیہ گری کے نام پر بے شمار پیسے خرچ ہوتے ہیں اور اس کا کوئی تحریری حساب نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے یہ پیسہ بدعنوان افسروں  یا سسٹم کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ نتیجے کے طور پر اطلاعات آنی بند ہوجاتی ہیں۔ ایسا پچھلے 25 سالوں سے ہو رہا ہے۔ پہلے اسے نظر انداز کیا گیا، لیکن اب اس کا  برا نتیجہ پارلیمنٹ سے 3 کلو میٹر دور پہنچ گیا۔
خفیہ اطلاعات کے فقدان کی وجہ سے پارلیمنٹ پر بھی آج سے دس سال پہلے حملہ ہوا تھا، لیکن پارلیمنٹ پر حملے کو اگر ہم مستثنیٰ مانیں تو اب جتنے بھی حملے اس ملک میں ہو رہے ہیں، وہ اس لئے ہو رہے یں، کیوںکہ خفیہ اطلاعات پولیس تک نہیں پہنچتیں۔پولیس کے خفیہ افسر چاہے وہ آئی بی میں ہوں ، سی آئی ڈی میں ہوں، لوکل انٹلی جنس یونٹ میں ہوں، ان کے رابطے اس سرکار نے کاٹ دیے۔ چونکہ مخبر نہیں ہیں تو سرکار کے پاس اطلاعات نہیں ہیں۔ پیسہ ضرور ہے، جو لوگ کھا پی رہے ہیں۔ کون ہیں اس کے ذمہ دار؟ آج کے لوگ ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس کی شروعات آج سے 20-25  سال پہلے ہوئی تھی،۔ جب سے یہ چیزیںٹوٹنے لگی تھیں، دہشت گرد ی ہمارے یہاں زیادہ پیر پسارنے لگی تو شاید افسروں کو لگا کہ ہم ہر چیز دہشت گردی کے سر منڈھ دیں اور بچ جائیں۔ اسی وجہ سے نہ صرف دہشت گردی، بلکہ کسی بھی طرح کے جرم کا کچھ بھی پتہ نہیں چلتا۔ نہ جرم ہونے سے پہلے  جانکاری آتی ہے اور نہ جرم ہونے کے بعد کوئی کیس کھلتا ہے۔،نہ کیس پر ورک آئوٹ ہوتا ہے، کیوںکہ کیس کے ورک آئوٹ میں بھی مخبروں کا رول ہوتا ہے ، جو بتاتے ہیں کہ ان جگہوں پر ان لوگوں نے وارداتیں کیں۔
اب پولیس کے پاس کوئی جانکاری نہیں آتی اور آتی بھی ہے تو صرف اتنی ، جس سے انہیں حصہ ملنے میں آسانی رہے۔ اس بہانے ہم یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ پولیس کے طریقۂ کار کے بارے میں سرکار اور اپوزیشن کو اہمیت کے ساتھ سوچنا چاہئے۔ اگر انہوں نے نہیں سوچا تو ملک میں ہونے والی نہ صرف دہشت گردانہ وارداتوں کو، بلکہ عام جرائم کو بھی پولیس نہیں روک پائے گی۔ جرائم کے اعدا دو شمار لگاتار اوپر جارہے ہیں اور صرف اس لئے اوپر جا رہے ہیں ، کیوںکہ مخبروں کے جال کو سوچ سمجھ کر بد عنوانی کی وجہ سے ، پیسے کھانے کی نیت نے تباہ کر دیا ہے۔، تتر بتر کر دیا ہے۔اس سسٹم کو پھر سے کھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک کی وزارتِ داخلہ کو یا ریاستی سرکاروں کو اگر یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے تو پھر طے مانئے کہ آج یہ ملک اور اس ملک کے لوگ اس جگہ پہنچ گئے ہیں، جہاں سے نیچے گرنے میں بہت زیادہ وقت نہیں لگے گا۔
ملک کی سرکار ، وزارتِ داخلہ اور ہوم سکریٹری کو چاہئے کہ یہ لوگ بیٹھیں اورفوری طور پر پولیس سسٹم کو سُدھارنے کے بارے میں بات کریں۔ لیکن جب پولیس سسٹم میں سُدھار کی بات کی جائے تو پولیس کے جوانوں کو ملنے والی تنخواہ، سہولیات اور ان کے کام کرنے کے طریقوں کے بارے میں بھی سرکار کو سوچنا چاہئے۔ اس لئے سوچنا چاہیے، کیوں کہ ایک جوان  اگر 24 گھنٹے، 36  گھنٹے، 40 گھنٹے لگاتار کام کرتا ہے تو اس میں تنائو پیدا ہونا لازمی ہے۔ دہلی میں 13 اگست کی شام پولیس والے بلا لئے گئے، کیوں کہ 15 اگست کو لال قلعہ کے اوپر وزیر اعظم کو جھنڈا لہرانا تھا۔ 13 اگست کو بلائے گئے پولیس والے اگلے 15 دنوں تک اپنے گھر نہیں جا پائے، کیونکہ انّا ہزارے کی تحریک شروع ہو گئی اور ان میں سے بہتوں کی ڈیوٹی لگاتار لگی رہی۔ ان جوانوں کے پاس نہ کھانے کی سہولت تھی اور نہ فطری ضروریات کو  پورا کرنے کے وسائل۔ ایسا صرف دہلی میں اسی بار نہیں ہوا، بلکہ آزادی کے بعد سے ایسا ہی ہو رہا ہے۔ بہت سارے تھانوں میں سپاہیوں کے لئے رہنے کی جگہ نہیں ہے، پولیس والے اپنی فطری ضرورتوں کو پورا کہاں کریں، اس کی بھی جگہ نہیں ہے۔ یہ میں شہروں کی بات کر رہا ہوں ۔شہروں میں وہ یا تو سنیما ہال  کا سہارا لیتے  ہیں یا کسی دھرم شالہ کا۔
آج کی مہنگائی میں حالت یہ ہے کہ پولیس والے کام کے دوران اپنے پیسوں سے اگر کچھ کھانا بھی چاہیں تو نہیں کھا سکتے ۔ پچاس یا سو روپے خرچ کرکے ایک یا دو لوگ کھانا نہیں کھا سکتے۔ انہیں باہر کا کوئی بھتہ نہیں ملتا ہے کہ وہ خرید کر کھائیں اور اگر ملتا بھی ہوگا تو مجھے نہیں لگتا کہ وہ 5 یا 10 روپے سے زیادہ ہوگا۔ جوانوں کی سہولتوں کے بارے میں سرکار نہیں سوچ رہی ۔ جن افسروں نے پیسہ کھانے کے چکر میں مخبر سسٹم کو توڑا ، ان کے بارے میں سرکار نہیں سوچ رہی ۔ جیسا چل رہا ہے، اسی کو سسٹم مان لیا گیا۔ شاید سوچنے کا وقت آگیا ہے۔ سوچئے، نہیں تو دلی ہائی کورٹ جیسے دھماکے اس ملک کے ہر گلی محلے میں ہونے لگیں گے اور آپ کچھ نہیں کر پائیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here