برصغیر کی مسلم تعلیم پربدرالدین طیب جی اورسرسید کے اثرات

Share Article

بدرالدین طیب جی (یوم پیدائش 17اکتوبر 1844) اورسرسید احمدخاں ( یوم پیدائش 17اکتوبر 1817) ہندوستان کی دوایسی عظیم شخصیات ہیں جوکہ 112برس اور120برس قبل دنیا سے رخصت ہوجانے کے باوجود اپنے اپنے تعلیمی کارناموں کے سبب لوگو ں کے درمیان زندہ ہیں۔ ان دونوں کی تعلیمی خدمات کے مثبت اثرات سے ملک وملت مستقل فیضیاب ہورہاہے۔ دلچسپ بات تویہ ہے کہ دونوں عمر میں 27برس کے فرق سے ہم عصر تھے اورفکری ونظریاتی طورپر الگ بلکہ برعکس ہونے کے باوجود ملک وملت میں تعلیم کے فروغ کیلئے بے حد دلچسپی رکھتے تھے۔
جہاں تک بدرالدین طیب جی کا سوال ہے، ان کا میدان عمل بمبئی رہا جبکہ سرسید کا علی گڑھ۔ بدرالدین طیب جی کی قیادت میں 1873میں بمبئی میں مشہورو معروف ادارہ انجمن اسلام بنا تھا جس کا مقصد مسلم تعلیم، معیشت اورمعاشرت کوبہتر بنا نا تھا 145برس قبل اس ادارہ کے پاس صرف ایک اسکول تھا جبکہ آج اس کے تحت پری پرائمری اسکول سے لیکر پوسٹ گریجویٹ سطح نیز انجینئرنگ ودیگرتکنیکی ومیڈیکل اورمینجمنٹ کے 80سے زائد تعلیم گاہیں ہیں جن میں 110لاکھ سے زیادہ طلباء وطالبات زیر تعلیم ہیں۔ اس کے تحت 15ٹرست بھی چلتے ہیں۔
بدرالدین طیب جی نے انجمن کے ذریعے مسلمانوں کے امپاورمنٹ کی زبردست کوشش کی جس کے ثمرات آج بھی محسوس کئے جارہے ہیں۔انہو ںنے مسلمانوں کی صف میں اتحاد پیدا کرنے کے ساتھ ہندو-مسلم اتحاد کیلئے بھی بہت محنت اورکوشش کی۔انہوں نے مسلمانوں میں اتحاد کیلئے اپنے اور اپنے خاندان کی سطح پرگجراتی زبان کومادری زبان کے طور پرخیرآباد کہہ کر اردو کواس کے بدلے اختیارکیا۔ اردو کومادری زبان کے طورپر اختیار کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اردو طبقات سے ان کی قربت بڑھے۔ یہ کہا جاسکتاہے کہ انڈین نیشنل کانگریس جس کے وہ تیسرے صدر رہے اورتحریک آزادی میں مغربی تعلیم یافتہ طبقہ کوشامل کرنے میں تنہا ان ہی کا رول ہے۔ مدراس (اب چنئی) میں 1887میں منعقد انڈین نیشنل کانگریس کے تیسرے قومی اجلاس میں ان کا خطبہ اس کی کھلی دلیل ہے۔یہ خطبہ ایچ ڈی شرما کی تصنیف کردہ ’آزادی سے قبل کی 100اہم تقریں‘ میں دیکھا جاسکتاہے۔یہ انڈین نیشنل کانگریس کی تاسیس میں اے اوہیوم، ڈبلیو سی بنرجی اوردادا بھائی نوروجی کے ساتھ پیش پیش رہے۔
بدرلدین طیب جی نے بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طورپر مشہور مجاہد آزادی بال گنگادھر تلک کوضمانت یہ کہہ کر دی تھی کہ وہ قومی تحریک کے رہنماکے خلاف فیصلہ قطعی نہیں دے سکتے ہیں کیونکہ یہ ملک کے مفاد کے خلاف ہوگا۔ اس لحاظ سے ملک ان کا خصوصی طور پر احسان مند ہے کہ انہوں نے برطانوی حکومت کے دور میں ہائی کورٹ کے سربراہ رہتے ہوئے بھی اپنے اصول اورحب الوطنی سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہ تعلیمی خدمات کے علاوہ تحریک آزادی کی راہ میں ان کا وہ عظیم کردار ہے جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتاہے۔

 

 

 

 

 

اسی زمانے میں دوسری طرف سرسید احمد خاں تھے۔یہ بھی ہندومسلم اتحادکے ساتھ ساتھ بر صغیر میں مسلم تعلیم کا نشان مانے جاتے ہیں۔ اپنی علمی و تحقیقی اورتعلیمی خدمات کی بناء پرانہوں نے برصغیر میں خصوصی مقام حاصل کیا۔
سرسید کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جوکہ مغل کورٹ سے جڑا ہواتھا۔ انہوں نے اسی کورٹ کے اندر قرآن اورسائنس کی تعلیم لی اورپھر ایڈین برگ یونیورسٹی سے قانون پڑھا۔ 1838میں 21برس کی عمر میں انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی سروس جوائن کرلی اور1867میں اسمال کاؤزیزکورٹ میں جج کے عہدے تک پہنچ گئے اورپھر وہیں سے 1876میں ریٹائر ہوئے۔ اسی دوران ملازمت کرتے ہوئے انہوں نے 1859میں مرادآباد میں گلشن اسکول، 1863میں غازی پور میں وکٹوریہ اسکول، 1864میں مسلمانوں کیلئے سائنٹفک سوسائٹی اور1875میں علی گڑھ میں ’مدرستہ العلوم مسلمانان ہند‘قائم کیا۔1876میں ایسٹ انڈیا کمپنی سے سبکدوشی کے بعد یہ علی گڑھ میں قائم مدرستہ العلوم مسلمانان ہند کوآگے بڑھانے میں یکسو ہوگئے اورپھر ایک برس بعد 1877میں تعلیمی ادارہ محمڈن اینگلو اورریئنٹل کالج ( ایم اے اوکالج) کے روپ میں سامنے آیا۔
اس تعلیمی ادارہ کے قیام کیلئے انہوں نے قبل ایک کمیٹی بھی بنائی تھی اورمالی معاونت کیلئے عمومی اپیل بھی کی تھی۔ اس وقت کے وائسرائے اورگورنر جنرل لارڈ نارتھ بروکس نے اس کازکیلئے 10ہزار روپے اورنارتھ ویسٹرن پروونس کے لیفٹیننٹ گورنر نے بھی ایک ہزار روپے کی مالی مدد کی تھی۔ عیاں رہے کہ مارچ 1874تک اس تعلیمی ادارہ کے فنڈ میں ایک لاکھ 53ہزار 492روپے اور8آنے جمع ہوگئے تھے۔ ابتداء میں یہ ایم اے او کالج کلکتہ یونیورسٹی سے ملحق ہوا مگربعد میں 1885میں الہ آباد یونیورسٹی میں شامل کردیا گیا۔ یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ 1877میں اس کالج کی عمارت کا سنگ بنیاد لارڈ لیٹن نے رکھا تھا۔ 27مارچ 1898کو سرسید کی وفات کے تقریباً دوبرس بعداسے یونیورسٹی بنانے کی کوشش شروع ہوئی جس کے نتیجے میں 1920میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اس وقت کی برطانوی پارلیمنٹ میں بنائے گئے ایک قانون کے ذریعے وجودمیں آئی۔
اس طرح سرسید کا ایک چھوٹا سا تعلیمی ادارہ جوکہ 1875میں علی گڑھ میںمحض ایک اسکول کی شکل میں وجود میں آیا اوردوبرس میں کالج بنتا ہوا 45برس بعد ایک یونیورسٹی کی شکل اختیار کرگیا اوراب سینٹرل یونیورسٹی بن کر مسلمانو ں کی امنگوں اورتوقعات کی تکمیل ہی نہیں بلکہ ان کے تعلیمی امپاورمنٹ کا بہترین مستقل ذریعہ ہے۔

 

 

 

 

یہی وجہ ہے کہ جب 2005میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اے ایم یو ایکٹ کے کچھ بنیادی پروویژنز کورد کردیا اورفیصلہ سنایا کہ اے ایم یو ایک اقلیتی ادارہ نہیں ہے اورپھر 2016میں موجودہ مرکزی حکومت نے عدالت سے کہاکہ یہ اس فیصلہ کے خلاف اپیل نہیں کرے گا تومسلمانوں میں زبردست بے چینی پیداہوئی۔ یہ معاملہ ہنوزعدالت میں ہے اورمسلمانوں میں مستقل بے چینی پائی جارہی ہے۔ اس بے چینی کی وجہ یہ ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ سے قبل اے ایم یومیں اقلیتی کمیونٹی کے طلباء وطالبات کیلئے داخلہ میں 50فیصد سیٹ مختص تھی مگرفیصلہ کے بعد عدالت سے اسٹے دے دیا گیا اوراقلیتوں کے 50فیصد داخلے کے حق کوحتمی فیصلہ کے آنے تک روک دیاگیا۔دریں اثنا سال رواں کے اوائل میں مرکزی حکومت نے اے ایم یو سے گذشتہ برس یوجی سی کے ایک پینل کی اس کے نام بدلنے اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ’مسلم‘ لفظ ہٹانے اورپھر صرف علی گڑھ یونیورسٹی کردینے یا سرسید کے نام سے یونیورسٹی کومنسوب کرنے کی تجویز پررائے مانگی۔ اس سال جون کے اواخر میں اس وقت کے رجسٹرار نے تحریری طور پر ایسا کرنے کوتعلیمی ادارہ کے مقصد وجود سے ہٹ جانا قرار دیا اور تقرری کے معاملے میں بھی چند تجاویز سے اتفاق نہیں کیا۔توقع ہے کہ مرکزی حکومت اے ایم یو کے جواب سے اتفاق کرتے ہوئے اقلیتی کمیونٹی کی بے چینی کودور کرے گی۔دراصل ایسا کرنا ہی سرسید کی تعلیمی خدمات کا حقیقی معنیٰ میں اعتراف ہوگا۔
لہٰذا یونیورسٹی کے نام کوسرسید سے منسوب کردینے سے کچھ نہیں ہوگا۔ یہ نہ سرسید کے حق میں ہوگا اورنہ ہی مسلم اقلیت کے حق میں۔بدرالدین طیب جی اورسرسید دونوں ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیمی بیداری اورامپاورمنٹ کی نشان ہیں۔ان دونوں کے ذریعے کی گئی تعلیمی خدمات کا اعتراف کرنا اوران کے تعلیمی اداروں کے مقاصد کوبرقرار رکھنا ہی دراصل انہیں صحیح خراج عقیدت پیش کرناہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *