گودھرا سانحہ کا فیصلہ عدلیہ کی شفافیت ہمارے ملک کی شان ہے

Share Article

جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اسے کچھ لوگوں کی طرف سے فرقہ وارانہ عینک سے دیکھا جانے لگتا ہے ۔ جیسا کہ گزشتہ دنوں دیوالی پر پٹاخے کی روک پر ایک عدالتی فیصلہ آیا۔اس فیصلے کو مسلم تہواروںسے جوڑ کر فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی ۔اسی طرح سابرمتی ایکسپریس یا گودھرا سانحہ کو بھی فرقہ وارانہ نقطہ نظر سے دیکھا اور پرکھا گیا تھا۔مگر ہمارے ملک کا عدلیہ شفاف اور تعصب سے بالا تر ہوکر فیصلے سناتا ہے اور پھر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا ہے۔یہی ہمارے ملک کی شان ہے۔آئیے دیکھتے ہیں گودھرا سانحہ اپنے آغاز سے لے کر گجرات ہائی کورٹ تک کے فیصلے کا نشیب و فراز کیا ہے؟
2002میں گجرات کے گودھرا شہر کے ریلوے اسٹیشن کے نزدیک کچھ شرپسندوں نے سابرمتی ٹرین کے ایک ڈبے کو آگ لگا دی ۔اس میں 59 ہندو جل کر ہلاک ہو گئے۔اس واقعے کا الزام مسلمانوں پر عائد کیا گیا ۔ گودھرا کی ذیلی عدالت نے اس کیس میں 11 افراد کو موت کی سزا جبکہ 20 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی۔ملزموں نے ذیلی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ اپیل کی سنوائی کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج جسٹس اے ایس دوے اور جسٹس جی آراودھوانی کی بینچ نے9 اکتوبر کو 11 قصورواروں کو نچلی عدالت کے ذریعہ دی گئی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی نچلی عدالت کے ذریعہ20 قصورواروں کوعمر قید اور63 ملزمین کو بری کئے جانے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریاستی حکومت اس بہیمانہ واقعہ میں ہلاک ہونے والے 59 افراد کے رشتہ داروں کو جن میں بیشتر ہندو کارسیوک تھے، دس دس لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے۔
سانحہ کے بعد اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کی گرفتاری ایک اتفاق تھا یا منصوبہ بند سازش ،یہ سوچنے والی بات ہے۔کیونکہ اس حادثہ کے بعد جتنے لوگوںکو گرفتار کیا گیا تھا ،وہ سب مسلمان تھے۔ اس سے ایک احساس پید اہوتا ہے کہ جب بھی کوئی پُرتشدد واقعہ رونما ہوتا ہے تو اسے فرقہ واریت کی عینک سے دیکھا جانے لگتا ہے اوراس کو بنیاد بنا کر شر پسند عناصر ہنگامہ برپا کرتے ہیں۔ اس کی مثال ابھی حال ہی میں الٰہ آباد کے ایک تازہ فیصلے سے دی جاسکتی ہے۔اس فیصلے میں عدالت نے دیوالی کے موقع پر پٹاخے پر پابندی لگا دی۔ ظاہر ہے یہ فیصلہ ماحولیات میں آلودگی سے تحفظ کے پیش نظر ہوا ہے ،مگر اس فیصلے کو فرقہ واریت کی نظر سے دیکھا جانے لگا اور ایک مشہور مصنف چیتن بھگت نے ٹویٹ کرکے یہ سوال اٹھا دیا کہ بقرعید کے موقع پر بکرے کی قربانی پر پابندی نہیں، محرم کے موقع پر ماتم پر پابندی نہیں تو دیوالی کے موقع پر پٹاخے پر پابندی کیوں؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے نہ تو کسی مسلمان کا ہاتھ ہے اور نہ ہی عرضی کسی مسلمان نے ڈالی تھی پھر ماحول ایسا کیوںبنایا جاگیا جس سے محسوس ہو کہ اس فیصلہ کا تعلق مسلمانوں کے تہوار بقرعید اور محرم سے جڑا ہوا ہے۔چیتن کے اس ٹویٹ کے بعد تو فرقہ پرستوں کو اپنے دل کے پھیپھولے پھوڑنے کا موقع ہی مل گیا اور جی بھر کر اس پر ریمارکس کیا۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اسے فرقہ واریت کا رنگ دے کر نشانہ مسلمانوں کو بنا یا جانے لگتاہے ۔یہی سب کچھ گودھرا حادثے کے بعد بھی ہوا ۔ حالانکہ مسلمان مسلسل یہ بات کہتے رہے کہ انہوں نے ٹرین کے ڈبے میں آگ نہیں لگائی ہے۔ یہ کسی سازش کا حصہ ہے ،مگر ان کی سنتا کون ہے ۔کارروائی شروع ہوئی اور 94 مسلمانوں کو گرفتار کرکے ان پر فرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے، آتش زنی اور جان لینے کا الزام لگا۔اس حادثہ کے بعد پوری ریاست میں فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا تھا اور اس میں 96فیصد مسلمانوں کے ہی مال ،جان ،مساجد او رمقابر کا نقصان ہوا ۔اس کے باوجود انتظامیہ نے اس مبینہ تشدد کا ذمہ دار مسلمانوں کو ہی قرار دیا اور جھوٹے الزامات لگا کر فرقہ وارانہ تشدد کا قصور وار مسلمانوں کو ٹھہرانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔
خیر اس واقعہ کو فرقہ واریت کارنگ دے کر شر پسندوں نے مسلمانوں کو ہر طرح سے نشانہ بنایا لیکن ہمارے ملک کا عدلیہ آج بھی صاف و شفاف ہے اور فیصلہ کرتے وقت ذات برادری کی سطح سے اوپر اٹھ کر فیصلے صادر کرتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ٹرائل کورٹ میں مجرم قراردئیے گئے افراد نیجب فیصلے کے خلاف گجرات ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تو ہائی کورٹ نے 11 ملزمین کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا اور گودھرا کے متاثرین کے ہر ایک خاندان کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دینے کی حکومت کو ہدایت دی ۔ خصوصی عدالت نے پہلے ہی آگ زنی کی واردات کے ماسٹر مائنڈ کہے جانے والے مولوی عمر جی سمیت 63 لوگوں کو مذکورہ واقعات میں بے قصور قرار دیتے ہوئے بری کر دیا تھا اور ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ 31 لوگوں کو قتل، قتل کی کوشش اور مجرمانہ سازش رچنے کا مجرم قرار دیا گیا تھااور ان میں سے 11 کو پھانسی اور 20 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی اور اس فیصلے کی شفافیت اس وقت نکھر کر سامنے آئی جب ہائی کورٹ نے پھانسی کے سزا یافتگان 11افراد کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔

 

 

 

 

 

حالانکہ یہ فیصلہ عدالت کا ہے اور ثبو ت و شواہد کی بنیاد پر سنائے گئے ہیں لیکن کچھ لوگوں کو یہ فیصلہ قطعی پسند نہیں ہے ۔اس لئے بعید نہیں ہے کہ اب وہ اس معاملے کو سپریم کورٹ تک لے کر جائیں ۔ بتایا جارہا ہے کہ وی ایچ پی سپریم کورٹ جانے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ نچلی عدالت کی سزائے موت کے فیصلے کو بحال کیا جاسکے ۔دوسری طرف جمعیت علماء ہند کے جنرل سیکریٹری مولانا محمود مدنی نے گودھرا ٹرین حادثہ میں11 لوگوں کی پھانسی کی سزا کو عمرقید سے تبدیل کرنے پر قدرے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یقیناًیہ فیصلہ ہماری طرف سے کی گئی مسلسل کوششوں کے سبب کامیابی کی طرف بڑھتا ہوا ایک قدم ہے۔چونکہ جمعیت علماء ہند شروع سے مانتی ہے کہ جس سازشی تھیوری کی بنیاد پرسابرمتی ٹرین نذر آتش میں گودھرا کے لوگوں کو قید کیا گیا خصوصاً مولانا محمد حسین عمر جی جنہیں ماسٹرمائنڈ بنایاگیا تھا ،وہ پہلے ہی اس کیس سے باعزت بری ہوچکے ہیں اور باعزت رہائی کے بعد ان کا انتقال بھی ہو گیا ہے۔اس لئے جس سازش تھیوری کی بنیاد پر اس کیس کو ڈیولپ کیا گیا،وہ سرے سے ہی کئی طرح کے سوالات کے گھیروں میں رہا،اس لئے جمعیت علماء ہند مسلسل اس کیس میں اول دن سے فریق رہی ہے اور وہ افراد جو بلا وجہ اور محض شبہ کی بنیاد پر گرفتار کئے گئے تھے، ان کے لئے یہ مقدمہ لڑرہی تھی۔ گجرات ہائی کورٹ کی جانب سے آئے اس فیصلے سے جمعیت علماء ہند قدرے مطمئن ہے اور یہ مانتی ہے کہ 20 لوگ جنہیں نچلی عدالت میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی، انہیں ہائی کورٹ نے حالیہ فیصلے میں عمر قید کی سزا سے تبدیل کردیا ،یہ ایک بہتر اور انصاف کی طرف بڑھنے والا قدم ہے۔ہم اس میں مزید انصاف کے لئے سپریم کورٹ جائیںگے اور امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں ان حضرات کو بری کردیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ احمد آباد سے تقریباً 130 کلومیٹر دور گودھرا اسٹیشن پر فروری2002 میں سابرمتی ایکسپریس کے جس کوچ میں آگ لگائی گئی تھی، اس میں 59 لوگوں کی جل کر موت ہو گئی تھی، جن میں سے زیادہ تر ایودھیا سے واپس آ رہے کارسیوک تھے.۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کار سیوکوں نے اولاً اسی کوچ میں ایک بوڑھے مسلم اور اس کی بچی کے ساتھ زیادتی کی تھی اور اس ضعیف مسلمان کی داڑھی نوچ کر اسی کوچ میں قتل بھی کردیا گیا تھا اور پھر منظم طریقے سے ٹرین میں آگ لگائی گئی تھی اور پھر اس کے بعد جو کچھ ہوا، کسی سے مخفی نہیں ہے۔اس واقعہ کے ملزمان کاآخر تک یہی دعوی رہا کہ انہوں نے 27 فروری 2002 کو سابرمتی ایکسپریس ٹرین کے کوچ میں آگ نہیں لگائی تھی اور پھر عدلیہ میں بھی یہی ثابت ہوا کہ ملزمین اپنے قول میں سچے ہیں۔ یہ ٹرین ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد کے اس متنازعہ جگہ سے لوٹ رہی تھی، جسے لاکھوں کارسیوکوں نے 6دسمبر 1992 کو مسمار کر دیا تھا۔ 2011 میں، خصوصی عدالت نے اس فیصلے میں کہا تھا کہ ٹرین میں بطورسازش آگ لگائی گئی تھی مگر 9اکتوبر کو گجرات ہائی کورٹ کے ذریعہ سنائے گئے تاریخی فیصلہ میں صاف طورپر یہ کہا گیا ہے کہ یہ سانحہ نہ تو ’دہشت گردی ‘ تھا اور نہ ہی اسٹیٹ کے خلاف ’جنگ چھیڑنے کا عمل ‘۔ تاہم عدلیہ ابھی تک اس کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے کہ یہ سازش کرنے والے کون تھے اور کیا سانحہ کا کوئی سازشی زاویہ تھا؟عیاں رہے کہ اس سانحہ کے بعد ریاست میں بڑے پیمانے پر بھڑکے تشدد میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوگئے تھے جن سے متعلق مختلف مقدمات عدالت میں ہنوز چل رہے ہیں۔
بہر کیف ہائی کورٹ کا فیصلہ سچائی کی طرف بڑھتا ہوا ایک قدم ہے اور اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ ہمارے ملک کی سیاست میں چاہے جتنی گندگی آگئی ہو اور شر پسند عناصر چاہے ہر معاملے کو فرقہ وارانہ عینک سے دیکھتے ہوں لیکن عدلیہ میں اب بھی شفافیت ہے اور وہاں ہر ایک کو انصاف ملتا ہے اور یہی ہمارے ملک کی شان ہے۔

 

 

 

 

 

 

گودھرا سانحہ سے متعلق بنرجی کمیشن اور ناناوتی کمیشن کی اہم باتیں
٭آگ جان بوجھ کر نہیں ،حادثے کی وجہ سے لگی تھی۔
٭باہری لوگوں نے آگ نہیں لگائی ۔
٭لوگوں کی اموات دم گھٹنے اور زہریلے دھویں کی وجہ سے ہوئی۔
٭ریلوے اسٹیشن پر کوئی بھیڑ نہیں تھی۔وہاں صرف دیکھنے والے لوگ موجود تھے۔
٭یہ دعویٰ غلط تھا کہ کوچ کے سبھی دروازے بند تھے۔
٭کارسیوک آرہے ہیں،اس بات کی کوئی جانکاری نہیں تھی۔
ناناوتی کمیشن
٭یہ منصوبہ بند سازش تھی جسے گودھرا کے ایک مولوی نے انجام دیا تھا۔
٭باہری لوگوں نے آگ لگائی ۔
٭بھیڑ نے زبردستی دروازے کھولے۔جلتی ہوئی چیزیں ایس- 6 کوچ کے اندر پھینکنے کے لئے 140لیٹر پٹرول کا استعمال ہوا تھا۔
٭یہ سب کو پتہ تھا کہ کارسیوک ایودھیا سے لوٹ رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *