عدالت کا فیصلہ کس کے حق میں جائے گا

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار
ہم کئی بار یہ کہاوت سنتے ہیں کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس، لیکن بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ یہ صرف ایک کہاوت نہیں بلکہ انصاف کا دیدار ہے ۔ آج سے تقریباً دو ہزار سال قبل یونان میں تھریسی میکس نے انصاف کی اسی طرح تعریف کی تھی۔ پھر پلوٹو نے انصاف کو اخلاق پر مبنی بتایا۔وقت کے ساتھ ساتھ انصاف کے معنی تبدیل ہوتے گئے۔ آج ہمارے ملک میں انصاف کا مطلب عدالت کا فیصلہ ہے۔یعنی عدالت میں جو فیصلہ ہوا ہے وہی انصاف مان لیا جاتا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ ایک ایسا فیصلہ سنانے جا رہی ہے، جس کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔بابری مسجد کے مقام پر کیا پہلے سے کوئی رام مندر تھا ؟کیا یہ مندر جائے پیدائش ہے ؟ اس مندر اور اس کے آس پاس کی زمین کس کی ہے ؟ کیا یہ وقف بورڈ کو ملے گی یا پھر اسے رام مندر بنانے والوں کے حوالے کر دیا جائے گا؟
ایسے کئی سوال ہیں جو اس فیصلہ کو تاریخی بناتے ہیں۔ عدالت کا یہ فیصلہ اس لئے تاریخی ہوگا ،کیونکہ اس فیصلہ سے یہ طے ہوگا کہ ہندوستان کتنا سیکولر ہے۔ا س سے یہ بھی طے ہوگا کہ ہندو دھرم آج بھی اپنی وراثت پر ٹکا ہے یا نہیں۔اب فیصلہ کا وقت آ گیا ہے ۔ اس لئے دونوں فریقوں میں فیصلہ کے حوالہ سے گھبراہٹ ہے۔مسلم فریق خاموش ہیں، لیکن وشو ہندو پریشد نے گزشتہ ماہ اجودھیا میں تین روز کی میٹنگ کی اور یہ فیصلہ لیا کہ اگر کوئی مسجد بننی بھی ہے تو وہ اجودھیا شہر کے باہر ہی بنے۔وشو ہندو پریشد نے ہندوستان کے لاکھوں مندروں میں 16اگست سے مسلسل 4ماہ تک ہنومت شکتی جاگرن کا پروگرام چلانے کا اعلان کیا ہے۔وشو ہندو پریشد نے اب یہ کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں قانون بنا کر رام جنم بھومی ہندوئوں کو دی جائے تاکہ کروڑوں گھروں میں جس مندر کی تصاویر چسپاں ہیں وہ مندر بنایا جا سکے۔ مطلب یہ کہ وشو ہندو پریشد نے ایک طرح سے یہ طے کر لیا ہے کہ عدالت کا فیصلہ جو بھی ہو وہ اپنی ضدپر اڑے رہیں گے۔اگر عدالت کا فیصلہ ان کی حمایت میں نہیں آتا ہے تو عدالت کے فیصلہ کو نہیں مانیں گے۔ ویسے فیصلہ جو بھی ہو اس کے سیاسی نتائج برآمد ہوں گے۔فیصلہ کی جو صورتحال ہوگی اس سے بہوجن سماج پارٹی ،کانگریس، سماجوادی پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے مستقبل پر اثر ہوگا۔ یہ بھی طے ہے کہ فیصلہ آنے کے بعد آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی اتر پردیش میں جذبات بھڑکا کر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کرے گی۔
اس تنازعہ کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ بلائی، جس میں وزیر خزانہ پرنب مکھر جی ، وزیر دفاع اے کے انٹونی اوروزیر داخلہ پی چدمبرم کے ساتھ ساتھ قومی سیکورٹی مشیر شیو شنکر مینن اور انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر بھی شامل ہوئے۔ ادھر اتر پردیش کی حکومت نے فیصلہ کے بعد ممکنہ تشدد سے نمٹنے کے لئے مرکز سے اضافی سیکورٹی دستوں کا مطالبہ کیا ہے۔ریاستی حکومت نے حساس و زیادہ حساس علاقوں کی پہچان بھی کر لی ہے۔ ایسا اس لئے ہو رہا ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ میں بابری مسجد – رام جنم بھومی کی منتازعہ زمین کے حوالہ سے تمام تر سماعت ختم ہو چکی ہے۔ اب صرف فیصلہ آنا باقی ہے۔ ہمارے ملک میں جس طرح سے عدالتیں کام کرتی ہیں ،اس سے یہی لگتاہے کہ فیصلہ ہو چکا ہے۔ اسے صرف سنانا باقی ہے ۔ فیصلہ سے قبل یہ کوشش بھی ہوئی کہ آخری وقت پر دونوں فریقو ں کے درمیان کوئی صلح ہوجائے، لیکن اس میں کامیابی نہیں ملی۔ اب الہ آبادہائی کورٹ کا فیصلہ ہی حتمی فیصلہ ہوگا۔ حالانکہ یہ بھی طے ہے کہ فیصلہ آتے ہی یہ فیصلہ سپریم کورٹ پہنچ جائے گا۔ اس تنازع میں الہ آباد کے تین ججوں والی بنچ چار ٹائٹل سوٹ پر ایک ساتھ سماعت کر رہی تھی۔ ہائی کورٹ کی اس بنچ میں جسٹس ڈی وی شرما، جسٹس ایس یو خان اور جسٹس سدھیر اگروال ہیں۔ جسٹس ڈی وی شرما یکم اکتوبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں، اس لئے یہ فیصلہ اس سے قبل ہی سنایا جائے گا۔ یہ بنچ گوپال سنگھ وشارد (1950)،نرموہی اکھاڑا (1959)،یو پی سنی سینٹرل وقف بورڈ( 1961)اور ہندوئوں کے گروپ (1989)معاملوں کی سماعت کر رہی تھی۔ ان تمام معاملات کی سماعت 39سال سے فیض آباد کی عدالت میں ہو رہی تھی، لیکن 1989میں اتر پردیش کی حکومت کے مطالبہ پر الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اسپیشل بنچ بنائی، جہاں ان کیسوں کی ازسرنو سماعت شروع ہوئی۔پھر بھی بیس سال کا وقت لگا، کیونکہ کئی بار بنچ کو بدلا گیا۔فیصلہ کیا ہوگا اس حوالہ سے تو فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس تنازعہ میں عدالت کا رول سب سے اہم اور مرکزی ہے۔عدالت کے اس فیصلہ کے سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی نتائج برآمد ہوں گے۔ اس فیصلہ سے جمہوریت اور معاشرتی تانے بانے پر بھی بحث شروع ہوگی ،جو اسے دوسرے ممالک سے الگ اور مضبوط بناتا ہے۔یہ بات بھی سچ ہے کہ آزاد ہندوستان میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازعہ نے پہلی بار اس کے سیکولر کردار کو چیلنج کیا ہے۔آر ایس ایس، بی جے پی، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل جیسی تنظیموں نے ہی اس پورے واقعہ کو انجام دیا، لیکن آج تک اس معاملہ میں کسی بھی بڑے لیڈر یا کارکن کو کوئی سزا نہیں ملی۔ عجیب و غریب بات یہ ہے کہ ہم جب بھی ان تنظیموں یا ان کے نظریات کے حوالہ سے سوچتے ہیں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان کی عدالت ان پر زیادہ ہی مہربان ہے۔ چاہے معاملہ رام جنم بھومی اور بابری مسجد تنازعہ کا ہو ، گئو کشی یا یونیفارم سول کوڈ ،تعلیم کی بھگوا کاری یا پھر مسلم ریزرویشن پر ان تنظیموں کی مخالفت ہو۔عدالت کا فیصلہ ان کی حمایت میں آ جاتا ہے۔ یہ بات ساری دنیا پر عیاں ہے کہ اس تنازع میں لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا نے ملک میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کیا۔ ان کی قیادت میں بابری مسجد کو کارسیوکوں نے شہید کیا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے نہ صرف اڈوانی کو چھوڑ دیا بلکہ ان کے ساتھ کئی لیڈروں کو بھی بری کر دیا۔چھ دسمبر 1992کو جو کار سیوا ہوئی اس کے بارے میں بھی تھوڑا غورجائے تو کارسیوکوں کو وہاں کارسیوا کرنے کی اجازت سپریم کورٹ نے دی تھی۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ یہاں مسجد کو کچھ نہیں ہونا چاہئے اور وہاں بھجن کرتن و سمبیولک کارسیوا کرسکتے ہیں۔ لاکھوں لوگ اجودھیا میں کارسیوا کرنے جمع ہورہے تھے۔ ’ایک دھکا اور دو ‘کا نعرہ لگا رہے تھے۔
انٹیلی جنس رپورٹ تھی، پھر بھی سپریم کورٹ نے سمبولک کارسیوا کرنے کی اجازت دے دی ،جس سے ان کارسیوکوں کو بابری مسجد تک جانے سے کوئی نہیں روک سکا۔ ویسے بھی ایک دن پہلے اٹل بہاری واجپئی نے سپریم کورٹ کے اسی بیان کو اپنے حساب سے سمجھا اور وہاں موجود کارسیوکوں کو سمجھادیا کہ سپریم کورٹ نے کارسیوا کرنے کو کہا ہے۔ بھجن کیرتن کرنے کو کہا ہے، لیکن وہاںپر نوکیلے پتھر ہیں، جب تک انہیں صاف نہیں کیا جائے گا تو لوگ وہاں کیسے بیٹھیں گے۔ واجپئی جی کارسیوکوں کو اشاروں ہی اشاروں میں بتارہے تھے کہ مسجد کے گنبد پرنوکیلے پتھر ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا استعمال آر ایس ایس نے بابری مسجد کو شہید کرانے میں کیا۔
سپریم کورٹ کا ایک اور اہم فیصلہ ہے، جس میں کورٹ نے ہندوتو اور ہندو کی تشریح کی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کورٹ کے ذریعہ تعریف کردہ ہندوتو اور ساورکر کے ہندتو میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ کورٹ نے ہندوتو کے تعلق سے سب سے پہلے1966میں اپنا رخ صاف کیا تھا۔
معاملہ ست سنگیوں سے جڑا تھا۔ کورٹ نے ہندوتو کی سروپلی رادھا کرشنن کے نظریات کے مطابق تعریف کی ۔ کورٹ نے ہندوتو کو زندگی جینے کا ایک طریقہ بتایا۔ ہمارے سامنے دو طرح کے ہندوتو نظریات ہیں۔ ایک سروپلی رادھاکرشنن کے اور دوسرے ساورکر کے۔ دونوں الگ ہیں۔ ایک انکلوزیو ہے اور دوسرا ایکسکلوزیو ہے۔ ایک سماج میں بھائی چارے کا درس دیتا ہے تو دوسرا ہندؤں کو دوسروں کے تئیں نفرت اور تشدد کا درس دیتا ہے۔ یہ حقیقتاً حیرت انگیز معاملہ ہے کہ کس طرح کورٹ کے فیصلے میں دونوں ایک ہوجاتے ہیں۔1996کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ یہ ہندوتو کے نام سے مشہور ہے۔ جسٹس جے ایس ورما نے کہا ’’ہندوتو اور ہندو دونوں ہی ہندوستان کے باشندوں کے طریقۂ زندگی کو ظاہر کرتے ہیں اور ان الفاظ کا مطلب محض ہندو دھرم کی تعمیل کرنے والا ہی نہیں ہے۔‘‘ ایک ہی جھٹکے میں کورٹ نے وہ بات کہہ دی جسے ساورکر اور آر ایس ایس کہتی آئی ہے۔ساورکر نے بھی1923میں یہی کہاتھا کہ ہندوتو دھرم نہیں بلکہ ایک قومی و ثقافتی جذبہ ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے آرایس ایس اور بی جے پی کو ایسا ہتھیار ملا ،جس کی وجہ سے وہ ایک فرقہ وارانہ ذہنیت کو قانونی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوگئے۔1999کے انتخابی منشور میں بی جے پی نے اس فیصلے کا حوالہ دیا۔
گئو کشی کا معاملہ ہو یا پھر یونیفارم سول کوڈ پر کوئی بحث ہو۔ عدالت کی طرف سے ایسے ہی پیغام آتے ہیں جو آر ایس ایس کی مرضی کے مطابق ہیں۔ مسلم ریزرویشن پر بھی کئی ریاستی حکومتوں نے پہل کی، لیکن عدالت میں اسے منسوخ کر دیا جاتاہے۔ تعلیم کی بھگواکاری کا معاملہ جب اٹھا تھا تب بھی 12ستمبر 2002کو سپریم کورٹ نے این سی ای آر ٹی کی نئی کتابوں کو ہری جھنڈی دے کر بی جے پی کو راحت دی تھی۔ یہ تمام مسائل سیاسی و نظریاتی بحث کے مسئلے ہیں۔ ان پر جب عدالت فیصلہ لیتی ہے تو وہ انصاف کی شکل میں ملک میں منظور ہوجاتا ہے۔ ملک میں عجیب و غریب ماحول بن رہا ہے۔ ہر کوئی ہر بات پر عدالت چلا جاتا ہے۔ یہ ملک کی سیاسی پارٹیوں کی خامی ہے۔ سیاسی اور نظریاتی مسائل پر ہمارے لیڈر ہی صاف گو نہیں ہیں۔ ہر مسئلہ پر ووٹ بینک کی سیاست حاوی ہو جاتی ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی میں سچ بولنے کی ہمت نہیں ہے۔ ہر معاملہ عدالت میں چلا جاتا ہے اور جب عدالت کا فیصلہ آتا ہے تو اسے مکمل انصاف ماننے کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔
بابری مسجد- رام جنم بھومی تنازعہ کو شروع ہوئے 60سال ہوگئے۔ ملک کے لوگوں نے اس تنازعہ کی قیمت خون دے کر ادا کی ہے۔ اس وقت معاملہ عدالت کے فیصلے پر مرکوزہے۔ فیصلہ کیا ہوگا یہ معلوم نہیں ہے، لیکن کوئی بھی فیصلہ تاریخ میں دو وجوہات کی بنیاد جانا جاتا ہے۔ ایک معاملے کی اہمیت اور دوسرا جب عدالت کسی فیصلے میں قدیم ترین دلیل، علم اور ذہن کا استعمال کر کے ایسا فیصلہ سنا دے، جس سے سماج کی سمت بدل جائے۔ ملک کی عدالت ایسے ہی موڑ پر کھڑی ہے۔ دونوں مواقع موجود ہیں۔ ایک تو مسئلہ اہم ہے اور دوسرا عدالت کے سامنے بھی یہ موقع ہے کہ وہ اپنے فیصلے سے انصاف کے معنی کو ایک نئی شکل دے ۔ امید یہی کی جانی چاہیے کہ عدالت کا فیصلہ ملک کی جمہوریت اور نظام انصاف کے لیے میل کا پتھر ثابت ہو۔ ڈر اس بات کا ہے کہ ذرا سی چوک انصاف کو واپس تھریسی میکس کے دنوں میں لوٹا دے گی۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *