دہشت گردی کو حمایت اور مدد دینے والے ممالک کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے: مودی

Share Article

 

وزیر اعظم نریندر مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس او سی) کے رکن ممالک نے اعلان کیا کہ وہ اس علاقے اور دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لئے اجتماعی طور پر کارگر کارروائی کریں۔

 

Image result for narendra modi sco summit

مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی حمایت، حوصلہ افزائی اور مالی طور پر مدد دینے والے ممالک کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے اور انہیں ان کے اعمال کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے۔پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی میں مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رہنماؤں کی توجہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی جانب اپنی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں وہ سری لنکا میں سینٹ انٹونی چرچ گئے تھے، جہاں دہشت گردانہ واقعات میں کئی معصوم لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ وہاں انہیں دہشت گردی کا گھناؤنا چہرہ دکھائی دیا جو دنیا میں کہیں بھی اور کبھی بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔پی ایم مودی نے کہا کہ دنیا کی تمام انسانی قوتوں اور اختیارات کو اپنے تنگ دائرے سے باہر آکر دہشت گردی کے خلاف جنگ چھیڑنی چاہئے۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کی انسداد دہشت گردی نظام کو اور مضبوط اور کارگر بنانے کا بھی اعلان کیا۔ مودی نے بھارت کی اس تجویز کو دہرایا کہ دہشت گردی کے خلاف ایک وسیع بین الاقوامی معاہدہ ہونا چاہئے۔نوجوانوں کو مذہبی تعصب سے دور رکھنے کے لئے مودی نے ادب اور ثقافت کی تشہیر پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک میں ایک دوسرے کے ادب کی تشہیر ہونی چاہئے۔وزیر اعظم نے کانفرنس میں ایک نیا فامولہ’ہیلتھ’ پیش کیا۔انگریزی کے اس لفظ کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایچ- (صحت کا خیال صحت)، ای (اکنامک کوآپریشن – اقتصادی تعاون)، اے- (متبادل توانائی )، ایل- (لٹریچر-ادب ثقافت)،ٹی-

 

Image result for narendra modi sco summit

 

(ٹیررزم – دہشت گردی سے نجات)، ایچ- (ہیومینیٹرین کارپوریشن – انسانی مدد اور راحت)۔مودی نے ان تمام نکات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت کس طرح متبادل توانائی پر زور دے کر موسمیاتی تبدیلی کے بحران کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے انسانی مدد اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں ہندوستان کے تجربات کا اشتراک کرنے کی پیشکش کی۔مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم ممالک کے درمیان ہر قسم کے رابطہ کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں جنوب مشرقی رابطہ کوریڈور اور چاہ- بہاربندرگاہ کے باہر کی ترقی جیسے منصوبوں کے ذریعے خصوصی رابطہ کو وسعت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی نقطہ نظررابطہ سہولت بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس علاقے کے لوگوں کے درمیان باہمی میل جول کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے بھارت کی جانب سے سیاحوں کو ای ویزا کی سہولت دیے جانے کا ذکر کیا۔مودی نے وسطی ایشیا کے ممالک کے سیاحوں کی سہولت کے لئے بھارت کی سیاحت کے شعبہ میں روسی زبان کی دو زبانی سہولت قائم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاحت ہیلپ لائن چوبیس گھنٹے کام کرے گی۔ وزیر اعظم نے افغانستان میں امن اور استحکام قائم کرنے کے لئے وہاں کے عوام کی قیادت اور انہی کے کنٹرول والی نظام کو برقراررکھے جانے پر زور دیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *