نئی دہلی، مرکزی حکومت نے رافیل معاملے پر دائر نظر ثانی کی عرضی پر آج اپنا حلف نامہ سپریم کورٹ میں داخل کیا۔ مرکزی حکومت نے اپنے حلف نامے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا 14 دسمبر، 2018 کا فیصلہ درست تھا، جس میں مرکزی حکومت کو کلین چٹ دی گئی تھی۔ اس پر دوبارہ غور نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ چوری کے دستاویزات کو بنیاد بنا کر عرضی دائر کی گئی ہے۔
 
مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ 36 رافیل جیٹ کی خریداری سے متعلق تمام فائل سی اے جی کو بھیجی گئی تھیں۔ سی اے جی نے اپنے آڈٹ میں پایا کہ رافیل جیٹ یو پی اے حکومت کے وقت کی قیمت سے 2.86 فیصد سستے ہیں۔ مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ پرشانت بھوشن کی قیادت میں دائرنظر ثانی عرضیمیں میڈیا رپورٹ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اسعرضی میں اندرونی فائل نوٹنگ کے کچھ منتخب حصوں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ یہ دستاویزاتنظر ثانی عرضی کی بنیاد نہیں ہو سکتے ہیں۔
 
Image result for rafale deal supreme court
مرکزی حکومت نے اپنے حلف نامے میں کہا ہے کہ یہ نامکمل فائل نوٹگنس ہیں جس میںالگ الگ اوقات پر مختلف لوگوں کی رائے ہے۔ یہ فائل نوٹنگ مرکزی حکومت کا آخری فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ ہندوستانی آف سیٹ پارٹنر منتخب کرنے میں نجی ہندوستانی کاروباری گھرانے کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ آف سیٹ کانٹریکٹ کا مطلب 36 رافیل جیٹ کا ہندوستان میںبننا نہیں ہے، چاہے وہ سرکاری شعبہ سے ہو یا نجی شعبے سے۔
30 اپریل کو مرکزی حکومت نے سماعت ٹالنے کی مانگ کی تھی۔ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا تھا کہ عدالت نے نظر ثانی عرضی پر کھلی عدالت میں سماعت کی بات کہی ہے لیکن حکومت کو نوٹس جاری نہیں کیا۔اس لئے جواب داخل نہیں ہو پایا۔ تب چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا کہ ٹھیک ہے، ہم نوٹس جاری کر رہے ہیں۔ آپ چار مئی تک جواب داخل کیجیے۔ اس معاملے پر اگلی سماعت چھ مئی کو ہوگی۔
10 اپریل کو عدالت نے رافیل معاملے پر لیک دستاویزات ثبوت کے طور پر پیش کرنے کے خلاف دائر مرکزی حکومت کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ اب سپریم کورٹ اس معاملے پر تفصیل سے سماعت کرے گا۔
معاملے پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا تھا کہ درخواست گزاروں نے جو دستاویزات لگائے ہیں وہ پرولیجڈ ہیں اور انہیں ہندوستانی ثبوت ایکٹ کی دفعہ 123 کے تحت ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ درخواست گزار پرشانت بھوشن نے کہا تھا کہ حکومت کی فکر قومی سلامتی نہیں ہے بلکہ سرکاری حکام کو بچانے کی ہے، جنہوں نے رافیل ڈیل میں مداخلت کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here